ریاست

نالندہ میں مشتبہ حالت میں چھ افراد کی موت، تفتیش میں مصروف پولیس

Written by Taasir Newspaper

بہار شریف، 15 جنوری۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے شراب بندی کولیکر مہم چلائی جا رہی ہے، وہیں بہار میں شراب نوشی سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے آبائی ضلع نالندہ میں جمعہ کی صبح مشتبہ حالت میں چھ لوگوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔مہلوکین کے لواحقین نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام کی موت زہریلی شراب پینے سے ہوئی۔ یہ پورا معاملہ نالندہ ضلع کے سوہ سرائے تھانہ علاقے کے چھوٹی پہاڑی اور پہاڑ ٹلی محلہ کا ہے۔جبکہ دو لوگوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ دونوں کا پرائیویٹ کلینک میں علاج جاری ہے۔لواحقین نے بتایا کہ شراب پینے کے بعد سب کی طبیعت خراب ہونے لگی اور پھر موت ہوگئی۔ پولیس انتظامیہ معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ ایس ایچ او سریش پرساد کے بعد صدر ڈی ایس پی ڈاکٹر شبلی نعمانی موقع پر پہنچے اور اہل خانہ سے معلومات لیں۔
مقامی لوگوں نے آس پاس کے علاقوں میں شراب بنانے کی بات کہی ہے۔مرنے والوں میں 55 سالہ بھاگو مستری، 55 سالہ منا مستری، 50 سالہ دھرمیندر عرف ناگیشور اور 50 سالہ کالی چرن شامل ہیں۔
مان پور تھانہ علاقہ کے پربھو ویگھا گاؤں کے رام روپ چوہان اور شیو جی چوہان کی بھی موت ہو گئی ہے۔ دونوں کی عمر 45 سال سے اوپر ہیں۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 2021 کے اکتوبر-نومبر کے مہینے میں گوپال گنج،بتیا اور سمستی پور میں زہریلی شراب کی وجہ سے 50 سے زیادہ لوگوں کی موت کے بعد 568 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سال 2016 سے اب تک صرف گوپال گنج میں زہریلی شراب سے 36 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس میں اس سال کی 17 اموات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل 2016 میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد کی موت ہوئی تھی۔ یہ واقعہ 15-16 اگست 2016 کو کھجوربنی میں پیش آیا۔ عدالت میں اس کی تصدیق ہوگئی۔ اس معاملے میں 5 مارچ 2021 کو خصوصی عدالت نے 13 لوگوں کو سزا بھی سنائی تھی۔ پہلی بار شراب معاملے میں 9 کو پھانسی دی گئی جب کہ 4 کو عمر قید کی سزا ہوئی، 2021 میں زہریلی شراب پینے سے 90 افراد کی موت ہوئی۔چند روز قبل سپریم کورٹ نے امتناع قانون کی وجہ سے معاملے کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے بہار میں شراب کی اسمگلنگ سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے بہار حکومت کو سخت سرزنش کی اور کہا کہ ان معاملات نے عدالتوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔پٹنہ ہائی کورٹ کے 14 سے 15 جج صرف ان کی سماعت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کوئی دوسرے کیس پر سماعت نہیں ہو پا رہی ہے ۔ دراصل بہار حکومت شراب کے معاملے میں بہار پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں کی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ گئی، لیکن پٹنہ ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔

About the author

Taasir Newspaper