دنیا بھر سے

روس کا یویکرین پر حملہ

Written by Taasir Newspaper

کیف؍لندن، 24فروری- روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے یوکرین میں فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد روسی وزارت دفاع نے یوکرین کی ایئر بیس اور اس کا فضائی دفاعی نظام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کی صبح یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ صدر پوتن کے اعلان کے بعد روسی افواج نے یوکرین کے کئی شہروں پر میزائل داغے ہیں جبکہ یوکرین کے جنوبی ساحل کے قریب فوجی بھی اتارے گئے ہیں۔روئٹرز کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف میں افراتفری دیکھی گئی ہے۔ شہری بینکوں سے رقوم نکالنے اور کھانے پینے کی اشیا جمع کرنے لیے کافی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ شہر کی مغربی جانب جانے والی سڑکوں پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو گئی تھی۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یوکرین نے اپنی فضائی حدود کو ’شدید خطرے‘ کے پیش نظر مسافر پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے جبکہ یورپ کی پروازوں کی نگرانی کرنے والے اداروں نے روس اور بیلا روس کے سرحدی علاقوں کی جانب پروازوں کو وارننگ جاری کی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں جو تباہی ہو گی اس کا واحد ذمہ دار روس ہو گا۔ اور امریکہ اور اس کے اتحادی اس کا جواب یکجا ہو کر فیصلہ کن انداز میں دیں گے۔یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا نے جمعرات کو کہا ہے کہ پوتن نے یوکرین پر ایک بڑا حملہ کر دیا ہے۔ یوکرین کے پرامن شہر س وقت حملے کی زد میں ہیں۔یہ جارحیت پر مبنی جنگ تھی۔
یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور فتح اسی کی ہو گی۔ دنیا ہر صورت میں پوتن کو روکے ، یہ عمل کا وقت ہے۔صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کی صبح ٹیلی وڑن پر اپنے ایک مختصر بیان میں حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔صدر پوتن نے یوکرین کی فوج کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بھی کہا ہے۔واضح رہے کہ روسی صدر کا یہ اعلان کریملین کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی یوکرین کے باغی رہنماؤں نے حکومت کے خلاف ماسکو سے فوجی مدد مانگی ہے۔اس کے ردعمل میں یوکرین کے صدر نے ولادیمیر زیلنسکی نے رات گئے جذباتی انداز میں روس سے اپیل کی کہ وہ’یورپ میں اس بڑی جنگ‘ کا حصہ نہ بنیں۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ روس کے شہریوں سے یوکرین کے بارے میں غلط بیانی کی گئی ہے اور یہ کہ جنگ کا امکان بھی آپ ہی پر منحصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ جنگ کون روک سکتا ہے؟ ظاہر ہے لوگ ہی۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ آپ میں ہی موجود ہیں۔ادھر اقوام متحدہ میں یوکرین کے نمائندے نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ان کے ملک کے خلاف ’اس جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سکیورٹی کونسل کے ایمرجنسی اجلاس میں رو سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر پوتن! اپنے فوجیوں کو یوکرین پر حملے سے روکیں، امن کو ایک موقع دیں۔ بہت اس پہلے ہی اموات کا شکار ہو چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات ہی کو کہا کہ صدر پوتن کے اقدامات ٹھوس جواب کے متقاضی ہیں اور اسی لیے ہم روس پر مکمل طور پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔
بائیڈن نے روس کے ملٹری بینک، انویسٹمنٹ کمپنی وی ای بی اور روس کے دولت مند افراد کے خلاف مکمل بلاکنگ پابندیوںکا اعلان کیا اور کہا کہ ہم روس کو مغرب کی جانب سے ہونے والی فناسنگ کا سلسلہ منقطع کر رہے ہیں۔ ہم پابندیاں لگانے میں جارحیت کا مظاہرہ کریں گے اگر روس نے ایسا کیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل روس نے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں روسی فوج کو بطور ’امن مشن‘ تعینات کرنے کے لیے بھیج دی ہیں۔پوتن کی جانب سے یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد کئی مغربی ممالک سمیت جاپان نے بھی روسی بینکوں اور شخصیات سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper