دنیا بھر سے

خوفزدہ افغان اساتذہ آج بھی طالبان سے چھتے پھر رہے ہیں

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

کابل،15جنوری – افغانستان کے صوبہ ہلمند میں برطانوی اقدار کو پھیلانے اور انگریزی سیکھانے کے لیے جن افغانوں کو نوکریاں دی گئی تھیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اب بھی طالبان سے چھپتے ہیں اور ‘جوابی کارروائیوں سے خوفزدہ‘ ہیں۔برٹش کونسل کا تقریباً 100 اراکین پر مشتمل سابق عملہ اب بھی افغانستان میں موجود ہے جنھیں اب تک برطانیہ آنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ان میں سے ایک نے بتایا کہ ‘ہم سب گھروں میں ایسے بیٹھے ہیں جیسے جیل میں ہوں۔‘ ایک اور سابق اہلکار نے کہا کہ اب ان کے پاس پیسے ختم ہو رہے ہیں۔برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایک نئی سکیم متعارف کروائی جائے گی جس کے تحت مزید ہزاروں افراد برطانیہ آئیں گے۔ ان اساتذہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کی بحالی کی اس نئی سکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
لیکن گذشتہ سال اگست میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے بہت سے لوگ چھپے ہوئے ہیں۔برٹش کونسل، برطانیہ کا ایک سرکاری ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ثقافتی اور تعلیمی روابط کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اب انھیں جس خطرے کا سامنا ہے وہ ‘شدید طور پر واضح‘ ہے۔برٹش کونسل کے چیف ایگزیکٹیو سکاٹ میکڈونلڈ نے کہا ‘ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سابق ساتھی تیزی سے بگڑتے مایوس کن حالات میں رہ رہے ہیں کیونکہ ملک میں حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔‘انھوں نے ان اساتذہ کو ‘افغانستان میں برطانیہ کا چہرہ‘ قرار دیا۔رحیم اللہ (فرضی نام) نے ‘انتہائی خطرناک‘ حالات میں برٹش کونسل کے لیے کام کرتے ہوئے دو سال ہلمند میں گزارے، جہاں برطانوی فوجی سنہ 2014 تک مقیم تھے۔ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک، مقامی مخالفت کے باوجود سکول کے اساتذہ کو ‘مساوات، تنوع اور شمولیت‘ سکھانا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے پڑھے لکھے مرد اساتذہ نے بھی صنفی مساوات کو مسترد کر دیا تھا۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہمیں یہ کرنا تھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو ہماری افغان برادری میں قبول کیا جانا چاہیے لیکن انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک ایسا کام کر رہا ہوں جو مکمل طور پر اسلامی اقدار کے خلاف ہے۔‘رحیم اللہ چھپے ہوئے ہیں۔ وہ نوکری نہیں کر سکتے اور اپنے خاندان سے مل نہیں سکتے اور انھیں یقین ہے کہ اگر طالبان نے انھیں ڈھونڈ لیا تو انھیں مار دیا جائے گا۔
وہ کہتے ہیں ‘میرے ایک رشتہ دار نے فیس بک پر طالبان کے خلاف پوسٹ کیا کہ وہ اساتذہ کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے۔ اگلے دن، طالبان کے انٹیلیجنس والوں نے اسے اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا اور پھر اس کی لاش دریائے ہلمند میں پھینک دی۔ صرف ایک فیس بک پوسٹ کے لیے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے۔‘ایک اور سابق استاد نے بی بی سی کو بتایا ‘ہم بہت افسردہ ہیں۔‘ ان کی ایک نوجوان بیٹی ہے جو بار بار ان سے گھر سے باہر جانے کی اجازت مانگتی ہے۔مگر وہ کہتی ہیں ‘ہم چھپے ہوئے ہیں اور ہم باہر نہیں جا سکتے، ہمیں اپنے گھر کے اندر رہنا ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ طالبان تلاشی کے لیے آ رہے ہیں تو ہم جگہ جگہ بھاگتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper