ملک بھر سے

وزیراعظم نے تینوں نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 19 نومبر ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا اور احتجاج کرنے والے کسانوں سے گھر واپس جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین کو ختم کرنے کا آئینی عمل 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں مکمل ہو جائے گا۔
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے گرو نانک جینتی کے موقع پر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ کرتارپور صاحب راہداری ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد اب دوبارہ کھل گئی ہے۔
زراعت کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو حکومت کی اولین ترجیح بتاتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پانچ دہائیوں کی اپنی عوامی زندگی میں ،میں نے کسانوں کے چیلنجوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اس لیے جب مجھے 2014ء میںوزیر اعظم کے طور پر ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملاتو ہم نے زرعی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی ہے۔
قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود بالخصوص چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود، گاؤں کے غریبوں کے روشن مستقبل کے لیے نیک نیتی سے یہ قانون بنایا ۔ لیکن ہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس قدرپاکیزہ، مکمل طور پرخالص اور مفید چیز کی وضاحت نہ کر سکے۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ ملک کے کونے کونے میں بہت سے کسانوں اور کئی کسان تنظیموں نے ان قوانین کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ میں آج ان سب کا بہت مشکور ہوں۔
انہوں نے مزید کہا’سالوں سے یہ مطالبہ ملک کے کسانوں، زرعی ماہرین، کسانوں کی تنظیموں کی طرف سے مسلسل کیا جا رہا تھا۔ اس سے قبل بھی کئی حکومتوں نے اس بارے میںغوروفکر کیا۔ اس بار بھی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی اور یہ قوانین لائے گئے۔ زرعی ماہرین اقتصادیات، سائنسدانوں، ترقی پسند کسانوں نے بھی کسانوں کو زرعی قوانین کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن کوشش کے باوجود ہم انہیں اتنا پاکیزہ، بالکل خالص اور کسانوں کے مفاد کا معاملہ نہیں سمجھا سکے۔
قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کسانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے عظیم الشان مہم میں تین زرعی قوانین لائے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ ملک کے کسانوں خصوصاً چھوٹے کسانوں کو زیادہ طاقت ملنی چاہیے۔ انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت اور پیداوار فروخت کرنے کے زیادہ سے زیادہ اختیارات ملنے چاہئے۔ برسوں سے یہ مطالبہ ملک کے کسانوں، زرعی ماہرین اور کسانوں کی تنظیموں کی طرف سے مسلسل کیا جا رہا تھا۔
ملک میں زراعت کو مضبوط بنانے اور چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے چھوٹے کسانوں کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ہماری حکومت نے بیج، انشورنس، مارکیٹ اور بچت پر ہمہ جہت کام کیا ہے۔ اچھے معیار کے بیجوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے کسانوں کو نیم کوٹیڈیوریا، سوئل ہیلتھ کارڈ، مائیکرو اریگیشن جیسی سہولیات سے بھی جوڑا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper