ریاست

کمال خان کیمرہ مین کے ساتھ لکھنؤ سے۔۔۔۔۔ہمیں سو گیے داستاں کہتے کہتے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کا دل سے خراج اور ڈاکٹر ایم اے فردین کا خراج عقیدت‎‎

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

حیدرآباد، 15 جنوری (ہ س)اب وہ آواز سننے کو ترسیں گی جسے ہم کل تک سنتے تھے کمال خان لکھنؤ تndtv کےلیے کیمرہ مین کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ کیمرہ مین اور ہم سب کو چھوڑ گیے اور پھر اب کمال خان کہاں سے ڈھونڈ لاءیں گے
ابھی بہت تھوڑے عرصے ہی گذرے تھے ونوددوا جی کے گیے، سینیر صحافی الیکٹرانک دنیا اور خبروں کی دنیا میں ایک قابلِ احترام شخصیت کے مالک، جنہوں نے اپنی زندگی کے باصول کردار کے ساتھ صحافت کی دنیا میں جو نقوش چھوڑ گیے اور چوتھے ستون کا ایک ایسا مضبوط پیلر کمال خان جس پر ناز تھا پورے ہندوستان کو، آج محبت حقیقی سے جا ملے، ہندوستان بھر میں کمال خان کے قدرداں تھے، چند ہی تو بڑے نیوز چینل کے باوقار شخصیت رہ گیے تھے اور ان میں سے آج ہمارے درمیان سے اپنی آخری سانس کی خبر بغیر کوریج کیے آخری سانس تک باخبر رکھنے والا شخص اب آخری سفر پر جا چکے تھے اور پوری دنیا کو غمزدہ کرگیےاور آج یہ خبر کہ
خبروں کی دنیا کے لیے افسوس ناک خبرسے کم نہ تھی، مجھے اس لیے بھی یقین نہیں ہورہے ہے کہ
کل ہی کمال خان کو دیکھ رہا اور سن رہا تھا این ڈی ٹی وی پر اکسپرٹس اور سینر ساتھی نغمہ کے ساتھ، کمال خان کا تجزیہ سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ ہمارے لیے بہت قابلِ ذکر اور قدر تھے انہیں ونوددوا جی اور روش کمار، میری اسٹوری کیلیے اکثر ان کے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آیا اور آج ہم سب کے درمیان سے الوداع کہہ گیے،ملک کا اور NDTV کا بڑا نقصان، کمال خان نہیں رہے، دل کا دورہ پڑنے سے ہوا انتقال، بہت سچ اور آءینہ دیکھانے والا
شخص جا چکا ہے،خبروں کی دنیا سے، یقین ہی نہیں ہو رہا ہے، کل ہی انہیںndtv پر سینر نیوز اینکر نغمہ جی کے ساتھ اکسپرٹس کی ٹیم میں شامل تھے اور کمال خان جو کہتے تھے وہ بالکل سچ اور اس سے اتفاق کرتے تھے انکے خدمات پر ملک و قوم کو ناز تھا اور سبھی کمال خان کو بہت عزت و احترام سے پیش آتے، سیاستدانوں کی بڑی خواہش ہوتی کے کمال خان صاحب کواپنا انٹرویو دوں ان سے گفتگو کرؤں، کہاں لیڈران نیوز اینکرز کو دیکھ کر بھاگتے یا پھر کسی بہانے کی تلاش کرتے، مگر کمال خان صاحب جہاں ہوتے انکے خدمات حاصل کرنا چاہتے تھے سیاستدان اسلیے کے خبروں کی دنیا میں کمال خان صاحب کا حسن و سلوک اور انکے سوالات سے خوش ہو کر جواب دینا پسند کرتے تھے اور سبھی سیاسدانوں کو یہ احساس تھا کہ
گ کمال خان ملک کا صحافی اور باضمیر صحافی ہےاس نے ملک کیلیے بہت ذمدارای کیساتھ مساءیل پر گفتگو کی اور ملک و قوم کے مساءیل کو حل کرانے میں اہم رول ادا کیے انکے نزدیک عوامی مساءیل کی جانب توجہ ہی تھا اور جواب بھی اسقدر سادگی اور احترام سے پوچھا کرتے تھے کہ اپوزیشن یا حکمران جماعت کبھی بھی نہیں الجھتے بلکہ ان سے احترام سے پیش آتے اور انکی خبر سے پوری دنیا اطمینان رکھتے اور مساءیل حل کی جانب بڑھ جاتا،
سیاستدان تو کمال خان صاحب سے ملکر خوش ہوتے اور مشورہ تک لیتے ہوئے دیکھے گیے اور آج ہمارے درمیان سے اب وہ شخص کمال خان کا اسطرح سے الوداع کہہ جانا خبروں کی دنیا کا بڑا نقصان ہے، اور یہ نقصان کا پر ناممکن ہے،ndtv کے کمال خان جیسا سینر باوقار، باکردار نیوز اینکر اب کہاں، مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں ایسے لوگ جس پر دنیا کی آنکھیں نم ہو جائے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
ڈاکٹر مختار احمد فردین نے خصوصی پیام تعزیت میں کہا کہ الیکٹرانک دنیاءے صحافت کے لیے آج کا دن بڑی افسوس ناک خبر کی شروعات سے ہوا ہے، اور خاصکر مجھے ایسے شخص پر رونا آیا ہےاور اپنی نم آنکھوں سے انہیں اپنے بہترین صحافی دوست کمال خان صاحب کو الوداع کہتے ہوے اتنا زیادہ غمگین ہوگیا ہوں کے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کمال اللہ سبحانہ وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین اور اہل خاندان کو صبر و جمیل عطا فرمائے آمین
آل انڈیا اردو ماس کمیونیکیشنل سوسائٹی فار پیس کی جانب سے انکے خدمات کو سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، شریک غم دنیاءے صحافت کے لیے، ڈاکٹر مختار احمد فردین، کے رول ماڈل تھے ونوددوا جی اور کمال خان صاحب مرحوم، کیا پتہ کل کو ڈاکٹر مختار احمد فردین اور رویش کمار جی رہے نہ رہے، مگر انکی یادوں کے چراغوں کو ہم ضرور جلاءے رکھیں گے، آج کی نسل نو کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے اب آنیوالے دنوں میں نسل نو کی ذمدارای ہے کہ کمال خان صاحب مرحوم کے خوابوں کے ہندوستان کسطرح سے محبت کے دھاگے میں پیرویں گے اور اب حقیقت میں انکے خوابوں کو سجا کر ڈھالیں گے افسانوں میں، اور اسطرح سے اب پھر کوئی کمال خان پیدا نہیں ہوگا وہ ایک مکمل یونیورسٹی تھے خبروں کی دنیا کے لیے، جو آوازیں گونجتی تھی کانوں میں خبروں کے پراءیم ٹاءیم رویش کمار اورndtv کا بڑا نقصان، اس آفس کے درودیوار بھی آج زاروقطار، پرسکون ماحول، جو آواز اور جسکا انتظار اب صرف انتظار کرے گی دنیا، جسے لاکھوں کروڑوں کمال خان کے چاہنے والے سنا کرتے تھے لکھنؤ سے کمال خان کی رپورٹکمال خان کے جانے سے جیسے ہم نے خبروں کی دنیا کا ایک عظیم ہستی کا کھونے سےکم نہیں، ڈاکٹر مختار احمد فردین کا بڑا نقصان۔۔۔۔۔ اللہ مغفرت فرمائے آمین
اور اب زمانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گیے داستاں کہتے کہتے

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper