فن فنکار

5 جی کیس میں جوہی چاولہ کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 27 جنوری ۔ دہلی ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ نے فلم اداکارہ جوہی چاولہ کی جانب سے 5G کے لانچ کو روکنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے سنگل بنچ سے 20 لاکھ روپے کے جرمانے کو کم کر کے 2 لاکھ روپے کر دیا ہے۔ جسٹس وپن سانگھی کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم دیا۔ آج سماعت کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہونے والی جوہی چاولہ نے کہا کہ اگر وہ دہلی اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے لیے کچھ سماجی کام کر سکتی ہیں تو انھیں فخر ہو گا۔ اس کے بعد عدالت نے 20 لاکھ روپے جرمانہ کم کرکے 2 لاکھ کرنے کا حکم دیا۔ 25 جنوری کو عدالت نے جوہی چاولہ کے وکیل سلمان خورشید سے کہا تھا کہ وہ سنگل بنچ کی جانب سے عائد جرمانے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ عدالت اسے دو لاکھ کر سکتی ہے۔
چونکہ درخواست گزار ایک مشہور شخصیت ہے، اس لیے اسے کچھ سماجی کام کرنے ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ جب بھی دہلی اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو ضرورت ہو، وہ جوہی چاولہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس پر سلمان خورشید نے جوہی چاولہ سے پوچھا اور کہا کہ وہ اس کام کے لیے تیار ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 4 جون 2021 کو جسٹس جے آر مدھا کی سنگل بنچ نے جوہی چاولہ کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ درخواست گزار نے مناسب کورٹ فیس جمع نہیں کرائی ہے۔ ایسا کرنا قانون کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے ایک ہفتے میں کورٹ فیس جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ حکومت کو درخواست دائر کرنے سے پہلے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست کے حق میں کوئی ثبوت نہیں دیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ 5 جی ڈیوائسز سے نکلنے والی تابکاری سے لوگوں کی صحت خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ جوہی چاولہ نے اس پر ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تکنیک بہت نقصان دہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ ایسی کوئی تحقیق نہیں کی گئی جس سے یہ ظاہر ہو کہ 5 جی ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے محفوظ ہے۔ ایسے میں اس ٹیکنالوجی کو لانچ ہونے سے روک دیا جانا چاہیے۔

About the author

Taasir Newspaper