دنیا بھر سے

یوکرین کا رو س کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار

Written by Taasir Newspaper

کیف،26فروری۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ “ہم ہتھیار ہر گز نہیں ڈالیں گے . ہم اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے”۔ انہوں نے یہ بات آج ہفتے کے روز کیف میں اپنے دفتر کے سامنے کھڑے ہو کر ایک وڈیو پیغام میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہی۔فیس بک پر جاری ہونے والے وڈیو کلپ میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ “میں یہاں ہوں”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “میں نے فرانس کے صدر سے بات کی ہے ، ہمارے شراکت داروں کی جانب سے اسلحہ اور ساز و سامان یوکرین کے راستے میں ہے”۔ زیلنسکی کے مطابق انہوں نے فوج سے ہتھیار ڈالنے اور میدان چھوڑ دینے کا مطالبہ نہیں کیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ذمے داران نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے لیے انخلا کی پیش کش کی تھی تا کہ وہ قیدی نہ بنا لیے جائیں۔ تاہم یوکرین کے صدر نے امریکی پیش کش کو مسترد کر دیا۔اس سے قبل جمعے کی شام ایوان صدارت کی ویب سائٹ پر جاری ایک وڈیو میں ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ”میں یہ بات صراحتا کہنا چاہوں گا کہ آج کی رات ،،، دن سے زیادہ دشوار ہو گی۔ہمارے ملک کے کئی شہروں کو حملے کا سامنا ہے۔
کیف پر ہماری خصوصی توجہ ہے۔ ہم دارالحکومت کو نہیں کھو سکتے”۔یوکرین کے صدر کے مطابق انہوں نے دن کے اوقات میں کئی سینئر مغربی قائدین کے ساتھ بات چیت کی۔ ان میں امریکی صدر جو بائیڈن ، فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر اولاف شولٹس شامل ہیں۔زیلنسکی نے بتایا کہ “ہم نے مزید امداد اور ہمارے ملک کے لیے زیادہ سپورٹ پر اتفاق کیا ہے”۔یوکرین کے صدر نے زور دیا کہ ہمارا مرکزی ہدف اس قتل و غارت کو روکنا ہے۔دریںاثنا ٹھیکئی انڈپینڈنٹ ڈاٹ کام‘ نے رپورٹ کیا کہ پیسکوف کے مطابق یوکرین نے اس کے بعد بات چیت روک دی، حالانکہ یوکرین کے صدر کے ترجمان سرہی نیاکیفوروف نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یوکرین بات چیت کے لیے تیار ہے، اور بات چیت جاری رہے گی۔روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو یوکرین کو ملک کے خلاف ہر طرح کی جنگ شروع کرنے کے بعد مذاکرات کے لیے منسک میں ملاقات کرنے کی پیشکش کی تھی۔
پیوتن چاہتے ہیں کہ یوکرین ایک منصفانہ پوزیشن پر رضامند ہو جائے جو اسے ناٹو میں شامل ہونے سے روکے۔ ناٹو میں شمولیت یوکرین کے لیے ایک طویل عرصے سے خواہش رہی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ہر چیز کا انحصار یوکرین کو ملنے والی سیکیورٹی ضمانتوں پر ہوگا۔
نیکوفوروف نے لکھا کہ ”ہم نے روسی صدر کی پیشکش (مذاکرات کی) قبول کر لی ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کے مقام اور وقت پر بات کر رہے ہیں۔دریں اثنا روس نے جمعہ کی رات تک یوکرین پر اپنا حملہ جاری رکھا اور کیف شہر پر زبردست فضائی حملہ کیا۔ 24 فروری کو روس کے حملے میں 137 یوکرینی مارے گئے تھے۔دوسری جانب یوکرین حکومت کا کہنا تھا کہ پہلے روز ایک ہزار سے زائد روسی فوجی مارے گئے۔

About the author

Taasir Newspaper