ملک بھر سے

’ایک شا م شموئل احمد کے نام‘

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network / M.Hassan

جھارکھنڈ کی ادبی فضا نہایت زرخیز : شموئل احمد
رانچی،23؍مئی:انجمن فروغ اردو کے زیراہتمام سوموار کو رحمانیہ مسافر خانہ انجمن پلازہ میں اردو کے بلند پایہ افسانہ نگار شموئل احمد کے اعزاز میں ’’ ایک شام اردو کے بلند پایہ فکشن نگارشموئل احمد کے نام‘‘ پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر اختر یوسف نے کی۔ نظامت کے فرائض پروفیسر شاہنواز خان نمکین نے انجام دیئے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شموئل احمد نے کہا کہ رانچی ادیبوں کا شہر ہے۔ اگر ہم پورے جھارکھنڈ کی بات کریں تو  یہاں ایک سے بڑھ کر ایک اردو کے افسانہ نگار اور ادیب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج افسانہ اور فکشن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور نفرت پھیلانے والوں کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔پروفیسر اختر یوسف نے کہا کہ شموئل احمد جیسی شخصیت کے اعزاز میں مجلس سجانا ہماری خوش نصیبی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرنا ہماری ایمانداری ہے۔ بڑے بڑے ادارے انہیں اعزاز سے نواز چکے ہیں۔ان تمام باتوں کے باوجود شموئل احمد کو دوحہ قطر کے (عالمی اردو ایوارڈ) کے علاوہ سہیل عظیم آبادی فکشن ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا جا چکا ہے۔ شاہنواز خان نے کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے حوالے سے درجنوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مل چکی ہیں۔ ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے کئی رسالوں کے خصوصی نمبر قابل ذکر ہیں۔ چہار سو (راولپنڈی) ، نیا ورق (ممبئی) اور مژگاں (کلکتہ) اس سلسلے میں اہم ہیں۔ اردو کے علاوہ ہندی میں بھی شموئل احمد مقبول رہے ہیں۔ ہندی کے رسالے ‘سمبودھن ‘ نے بھی اُن پر خصوصی گوشہ شائع کیا۔ ابرار مجیب نے کہا کہ شموئل احمد کی پچاس سالہ افسانوی زندگی کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے افسانوی موضوعات کسی ایک نہج پر مرکوز نہیں ہوتے بلکہ دنیا جہاں کے مسائل، سیاسی وسماجی حالات اور اسی طرح کے دوسرے مسائل کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے پچاس سالہ افسانوی سفر میں کئی اہم موڑ آئے اور اسالیب و موضوعات کی سطح پر بھی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ محفوظ عالم نے کہا کہ شموئل احمد نے اپنے عہد میں نمو پانے والے اکثر موضوعات کو افسانے کے قالب میں ڈھالاہے۔ اگر اُن کے اسلوب کی بات کی جائے تو اُن کے تہہ دار بیانیے کا قائل ہر قاری و ناقد ہے البتہ انہوں نے چند علامتی افسانے بھی لکھے ہیں لیکن کہانی کے جوہر کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔ پروگرام کو محترمہ نجمہ انصاری اور وجے سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ میں انجمن فروغ اردو کے صدر محمد اقبال نے مہمانوں کا استقبال کیااور انجمن کے بارے میں مختصر روشنی ڈالی۔ پروگرام کے آخر میں پروفیسر شاہنواز نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔ پروگرام میںغلام شاہد،ڈاکٹرمکمل حسین ، عائشہ پروین، دانش ایاز، محمد عمران، عبدالاحد، وسیم اکرم، محمد ابرار،تنویرمظہر،محمد عارف، راشد جمال، شبانہ پروین، ڈاکٹر تسنیمہ پروین،گلناز تبسم، طیبہ،عبد لصمد،محمد معراج،محمد منصور عالم،مکرم حیات،محمد علیم،عالیہ تبسم،فاطمہ اور دیگر موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper