فن فنکار

کمار سانو کی بیٹی کو مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا

Written by Taasir Newspaper

ممبئی،۱۵؍جنوری- معروف بھارتی گلوکار کمار سانو کی بیٹی کو مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکار کمار سانو کی بیٹی و گلوکارہ نے اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنے کے بارے میں بات کی کہ کس طرح انہیں امریکا اور برطانیہ میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انہوں نے اپنی پرورش کے ابتدائی سال گزارے۔ کمار سانو کی بیٹی نے کہا کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ لندن شفٹ ہوگئی تھیں اور وہیں سے انہوں نے موسیقی کی تربیت لی۔اْنہوں نے کہا کہ ’مجھے حقیقی زندگی میں بہت زیادہ ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میں موسیقی کے آڈیشن کے لیے گئی تو مجھے کم تر محسوس کیا گیا کیونکہ میں اردگرد کے اکثر لوگوں سے مختلف تھی۔‘
گلوکار کی بیٹی نے کہا کہ ’میں بہت چھوٹی تھی، میں روتی ہوئی گھر واپس آتی اور ان واقعات کی وجہ سے اکثر میرا اعتماد ٹوٹ جاتا تھا، مجھے صرف ایک فنکار کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی خود کو ثابت کرنا تھا۔‘نوجوان گلوکارہ نے مزید کہا کہ ’میں نے اب اس سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، میری خواہش ہے کہ کسی دن اس کے بارے میں ایک گانا بناؤں اور دنیا کے کونے کونے میں بھارتی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد کروں۔‘ سال 2018ء میں ایک انٹرویو کے دوران کمار سانو نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اْنہوں نے شینن کو گود لیا ہے اور اْنہیں اپنی بیٹی پر بہت فخر ہے۔‘انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’وہ بہت محنتی ہے اور اپنی زندگی میں پہلے ہی بہت کچھ حاصل کر چکی ہے، ہالی ووڈ میں بہت سے لوگ مجھے ان کی وجہ سے جانتے ہیں اور یہ ہمارے خاندان کے لیے فخر کی بات ہے۔‘

About the author

Taasir Newspaper