ریاست

کسانوں کے احتجاج سے کاروباری دنیا کو 60 ہزار کروڑ کا نقصان: کیٹ

Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 30 نومبر۔ تین زرعی قوانین کی مخالفت کے نام پر ایک سال قبل شروع کی گئی کسانوں کی تحریک کی وجہ سے ملک کی کاروباری دنیا کو 60 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (CAIT-CAT) کا دعویٰ ہے کہ کسانوں نے جس طرح سے راجدھانی دہلی کے شاہراہوں کو بند کرکے محاصرہ کیا اس کی وجہ سے تاجروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک کے ابتدائی دنوں میں ملک بھر میں سامان کی فراہمی کا نظام بھی کافی حد تک درہم برہم ہو گیا تھا۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ نقصان کا یہ اندازہ CAT کے ریسرچ ونگ نے مختلف ریاستوں سے اکٹھے کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا ہے۔تنظیم کے قومی صدر بی سی بھارتیہ کا دعویٰ ہے کہ کاروباری دنیا کو یہ نقصان بنیادی طور پر رواں ماہ کے دوران ہوا ہے۔ گزشتہ سال نومبر، دسمبر اور اس سال جنوری، ان تین مہینوں کے دوران کسانوں کی طرف سے شاہراہ بند کرنے کی وجہ سے سامان کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی۔
بعد میں کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز اور آل انڈیا ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن (اٹوا) کی مشترکہ کوششوں سے فروری کے مہینے سے سامان کی نقل و حرکت میں تیزی آئی۔ لیکن شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے سامان کی نقل و حرکت اب بھی آسانی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا کو پہلے تین ماہ میں ہی کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ بعد ازاں، ملک کی ضرورت کے پیش نظر، کسانوں کی جانب سے شاہراہوں کی بندش کے باوجود، ملک بھر میں سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے CAT اور ATWA کی جانب سے سامان کی نقل و حمل کے لیے متبادل راستے اختیار کیے گئے۔
CAT چیئرمین مسٹر بھارتیہ کا کہنا ہے کہ پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش سے دہلی کو گزشتہ سال نومبر، دسمبر اور اس سال جنوری میں سپلائی کافی متاثر ہوئی ہے۔ مہاراشٹر، گجرات اور مدھیہ پردیش سے سامان کی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی کیونکہ کسانوں نے دہلی جانے والی شاہراہوں کو بند کر دیا۔ ان ریاستوں سے آنے والی اہم اشیاء میں غذائی اجناس، ایف ایم سی جی مصنوعات، برقی اشیاء، ہارڈ ویئر، اشیائے صرف، الیکٹرانکس اشیاء ، آٹو اسپیئر پارٹس، مشینری، سینیٹری ویئر اور سینیٹری فٹنگ شامل ہیں، جن کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ۔
مسٹر بھارتیہ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تین زرعی بلوں کو واپس لینے کے بعد کسانوں کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ خاص طور پر کسانوں کا ایک کے بعد دوسرا مطالبہ رکھنا سراسر غلط ہے۔ کیونکہ اگر مطالبات اسی طرح مانے جاتے رہے تو اس سے ملک کو یہی پیغام جائے گا کہ موب لنچنگ کے خوف سے جمہوریت سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ جوبھی سیاسی جماعتیں ایسے اضافی مطالبات کی حمایت کر رہی ہیں انہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کے تمام عوام ان کی حرکتوں کو دیکھ رہے ہیں اور انہیں مستقبل قریب میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

About the author

Taasir Newspaper