ریاست

لالو یادو کو فی الحال ڈائیلاسس کی ضرورت نہیں: ڈاکٹر ودیا پتی

Written by Taasir Newspaper

رانچی، 18 فروری ۔ چارہ گھوٹالے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی میڈیکل رپورٹ آ گئی ہے، جو RIMS کے پیئنگ وارڈ میں داخل ہیں۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ودیا پتی نے بتایا کہ ان کے گردے کی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ ای جی ایف آر ٹیسٹ میں رپورٹ 20 فیصد کے قریب ہے لیکن الیکٹرولائٹ کی حالت ٹھیک ہے۔ فی الحال ڈائیلاسس کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈاکٹر ودیا پتی نے جمعہ کو بتایا کہ فی الحال لالو کی شوگر اور بی پی بڑھی ہوئی ہے۔ بی پی کی ادویات کی خوراکیں بڑھا دی گئی ہیں۔ باقی دوائیں ایمس کے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق دی جارہی ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم کی جانب سے لالو سے کہا گیا ہے کہ وہ پروٹین سے بھرپور کھانا لینے سے پرہیز کریں۔ اس کے ساتھ دن میں صرف آدھا لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کھانے میں پنیر، انڈا، مچھلی، مٹن اور چکن نہ دینے کو کہا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ لالو کو ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل کی بیماری، گردے کی بیماری، گردے کی پتھری، تناؤ، تھیلیسیمیا، پروسٹیٹ بڑھنا، یورک ایسڈ میں اضافہ، دماغ سے متعلق بیماری، کمزور قوت مدافعت، دائیں کندھے کی ہڈی کا مسئلہ، ٹانگ میں درد ، ہڈیوں کے مسئلے ، آنکھ کے مسائل سے دو چار ہیں۔
لالو کو 15 فروری کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے چارہ گھوٹالہ کے ڈورانڈا ٹریژری کیس میں مجرم قرار دینے کے بعد RIMS میں داخل کرایا گیا تھا۔ یہاں ان کی صحت کا معائنہ کیا گیا۔ اس کے بعد ان کی جانچ کے لیے بدھ کو کئی نمونے لیے گئے۔ اب اس کی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی ہے۔ لالو کی دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹروں کی سات رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ جو لالو کی نگرانی کر رہے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper