ریاست

خواتین کی عالمی باکسنگ چمپیئن نکہت زرین کے گھر میں خوشی کا ماحول

Written by Taasir Newspaper

حیدرآباد21مئی: تلنگانہ کی باکسنگ اسٹار نکہت زرین جو ورلڈ چمپیئن بن گئی ہیں کے گھر میں خوشی کا ماحول ہے۔ان کی والدہ پروین سلطانہ نے اس کو فخر کالمحہ قراردیااور کہا کہ اس کے اظہارکیلئے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔وہ جونیر ورلڈ چیمپن پہلے ہی رہی تھیں تاہم اب انہوں نے سینئر س میں 5-0سے ایک طرفہ کامیابی حاصل کی ہے۔بیٹی کی کامیابی پر مسرور ان کی والدہ نے کہا کہ تلنگانہ میں خاتون باکسرس نہیں ہیں، باکسنگ کے کھیل میں نکہت کی دلچسپی پر ان کو ابتدا میں خوف ہوا کیونکہ یہ عموما لڑکوں کا کھیل ماناجاتا تھا۔نکہت کی اس میں کافی دلچسپی تھی۔ وہ لڑکوں کے ساتھ پریکٹس کرتی تھیں۔باکسنگ کے دوران بعض وقت وہ زخمی بھی ہوجایاکرتی تھیں جس کی وجہ سے وہ چاہتی تھیں کہ نکہت باکسرنہ بنے تاہم نکہت باکسنگ کی تربیت حاصل کرنے کے لئے کافی مصر تھی۔اس میں ان کے والد کا کافی تعاون رہا ہے۔ ان کے والد محمد جمیل احمد نے کہا کہ ان کو بیٹی پربھروسہ تھا۔عالمی چیمئین شپ کے فائنل مقابلہ میں سکنڈراونڈ مشکل ضرور تھاتاہم نکہت نے اس مقابلہ کو جیت کر نئی تاریخ بنائی ہے۔انہوں نے کہاکہ باکسنگ کیلئے کافی عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔نکہت کی پیدائش 1996میں تلنگانہ کے ضلع نظام آباد میں محمد جمیل احمد کے گھر ہوئی تھی۔ نکہت نے نئی اونچائیوں کو چھوتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔وہ یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ لڑکیاں بھی لڑکوں سے کم نہیں ہیں۔14سال کی عمر میں نکہت کو گولڈن بیسٹ باکسر قراردیاگیاتھا۔اگلے ہی سال انہوں نے ویمنس جونیر اور یوتھ ورلڈ باکسنگ چیمپین شپ میں کامیابی حاصل کی تھی۔سال 2017میں زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ایک سال کیلئے باکسنگ سے دوررہیں۔ یہاں تک کہ وہ دولت مشترکہ کھیلوں اور ایشین گیمس سے بھی باہر رہیں تاہم نکہت نے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔سال 2018میں انہوں نے بلگریڈ انٹرنیشنل چیمپین شپ میں کامیابی حاصل کی۔ نکہت زرین نے استنبول میں خواتین کی عالمی چمپیئن شپ کے فائنل میں فلائی ویٹ (52کلوگرام) زمرہ میں تھائی لینڈ کی جٹپانگ جوٹاماس پر 5-0 سے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے باوقار گولڈ میڈل جیتا۔ تلنگانہ کی باکسر نے اپنی تھائی مخالف پر متفقہ فیصلہ سے کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے 30-27, 29-28, 29-28, 30-27, 29-28 سے نتیجہ اپنے حق میں کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ 2019 ء ایشین چمپئین شپ برونز میڈلسٹ نکہت زرین 5ویں ہندوستانی باکسر بن گئی ہیں جنھوں نے عالمی چمپئین کا تاج حاصل کیا۔ عالمی خطاب جیتنے والی دوسرے ہندوستانی باکسرس میں میری کوم، سریتا دیوی، جینی آر ایل اور لیکھا کے سی شامل ہے۔ ان میں سے میری کوم نے 6 مرتبہ خطاب جیتا۔ چار برسوں میں یہ ہندوستان کا پہلا گولڈ میڈل ہے۔ میری کوم نے آخری مرتبہ 2018 ء میں 48 کلوگرام کے زمرہ میں خطاب جیتا تھا۔ 25 سالہ زرین نے مکوں کا شاندار امتزاج پیش کرتے ہوئے تھائی لینڈ کی کھلاڑی کو زیرکیا تھا۔ جیسے ہی فاتح کا اعلان کیا گیا نکہت زرین جذباتی ہوگئیں۔ وہ خوشی سے اچھل پڑیں اور اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں۔ نکہت زرین نے 2019 ء میں بھی تھائی لینڈ کی اس کھلاڑی کو شکست دی تھی۔ حیدرآبادی باکسر اس سال بہترین فام میں ہیں۔ انھوں نے فروری میں باوقار اسٹرانجہ میموریل مقابلہ میں دو گولڈ میڈل حاصل کئے تھے۔ نکہت زرین کے گولڈ کے علاوہ منیشامون اور پراوین ہوڈا برونز میڈلس کے ساتھ ملک واپس آئیں گی۔ نظام آباد ضلع کے ونائک نگر سے تعلق رکھنے والی نکہت زرین نے دسویں تک نظام آباد میں تعلیم حاصل کی تھی۔انہوں نے انٹرمیڈیٹ‘ ڈگری کی حیدرآباد میں تکمیل کی۔ وہ ایم بی اے فرسٹ ایئر میں زیر تعلیم ہیں۔ نکہت کے والد محمد جمیل احمد اپنے دور کے بہترین فٹبال کھلاڑی رہے ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں 10 سال ملازمت کی اور واپسی کے بعد نکہت زرین کی باکسنگ میں دلچسپی کو دیکھ کر کوچ محمد صمصام الدین کی نگرانی میں باکسنگ کی تربیت کا آغاز کروایا۔نکہت نے اپنی سخت محنت جستجو لگن سے مختلف مقابلوں میں شاندار مظاہرہ کیا۔

About the author

Taasir Newspaper