دنیا بھر سے

بھارت نے پینگونگ جھیل کے علاقے میں چین کے نئے پل کی تعمیر کی مخالفت کی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network / Mosherraf

نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ دونوں پل اس علاقے میں ہیں جس پر چین نے 1960 کی دہائی سے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے، ان اطلاعات پر کہ چین مشرقی لداخ کے پینگونگ جھیل کے علاقے میں ایک نیا پل بنا رہا ہے۔ بھارت اپنی سرزمین پر اس غیر قانونی قبضے کو قبول نہیں کرتا۔ ساتھ ہی وہ چین کے جھوٹے دعووں اور اس علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں کو بھی قبول نہیں کرتا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے پینگونگ جھیل کے علاقے میں چین کے نئے پل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کئی مواقع پر واضح طور پر کہا ہے کہ پورا جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹیریٹریز ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ہم دوسرے ممالک سے ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جس کا ملک کی سلامتی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے مفادات کے مکمل تحفظ کے لیے حکومت نے 2014 سے خاص طور پر سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ حکومت ملک کی تزویراتی اور سلامتی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سے خطے میں اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

About the author

Taasir Newspaper