بہار

شاہ تقی حسن بلخی فردوسی کے عرس کا انعقاد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network / Mosherraf

 پٹنہ- 24 مئ. سر زمین بہار میں فردوسی  سلسلے کے بزرگوں نے رشد و ہدایت کی شمع جلائی جس کی روشنی سے  نہ صرف بہار بلکہ ساری دنیا منور ہے. ان صوفیائے کرام نے جہاں علم باطن پر زور دیا وہیں شریعت پر پابندی کی بھی تاکید کی. ان کا علم و عمل حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر مشتمل ہے. اسوہ رسول کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا اور تعلیمات رسول کو تمام اطراف میں پہنچانے کا کام بہت ہی خلوص کے ساتھ کیا. مذکورہ باتیں سید شاہ ابصار الدین بلخی فردوسی نے پیر طریقت حضرت مولانا حکیم سید شاہ تقی حسن بلخی فردوسی شمسی فاضل الٰہیات کانپور قدس سرہ العزیز کے عرس کے موقع پر خانقاہ بلخیہ فردوسیہ رائے پورہ فتوحہ پٹنہ میں اپنے خطاب کے دوران کہیں. ابصار بلخی نے کہا کہ ظاہر داری سے اوپر اٹھ کر تقی حسن بلخی  قدس سرہٗ نے پیغامات مخدوم جہاں حضرت شیخ شرف الدین یحیی منیری قدس سرہٗ کو خلقِ خدا تک پہنچایا اور سلسلہ فردوسیہ کی حقیقی اور واضح تصویر معاشرے کے سامنے پیش کی. آپ کی شخصیت بزرگان فردوسیہ کو سمجھنے کے لئے سنگ میل  کی حیثیت رکھتی ہے، جس پر غور و فکر کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے. سید شاہ تقی حسن بلخی کی پیدائش 1901 ء میں خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ پٹنہ میں ہوئ. آپ نابغہ روزگار شخصیت کے مالک تھے. آپ خانقاہ بلخیہ فردوسیہ کے سولویں سجادہ نشیں ہوئے . علم طب پر گہری نظر تھی اور مسیح الملک حکیم اجمل خان کی شاگردی کا افتخار آپ کو حاصل تھا. لوگ دور دراز علاقوں سے آپ کے پاس علاج کی خاطر پہنچتے اور فضل خدا سے شفایاب ہو کر واپس ہوتے.1973ء میں آپ مالک حقیقی جا ملے. اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی صدر شعبہ اردو پٹنہ ویمنس کالج نے کہا کہ خانقاہ بلخیہ فردوسیہ  نے ہمیشہ رشد و ہدایت کا کام کیا ہے. انہوں نے اردو نثر کے حوالے سے خانقاہ بلخیہ فردوسیہ کے بزرگ سید محمد تقی بلخی فردوسی قدس سرہ (المتوفی 1255 ھ) کی تصنیف فقہ ہندی کا بھی ذکر کیا جسے فقہ پر اردو نثر کی پہلی کتاب ہونے کا مقام اولیت حاصل ہے. اس کا ذکر پروفیسر اختر اورینوی نے کیا ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے خانقاہ بلخیہ فردوسیہ میں آنے کے بعد روحانی سکون حاصل ہوا. اردو کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا بہت ہی اہم رول رہا ہے. اور اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے. عرس  کا آغاز حضرت مولانا حکیم سید شاہ تقی حسن بلخی فردوسی کی مزار پر چادر پوشی سے ہوا. قل اور فاتحہ کا اہتمام کیا گیا. اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی. آخر میں سید شاہ ابصار بلخی  کی دعا  پرعرس انجام پزیر ہوا.

About the author

Taasir Newspaper