فن فنکار

نوواک جوکووچ کا کورونا کے دوران صحافی سے ملاقات کا اعتراف

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

کینبرا،12جنوری۔ٹینس کے عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ نے کورونا وائرس کے دوران صحافی سے ملاقات کا اعتراف کرلیا۔سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام پر نوواک جوکووچ نے ایک طویل پیغام جاری کیا جس میں اْنہوں نے 16 دسمبر کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے دو دن بعد ایک صحافی سے انٹرویو کے لیے ملاقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی غلطی قبول کرتا ہوں، مجھے دوبارہ شیڈول کرنا چاہیے تھا۔‘نوواک جوکووچ نے کہا کہ ’میں نے آگے بڑھ کر انٹرویو دینا پابند محسوس کیا کیونکہ میں صحافی کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس بات کو یقینی بنایا کہ میں سماجی طور پر دوری رکھتا ہوں اور ماسک پہنتا ہوں سوائے اس کے کہ جب میری تصویر لی جا رہی ہو۔‘انہوں نے کہا کہ ’16 دسمبر کو ان کے کورونا مثبت ٹیسٹ کے بعد عوام کے سامنے آنے کے بارے میں دیگر اطلاعات غلط معلومات تھیں۔‘اس دوران نوواک جوکووچ نے آسٹریلیا میں داخل ہونے سے قبل اپنے سفری فارم پر غلط اعلان کرنے کا اعتراف بھی کیا۔اْنہوں نے کہا کہ ’اْن کے ایجنٹ نے فارم کے ایک حصے کو بھرتے وقت غلطی کی تھی جس میں اس کی حالیہ سفری تاریخ کا احاطہ کیا گیا تھا۔‘فارم میں کہا گیا ہے کہ اْنہوں نے آسٹریلیا پہنچنے سے پہلے 14 دنوں میں سفر نہیں کیا تھا لیکن حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ 34 سالہ نوواک جوکووچ نے اس سے قبل سربیا اور پھر اسپین کا سفر کیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ ’میرا ایجنٹ غلط باکس پر ٹک کرنے میں انتظامی غلطی کے لیے مخلصانہ طور پر معذرت خواہ ہے، یہ ایک انسانی غلطی تھی اور یقینی طور پر جان بوجھ کر نہیں کی گئی تھی۔‘نوواک جوکووچ نے مزید کہا کہ ’میری ٹیم نے اس معاملے کی وضاحت کے لیے آسٹریلوی حکومت کو اضافی معلومات فراہم کی ہیں۔‘خیال رہے کہ آسٹریلیا نے حال ہی میں کورونا وائرس کے سخت قوانین کو پورا نہ کرنے پر عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کا ویزا منسوخ کرکے انہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ بدھ کو سال کے پہلے گرینڈ سلم ٹینس ٹورنامنٹ آسٹریلین اوپن میں شرکت کیلئے میلبورن پہنچے تو ائیرپورٹ حکام نے ویکسین سے استثنیٰ اور غلط ویزے کی بنیاد پر داخلے سے روکا تھا۔
نوواک جوکووچ کا ویزا منسوخ کرکے انہیں سرکاری حراستی ہوٹل میں حراست میں رکھا گیا تھا، اس اقدام کے خلاف جوکووچ کے وکلا نے عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper