دنیا بھر سے

کرونا کی نمودار ہونے والی نئی قسم کے لئے کون سی ویکسین مؤثر ہوسکتی ہے ؟

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

نیویارک ،29نومبر- جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ ’اومکرون‘ کو پہلے سامنے آنے والی اقسام کے مقابلے میں قدرے مہلک قرار دیا جا رہا ہے اور دنیا کے متعدد ممالک میں اس ویریئنٹ سے بچاؤ کے لیے جنوبی افریقہ سمیت کئی افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔موجودہ صورت حال میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا کرونا وبا کے لیے پہلے سے دستیاب ویکسینز اس نئے ویریئنٹ سے بھی محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گی یا نہیں۔کرونا ویکسین بنانے والی کمپنی بائیو این ٹیک کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں تشخیص کیے جانے والے کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ سے متعلق اگلے دو ہفتوں میں مزید معلومات متوقع ہیں۔ اس کے بعد یہ پتا لگایا جا سکے گا کہ فائزر کے ساتھ مل کر بنائی گئی کرونا ویکسین پر پھر دوبارہ سے کام کرنا پڑے گا یا نہیں۔فائزر اور بائیو این ٹیک کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ لگ بھگ سو دنوں کے دوران نئے ویریئنٹ سے نمٹنے کے لیے ویکسین تیار کر سکیں گے۔
بائیو این ٹیک کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ وہ ماہرین کے خدشات سے آگاہ ہیں اور اس نے فوری طور پر نئے ویریئنٹ پر تحقیق شروع کر دی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں انہیں مزید ڈیٹا موصول ہو جائے گا جس سے معلوم ہو گاکہ آیا ان کی ویکسین مذکورہ ویریئنٹ کے خلاف بھی مفید ہے کہ نہیں۔
موڈرنا:کرونا ویکسین بنانے والی ایک اور کمپنی ‘موڈرنا’ کا بھی کہنا ہے کہ وہ نئے ویریئنٹ پر کام کر رہی ہے۔موڈرنا کی جانب سے قرار دیا گیا ہے کہ اس وقت قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے بوسٹر شاٹ ہی حل ہے۔ایسٹرا زینیکا:کرونا ویکسین بنانے والی کمپنی آیسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے ویریئنٹ کے اثرات کا معائنہ کر رہی ہے اور پر امید ہے کہ اس کی تیار کردہ ویکسین اس ویریئنٹ کے خلاف بھی کار آمد ہو گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا نیا ویریئنٹ سامنے آنے پر وہ تحقیق کر رہے ہیں تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین اس ویریئنٹ کے خلاف بھی مفید ہے یا نہیں۔ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں وہ بوسٹوانا اور اسواتینی میں تحقیق کر رہے ہیں جس سے کمپنی کو حقیقی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔کمپنی نے زور دیا کہ ان کی ویکسین نے ثابت کیا ہے کہ وہ کرونا کے تمام ویریئنٹس کے خلاف کار آمد ہو گی۔
نوواویکس:دوسری طرف نوواویکس کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے ویریئنٹ پر کام شروع کر دیا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں ویکسین ٹیسٹ اور مینوفیکچرنگ کے لیے تیار ہو گی۔خیال رہے کہ نوواویکس کی تیار کردہ ویکسین میں کرونا وائرس اصل حالت میں موجود ہے جو کہ بیماری کا باعث بننے کے بجائے قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے ویریئنٹ سے متعلقہ پروٹین پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے جس پر کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ نے والے کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ ’اومکرون‘ کو پہلے سامنے آنے والی اقسام کے مقابلے میں قدرے مہلک قرار دیا جا رہا ہے اور دنیا کے متعدد ممالک میں اس ویریئنٹ سے بچاؤ کے لیے جنوبی افریقہ سمیت کئی افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔موجودہ صورت حال میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا کرونا وبا کے لیے پہلے سے دستیاب ویکسینز اس نئے ویریئنٹ سے بھی محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گی یا نہیں۔کرونا ویکسین بنانے والی کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں تشخیص کیے جانے والے کرونا وائرس کے نئے ویرینٹ سے متعلق اگلے دو ہفتوں میں مزید معلومات متوقع ہیں۔اس کے بعد یہ پتا لگایا جا سکے گا کہ فائزر کے ساتھ مل کر بنائی گئی کرونا ویکسین پر پھر دوبارہ سے کام کرنا پڑے گا یا نہیں۔فائزر اور بائیو این ٹیک کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ لگ بھگ سو دنوں کے دوران نئے ویریئنٹ سے نمٹنے کے لیے ویکسین تیار کر سکیں گے۔بائیو این ٹیک کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ وہ ماہرین کے خدشات سے آگاہ ہیں اور اس نے فوری طور پر نئے ویریئنٹ پر تحقیق شروع کر دی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں انہیں مزید ڈیٹا موصول ہو جائے گا جس سے معلوم ہو گا کہ آیا ان کی ویکسین مذکورہ ویریئنٹ کے خلاف بھی مفید ہے کہ نہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper