ریاست

ہماچل اور ہریانہ پولیس نے نوادہ سے تین سائبر مجرموں کو کیاگرفتار

Written by Taasir Newspaper

نوادہ ، 28 جنوری ۔ ہریانہ-ہماچل ریاستی پولیس نے جمعرات کی رات نوادہ ضلع کے روہ سے تین سائبر مجرموں کو گرفتار کر کے لے گئے۔ ہماچل پردیش کے اونا صدر تھانہ علاقے کی ایک خاتون کے ساتھ لاکھوں کی دھوکہ دہی کے معاملے میں سائبر مجرموں کی تلاش میں پولیس روہ پہنچی تھی، ریاست ہریانہ کے تھانہ حصار کی پولیس بھی روہ پہنچی تھی۔ جس میں ہماچل پولیس نے بتایا کہ لکی ڈرا کے معاملے میں ایک خاتون سے 30 لاکھ کا فراڈ کیا گیا تھا۔معاملہ 2020 کا ہے۔ جس کے بعد فرار چل رہے ملزم روہ تھانہ علاقہ کے مڑراگاوں کے پانڈے ٹولہ رہائشی انیل پانڈے کے بیٹے شانتی سو روپ شاستری کو ہماچل پردیش پولیس گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ وہیں ہریانہ ہسار تھانہ سے آئی پولیس ٹیم نے کنجولا گاوں سے مقامی رہائشی شیلیشور پرساد کے بیٹے ہرش کمار اور کملیش پرساد کے بیٹے روشن کمار کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ یہ دونوں ملزمان جیو ریلائنس میں نوکری دینے کے نام پر ہریانہ کی ایک خاتون سے 1.10 لاکھ روپے ٹھگی کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ ہماچل پردیش اور ہریانہ کی پولیس سائبر مجرموں کو پکڑنے کے لیے روہ پہنچی تھی۔ مقامی پولیس کی مدد سے دونوں ریاستوں کی پولیس ٹیموں نے سائبر مجرم کو پکڑنے کے لیے دیر رات گاوں میں چھا پہ ماری کی۔ اس دوران کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے نوجوانوں سے پوچھ تاچھ کے دوران ہماچل اور ہریانہ پولیس کو ملنے والے سراغ کی بنیاد پر ٹیم مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔ جس کے بعد دونوں ریاستوں کی ٹیموں کو مجرموں کو پکڑنے میں کامیابی ملی۔ بتا دیں کہ سائبر کرملزم نے پہلے ہی بلاک ایریا میں کئی جگہوں پر جال پھیلا رکھا ہے۔ تھانہ علاقہ کے کئی گاوں سائبر کرملزم کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کئی سائبر مجرموں کو جیل کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے باوجود سائبر کرائم رکنے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ نوادہ ضلع کے وار ث علی گنج کا علاقہ بھی سائبر ہے۔ یہ ٹھگوں کا ایک بڑا اڈہ بن چکا ہے جہاں روزانہ ٹھگوں کا لاکھوں کا کاروبار ہو رہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper