دنیا بھر سے

فلسطینی اتھارٹی کا یہودی آباد کاروں کو گھر فروخت کرنے کی تحقیقات کا اعلان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network / M. Hassan

رملہ ،17مئی ( اے یوایس)فلسطینی حکام نے الخلیل شہر کے ایک بند فوجی علاقے میں واقع فلسطینی رہائشی عمارت کو اسرائیلی آباد کاروں کو فروخت کرنے کے حوالے سے تحقیقات شروع کیں ہیں جب کہ عمارت کے مالک نے فروخت کی تردید کرتے ہوئے معاہدے سے دستبرداری کی تصدیق کی ہے۔تقریباً ایک ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط یہ رہائشی عمارت ہیبرون کے مشرق میں کریات اربع کی بستی کے قریب واقع ہے اور تیس سال سے ویران تھی۔گذشتہ جمعہ کو تقریباً 15 آباد کار خاندان رہائش کے لیے فرنیچر اور دیگر سامان لے کر عمارت میں داخل ہوئے۔ یہ تمام آباد کار بہت زیادہ خوش نظر آ رہے تھے۔ عمارت کے مالک نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک ویڈیو میں مکان یہودی آباد کاروں کو فروخت کرنے کے الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہودی آباد کاروں کی طرف سے مکان خریدنے کے جعلی دعوے کے خلاف پولیس کے پاس شکایت درج کرائیں گے۔عمارت کے مبینہ خریدار ہانی حرش نے بتایا کہ اس نے یہ عمارت رئیل اسٹیٹ میں کام کرنے والے فلسطینی تاجروں کے ایک گروپ کے ساتھ شراکت میں خریدی ہے۔ دریں اثنا محمد عید الجعبری نے کہا کہ انہوں نے عمارت کو واپس لینے سے پہلے یروشلم کے ایک وکیل داؤد العزہ کے ذریعے ہانی حرش کو ابتدائی طور پر تقریباً سات لاکھ ڈالر میں یہ عمارت فروخت کی۔اگرچہ الجبعری جن کے پاس یروشلم کی شناخت ہے اور وہ یروشلم میں رہتے ہیں نے اعتراف کیا کہ عمارت کو حرش کو فروخت کیا گیا۔ حرش ایک اسرائیلی آباد کار ہے جوالقدس میں بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مکان کی خریدو فروخت کی خبر لیک ہونے کا شک ہوا تو انہوں نے سودا منسوخ کردیا تھا۔سیٹلمنٹ اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ یروشلم میں مقیم فلسطینی وکیل کی ایک تاریخ ہے کہ وہ آباد کاروں کو جائیدادیں خرید کر اور پھر اسرائیلیوں کو فروخت کر دیتا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس نے سات لاکھ ڈالر کے عوض یہ عمارت فروخت کی تھی۔

About the author

Taasir Newspaper