دنیا بھر سے

امریکی خاتون اول کا یوکرین کا دورہ

Written by Taasir Newspaper

واشنگٹن،9مئی- یوکرین کے لیے امریکا کی سیاسی حمایت کی ایک مضبوط علامت کے طورپر امریکی خاتون اول جل بائیڈن غیر اعلانیہ دورے پر یوکرین پہنچی ہیں۔
جِل بائیڈن نے اتوار کو یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکی کے ساتھ مدرز ڈے کے موقع پر ملاقات میں اپنے دورے کا آغاز کیا۔یہ دورہ امریکی سیاسی اور عسکری قیادت کے اعلیٰ سطحی دوروں کے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے، جن میں ہاؤس کی اسپیکر نینسی پیلوسی، سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹنی بلنکن اور سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن شامل ہیں۔جل بائیڈن نے سڑک کے ذریعے سلوواکیہ سے یوکرین کی سرحد پر واقع گاؤں ازہورود تک کا سفر کیا۔
امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خاتون اول بائیڈن نے زیلنسکا سے ایک اسکول میں ملاقات کی جسے بے گھر یوکرینیوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔زیلنسکا سیاہ رنگ کی ایس یو وی سے باہر نکلی جس کی حفاظت یوکرائنی فوجی دستے کے پاس تھی۔ جل نے انہیں گل دستہ پیش کیا اور گلے لگایا۔ اس کے بعد دونوں میں ایک چھوٹے سے بند کمرے میں ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ہفتے کے روزامریکی صدرکی اہلیہ نے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں یوکرینی مہاجر ماؤں اور اساتذہ کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے خواتین کی طاقت اور لچک کی تعریف کی۔
جِل بائیڈن نے یوکرینی خواتین اور بچوں کے دل دہلا دینے والے بیانات سنے جو اپنے ملک میں جنگ سے بھاگ کر رومانیہ میں محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ورجینیا کے ایک کمیونٹی کالج میں انگریزی کی تعلیم دینے والی جل بائیڈن رومانیہ اور سلوواکیہ کے دورے پر گئیں جہاں انہوں نے دونوں ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں اور مہاجرین سے بھی ملاقات کی۔جب سے روس نے یوکرین میں اپنا فوجی آپریشن شروع کیا ہے تقریباً 910,000 یوکرینی باشندے رومانیہ فرار ہو چکے ہیں، جہاں خیراتی ادارے، مقامی حکام اور سرکاری ادارے ہزاروں رضاکاروں کے ساتھ خوراک، پناہ گاہ اور نقل و حمل فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper