دنیا بھر سے

یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلبا کے لیے خصوصی پروازیں شروع

Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،26فروری -ہندوستان نے جنگ زدہ یوکرین سے طلبا کو نکالنے کے لیے خصوصی پروازوں کا اہتمام کیا ہے۔اس سلسلے میں ایئر انڈیا کی پہلی پرواز آج رات کو ممبئی پہنچے گی۔لیکن ساتھ ہی باقی ماندہ ہندوستانیوں کو کہا کہ وہ سفارت خانے کے ساتھ رابطے اور ان کی اجازت کے بغیر سرحدوں پر جمع نہ ہوں،حکومت ہند نے ایئرانڈیا کی خصوصی پروازوں کے ذریعے یوکرین میں مقیم طلبا کو واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ابھی تک 500کے قریب طلبا رومانیہ میں داخل ہوئے، اس کے علاوہ جو طلبا دوردراز علاقوں میں مقیم ہے ان کو بھی سرحد پر لانے کے لیے کوشش کی جارہی ہے، یوکرین میں 16ہزار سے زیادہ ہندوستان طلبا میڈیکل ،انجینئرنگ اور دوسرے شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جموں وکشمیر کے بھی 200سے زائد طلبا وہاں پر زیرتعلیم ہے۔ جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہندوستانی سفارت کار وہاں مقیم طلبا اور دوسرے شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کے دوران ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کا مسئلہ بھی اٹھایا۔وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت ہند مختلف ملکوں کے تعاون کے ساتھ طلبا اور دوسرے شہریوں کو نکالنے اور ان کی تحفظ کرنے کے لیے مسلسل کام کررہی ہے۔عالمی اردو سروس کے نمائندے شیخ منظور احمد نے کچھ طلبا کے اہل خاندان سے بات چیت کی اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ برابر رابطے میں ہے حالانکہ بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرانہیں تشویش لاحق ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طلبا کو ابھی تک کسی قسم کی پریشانیوں سے نہیں گزرنا پڑا حالانکہ گولہ باری اور جنگ کی وجہ سے انہیںتہہ خانوں میں پناہ لینی پڑی ہے، ابھی ان کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرناپڑا ہے۔ ہندوستانی حکومت روس ،پولینڈ،ہنگری اور رومانیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ برابر رابطے میں ہے تاکہ اپنے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہندوستانی طلبا کو رومانیہ لایاجائے گا جو یوکرین کے بارڈر سے 500کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔، اس سلسلے میں پہلے دوخصوصی پروازوں کا انتظام کیاگیا ہے جو طلبا کو واپس لائے گا۔اس کے علاوہ حکومت یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ طلبا کوپولینڈ میں داخل ہونے میں کوئی دشواری نہ آجائے ۔دریںاثنا پیوتن چاہتے ہیں کہ یوکرین ایک منصفانہ پوزیشن پر رضامند ہو جائے جو اسے ناٹو میں شامل ہونے سے روکے۔ ناٹو میں شمولیت یوکرین کے لیے ایک طویل عرصے سے خواہش رہی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ہر چیز کا انحصار یوکرین کو ملنے والی سیکیورٹی ضمانتوں پر ہوگا۔نیکوفوروف نے لکھا کہ ”ہم نے روسی صدر کی پیشکش (مذاکرات کی) قبول کر لی ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کے مقام اور وقت پر بات کر رہے ہیں۔دریں اثنا روس نے جمعہ کی رات تک یوکرین پر اپنا حملہ جاری رکھا اور کیف شہر پر زبردست فضائی حملہ کیا۔ 24 فروری کو روس کے حملے میں 137 یوکرینی مارے گئے تھے۔دوسری جانب یوکرین حکومت کا کہنا تھا کہ پہلے روز ایک ہزار سے زائد روسی فوجی مارے گئے۔

About the author

Taasir Newspaper