دنیا بھر سے

یورپ کے کئی ممالک میں کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

برلن ،۲۵؍نومبر-یورپ میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر سے صورتحال بگڑنے لگی ،سردی میں اضافے کیساتھ ہی یورپ کے کئی ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور کورونا متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے یورپ میں کورونا وائرس کی نئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں مارچ تک کم ازم کم مزید 5لاکھ افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر جان کلیوگ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی فوری ایکشن نہیں لیا گیا تو یورپ میں کورونا وائرس کی نئی لہر سے مارچ تک مزید پانچ لاکھ افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے جس کی وجہ ویکسین کی قلت، سردیوں کی آمد اور علاقائی سطح پر میل جول سے ڈیلٹا ویرینٹ کا مزید پھیلاو ہیں۔نئی پابندیوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہونے لگے ہیں جبکہ کئی ممالک میں کورونا پابندیوں کے خلا ف احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ ، جرمنی میں کرسمس پر مارکیٹیں بند رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔جرمن وزیر صحت ہانس اسپان نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ رواں سال دسمبر تک جرمنی میں ہر شخص کو ویکسین لگ چکی ہوگی، اس کا علاج ہو چکا ہوگا یا پھر وہ ابدی نیند سو چکا ہوگا، انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد کورونا کی ویکسین لگوائیں، جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کو روکنے کیلئے عائد موجودہ پابندیاں ناکافی ہیں، موجودہ پابندیوں کے تحت کورونا ویکسین نہ لگوانے عوامی مقامات کا رخ نہیں کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ صورتحال نے ڈرامائی موڑ اختیار کرلیا ہے، ہر 12روز بعد کورونا کے نئے کیسز میں دوگنا اضافہ ہورہا ہے ، خطے میں متاثرہ ملک جرمنی نے نئے شٹ ڈاون کا بھی اعلان کیا ہے جن میں کرسمس کے موقع پر مارکیٹیں کرنا بھی شامل ہے، ادھر کورونا کی موجودہ لہر کے دوران آسٹریا میں یومیہ ہلاکتوں کی تعداد حالیہ ہفتوں میں تین گنا ہو چکی ہے۔دوسری جانب آسٹریا میں کورونا وائرس میں مسلسل اضافے کے بعد ملکی میں جزوی لاک ڈائون لگادیا گیا ہے، بلجیم اور نیدر لینڈ میں کورونا وائرس کی پابندیوں کیخلاف پرتشدد مظاہروں کے بعد اس کی شدید مذمت کی جارہی ہے ،ڈچ وزیراعظم مارک رْتے نے ملک میں گزشتہ تین روز سے جاری احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین کو بیوقوف قرار دیا جبکہ بلجیم کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے برسلز میں کورونا پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔نیوزی لینڈ میں 205نئے کیس سامنے آگئے ہیں،جس کے بعد کیسوں کل تعداد 7ہزار54 ہو گئی۔ نیوزی لینڈ وزارت صحت کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ سے 175 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی لہر سے صورت حال سنگین ہوتی جارہی ہے اور دنیا ایک اور لاک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران روزانہ کیسوں کی رفتار انتہائی تیز ہوگئی ہے۔ 7روز کے دوران کورونا کیسوںکی اوسط 17 ہزار 153 تک پہنچ گئی جو پچھلے ہفتے صرف 8 ہزار 458 تھی۔ ملائیشیا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 4ہزار854 نئے کیس رپوٹ ہوئے ہیں، جب کہ مزید 24 مریضوں کی موت کے ساتھ اس جان لیوا وبا سے مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper