فن فنکار

کیفی اعظمی کی سالگرہ پر آئیڈیا کا خراج عقیدت پیش،ورسوا قبرستان میں قبر کا کتبہ دوبارہ لگانے کا مطالبہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

ممبئی،14 جنوری – مشہور و معروف شاعر کیفی اعظمی کی 103 ویں سالگرہ پر آج یہاں آئیڈیا نامی ڈراما گرو پ نے بھر پور خراج عقیدت پیش کیا جبکہ کیفی اعظمی کے چاہنے والوں نے مطا لبہ کیا کہ شمال مغربی ممبئی کے اندھیری چار بنگلہ قبرستان میں واقع اُن کی قبر کا کتبہ دوبارہ لگایا جا ئے۔اردو کارواں کے روح رواں فرید خان نے کیفی اعظمی ایک انقلابی شاعر تھے ،جو نوجوانوں میں جوش ورولولہ پیدا کرتے رہے۔اس موقع پر آئیڈیا کے سربراہ مجیب خان نے کہاکہ ایک ویڈیو کے ذریعہ ہم نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔واضح رہے کہ کیفی اعظمی کا نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں ہوئی تھی۔ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں شاعری شروع کر چکے تھے۔کیفی کی ابتدائی تعلیم روایتی اردو، عربی اور فارسی پر محیط تھی۔کیفی اعظمی کا اترپردیش کے ضلع اور شہربہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔کیفی کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں رہتے تھے،اور اس طرح کیفی کے بچپن کے کئی سال بہرائچ کی سرزمین پر گزرے ہیں۔ اور بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملاقات کرتے تھےاور شفیع بہرائچی کی دکان پر ادبی محفل کا حصہ بنتے تھے۔ جہاں بہرائچ کے مشہور شاعر وصفی بہرائچی ،جمال بابا،شوق بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،عبرت بہرائچی ،اظہار وارثی وغیرہ شرکت کرتے تھے۔غالبا1943ء میں کیفی بمبئی اپنے ایک دوست کی دعوت پر آئے تھے۔ یہاں انہیں قریب دس سال کی جدوجہد کے بعد انہیں ہندی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔1950ء کے عشرہ میں ڈاکٹر منشاء الرحمٰن خان منشاکی دعوت پر کیفی ایوت محل کے مشاعرے کے لیے بلائے گئے تھے۔ شرکت کے لیے 80 روپیے طے ہوئے۔ تاہم اسی زمانے میں کیفی کی بیٹی شبانہ اعظمی پیدا ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ مشاعرے میں شرکت سے قاصر تھے مگر پیشگی رقم 40 روپیے ان کی وقتیہ ضروریات کے کام آئی۔ کیفی نے منشا سے خط لکھ کر معذرت خواہی کی اور ساتھ ہی پیشگی رقم کی واپسی کا وعدہ کیا۔آئیڈیا نے ان کے مشہور اور پسندیدہ نغموں کو اچھے انداز میں کیا ہے،جیسے ہم دیوانے ہم پروانے اپنے وطن کے اپنے چمن کے ،لائی پھر ایک لغزش مستانہ تیرے چہرے میں،آج کی رات گرم ہوا چلی ہے، دل کی سنو دنیا والوکرچلے ہم فدا جان و تن ساتھیوںملو نہ تم تو ہم گھبرائیں، ملو تو آنکھ چرائیں ،بچھڑے سبھی باری باری ذرا سی آہٹ ہوتی تو دل سوچتاہو کے مجبور، مجھے اس نے بھلایا ہوگااور وقت نے کیا کیا حسیں ستم شامل ہیں۔شمال مغربی میں 5 مئی 2002 کو انہیں موت میں اپنی آغوش میں لے لیا اور ان کی تدفین اس علاقے کے اندھیری چار بنگلہ قبرستان میں عمل میں آئی کتبہ پر یہ شعر ع
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے
تحریر تھا۔
گزشتہ چندسال قبل مذکورہ قبرستان کی ازسر نو تجدید کی گئی توقبر سے کتبہ ہٹادیا گیا تھا،لیکن اسے دوبارہ نہیں لگایا گیا اور اب انتظامیہ نے کتبہ نصب کرنے سے انکار کردیا ہے۔
اندھیری اور ولے پارلے اسکیم میں ایک گارڈن کیفی اعظمی کے نام سے منسوب ہے جس کے لیے ان کی بیٹی اور اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنے ایم پی فنڈ سے بنوایا تھا۔ کیفی اعظمی کے فین نے آج شام قبرستان پہنچ کر کے خراج عقیدت پیش کیا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper