فن فنکار

منور فاروقی: متنازع انڈین کامیڈین کا حوالات سے ریئلٹی شو ’لاک اپ‘ جیتنے تک کا سفر

Written by Taasir Newspaper

دہلی،۹؍مئی-انڈیا کے معروف سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی ریئلٹی شو ‘لاک اپ’ کے فاتح بن گئے ہیں۔ بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کے اس شو میں منور کو پہلے سے ہی مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا۔سنیچر کی رات دیر گئے منعقدہ گرینڈ فینالے میں کنگنا رناوت نے فاتح کے نام کا اعلان کیا۔ منور کے علاوہ انجلی اروڑہ، پائل روہتگی، شیوم فائنل میں پہنچے تھے۔ تاہم منور فاروقی کا یہ سفر اتنا سیدھا نہیں رہا۔ آئیے ایک نظر منور کے سفر پر ڈالتے ہیں۔یکم جنوری سنہ 2021 کو جب دنیا نئے سال کا جشن منا رہی تھی، کروڑوں لوگوں کو ہنسانے والے گجراتی کامیڈین کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پھر سنہ 2022 آیا اور ایک بار پھر کامیڈین منور فاروقی کو ‘لاک اپ’ میں بھیج دیا گیا لیکن یہ ‘لاک اپ’ سنہ 2021 والا نہیں بلکہ ایک ریئلٹی شو تھا، جس کی میزبانی اداکارہ کنگنا رناوت کر رہی ہیں۔
‘لاک اپ’ سلمان خان کی میزبانی والے بگ باس’ کی طرح ایک ریئلٹی شو ہے، جس میں کچھ مہمان کچھ وقت کے لیے شو میں آتے ہیں اور آہستہ آہستہ شو سے باہر ہوتے جاتے ہیں۔شو میں موجود رہنے کے طریقوں میں اپنے راز بتانا بھی شامل ہے۔منور فاروقی لاک اپ شو میں انٹری کے بعد مسلسل بحث میں رہے۔ کبھی اپنی ماں کی کہانی سنا کر اور کبھی بچپن کے جنسی استحصال کی کہانی سنا کر۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ منور فاروقی لاک اپ شو جیت سکتے ہیں۔اس شو کے ختم ہونے سے قبل کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا تھا کہ منور فاروقی ‘خطروں کے کھلاڑی’ جیسے شو میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔یوٹیوب ویڈیوز اور سٹیج شوز کے ذریعے کامیڈی کرنے والے منور گذشتہ ڈیڑھ سال میں کیسے خبروں میں ہیں اور لاک اپ سے پہلے منور کی کامیڈی سے لے کر بچپن اور جوانی تک کیا کہانی تھی، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہی۔
منور فاروقی کا بچپن اور کنبے کہانی
لاک اپ شو میں منور کو اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بتاتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم فاروقی نے یہ بات اس وقت بتائی جب شو کے فارمیٹ کے مطابق ان کی زندگی سے جڑے کچھ راز افشا کرنے ضروری تھے۔منور نے شو میں کہا تھا: ‘میں چھ یا سات سال کا تھا، جب تقریباً چار یا پانچ سال تک میرا جنسی استحصال کیا گیا۔ ایک قریبی رشتہ دار تھا اور آپ اس کے خلاف شکایت نہیں کر سکتے تھے، آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا۔ چوتھے سال، انھیں ایسا لگنے لگا کہ یہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور اب انھیں روکنا چاہیے، پھر وہ بات رک گئی، میں نے اس کے بارے میں کبھی کسی کو نہیں بتایا۔ ایک بار جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے والد کو اس کا علم ہو گیا تو انھوں نے مجھے ڈانٹا۔’ منور کے اس افشائے راز کے بعد شو کی میزبان کنگنا رناوت نے بھی بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے بارے میں بتایا۔ اس شو میں منور نے اپنی ماں کی موت سے متعلق واقعہ بھی شیئر کیا۔منور کا کہنا تھا کہ ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ میری والدہ کی طبیعت خراب ہے، میں بھاگ کر ہسپتال پہنچا، ہسپتال میں ماں کو چیختے ہوئے دیکھا، گھر والوں سے پوچھا کہ والدہ کو کیا ہوا ہے؟ دوائیں دیں، مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ پھر میری ایک بڑی امی نے آکر بتایا کہ تمہاری ماں نے تیزاب پی لیا ہے۔میں نے یہ بات ایک رشتہ دار نرس کو بتائی۔ ڈاکٹر آئے تو میں نے سوچا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر ایک لمحہ آیا کہ ڈاکٹر نے کہا ہاتھ چھوڑ دو، میرا ہاتھ چھڑوایا گیا تو پتہ چلا کہ امّی چل بسی ہیں۔‘منور والدہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ اگر میں اس رات امّی کے ساتھ سوتا تو شاید وہ بچ جاتیں۔ ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کیا تو پتہ چلا کہ امّی نے سات آٹھ دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ان کی 22 سالہ شادی شدہ زندگی کتنی بری تھی، میں نے اپنا پورا بچپن اپنی ماں کو مار کھاتے یا لڑتے دیکھا۔ ‘کئی مواقع پر منور نے اپنے والد سے دوری کے بارے میں بتایا ہے۔ اس کے ساتھ منور اپنے بچپن کے بارے میں بھی بتاتے رہے کہ ان کی زندگی قرض کے چیلنجز میں کس طرح گزری۔منور نے کہا تھا کہ ‘ جب میری بہن کی شادی ہوئی تو گھر والوں نے سارا الزام امی پر ڈال دیا، سنہ 2007 کا سال میرے خاندان کے لیے بہت برا تھا، گھر کے برتن بیچ کر کھانا آ رہا تھا۔ ماں پر کئی قسم کے بوجھ تھے۔ ان میں 3500 روپے کا قرض بھی تھا، یہ قرض بھی امّی نے گھر چلانے کے لیے لیا تھا، آج بھی اس چیزوں سے میرا پیچھا نہیں چھوٹ رہا ہے۔’
گجرات کے جوناگڑھ سے ممبئی کے ڈونگری تک
30 سالہ منور فاروقی سنہ 1992 میں مغربی ریاست گجرات کے جوناگڑھ میں پیدا ہوئے۔ منور کئی ویڈیوز میں بتاتے ہیں کہ ان کا گھر بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو 2002 کے گجرات فسادات میں تباہ ہوئے تھے۔2002 کے فسادات کے بعد منور ممبئی کے علاقے ڈونگری آ گئے اور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگے۔ یہ وہی ڈونگری ہے، جہاں معروف انڈر ورلڈ داؤد ابراہیم بھی رہتا تھا اور اس معاملے پر لوگوں کے سوالات اور مشکوک نظروں کا بھی ان کی کئی ویڈیوز میں طنزا ذکر نظر آتا ہے۔گجرات سے ڈونگری آنے کے کچھ عرصے بعد منور کی والدہ نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ کئی میڈیا رپورٹس میں منور فاروقی کے بچپن میں برتن بیچنے اور گرافک آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے جیسی باتیں کہی گئی ہیں۔
پھر منور فاروقی کامیڈی کی دنیا میں کیسے آئے؟
دی پرنٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق منور کے دوست اور کامیڈی شو کا اہتمام کرنے والے ‘دی ہیریٹیج’ کے بانی بلراج سنگھ گھئی نے اس بارے میں بتایا تھا۔ بلراج سنگھ گھئی نے کہا تھا کہ ’ایک بار منور نے مجھے بتایا کہ وہ کسی اشتہار کی شوٹنگ کے قریب کھڑے تھے۔ وہاں ایک سٹینڈ اپ کامیڈی سین فلمایا جانا تھا۔ پروڈیوسرز کے پاس کوئی نہیں تھا جو سٹیج پر جا کر سٹینڈ اپ کامیڈی کرے۔ پروڈیوسر نے منور کو سٹیج پر جانے اور دو لائنیں کہنے کو کہا۔ وہ لائنیں انھیں بہت زبردست لگیں۔ ایسا لگا کہ منور کو یہ سب اصل زندگی میں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ ہمارے بہت سے شوز کے لیے آئے اور اچانک ہٹ ہو گئے۔‘اسی رپورٹ میں منور کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر خاندان نے سٹینڈ اپ کامیڈی کو ٹائم پاس کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ لیکن جب منور کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور لوگ آکر منور کے ساتھ سیلفیاں لینے لگے تو سمجھ میں آیا کہ یہ کوئی سنجیدہ بات ہے۔منور کے چاہنے والوں میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ منور کے لیے پیار کا اظہار سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے۔ لاک اپ شو میں بھی منور ‘ کچا بادام’ گیت پر ڈانس کرکے ہٹ ہونے والی انجلی اروڑہ کے ساتھ نظر آئے تھے۔ ان دونوں کی کیمسٹری بھی لوگوں کو اچھی لگی تھی۔لیکن اس شو میں ایسا لمحہ بھی آیا جب یہ معلوم ہوا کہ منور فاروقی شادی شدہ ہیں۔ شو میں منور کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھی۔ اس تصویر میں منور ایک خاتون اور ایک بچے کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ اس دھندلی تصویر کے شو میں ظاہر ہونے کے بعد منور نے اعتراف کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ ساتھ ہی منور نے یہ بھی بتایا کہ ‘ ہم تقریباً ڈیڑھ سال سے الگ رہ رہے ہیں، عدالتی معاملات چل رہے ہیں، یہ میری ایک ایسی ذاتی بات ہے، جس پر میں شو میں بات نہیں کرنا چاہتا۔‘منور کی شادی کے بارے میں کھل کر نہ بتانے پر کنگنا رناوت نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ لوگ اسے غلط کہتے ہیں۔
منور کی کمائی اور لطیفے
پانچ مئی 2022 تک، منور فاروقی کے یوٹیوب پر پر تقریباً 26 لاکھ فالوورز اور 16 کروڑ سے زیادہ ویوز ہیں۔ایک کامیڈین نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یوٹیوب سے ہونے والی کمائی کے علاوہ منور انڈیا میں ایک شو کے لیے تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے لیتے ہیں۔‘
کئی میڈیا رپورٹس میں بھی منور کی تقریباً اتنی ہی کمائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن اس بارے میں منور کی جانب سے کبھی کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔ کامیڈی کے علاوہ منور ریپ گانے بھی گاتے ہیں۔ممکن ہے آپ سوچ رہے ہوں کہ منور کے لطیفوں میں کیا ہوتا ہے اور وہ متنازع کیوں ہوتے ہیں؟
اس کو سمجھنے کے لیے آئیے آپ کو منور کے چند لطیفوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ منور کی یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی پہلی ویڈیو کی چند سطریں اس طرح ہیں:
‘میرے خیال میں ‘ بولو زباں کیسری’ بی جے پی کا انتخابی نعرہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ ومل ہو یا بی جے پی۔۔۔ دونوں ہی ملک کے لیے کینسر ہیں۔’
‘آپ نے دیکھا ہو گا کہ پیڈ (سنیٹری) اخباروں میں لپیٹ کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ انڈیا میں اخبار یہی کرتے ہیں- سچ چھپاتے ہیں۔‘
’ہم آپ کے ہیں کون فلم میں، رینوکا شاہانے زینوں سے ہاریزینٹل دروپدی کی طرح گریں۔ اپنے گھر کی سیڑھیوں سے کون گرتا ہے؟’
‘میرا ایک دوست ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مدرسے میں اسلامی تعلیم میں، وہ بچوں کو گانا سکھاتے ہوں گے کہ گاؤ بچو، اسلام کا ہیرو – اسامہ بن لادن۔‘
‘آپ میں سے کسی کا نام سیتا ہے؟ کسی کا نام سیتا نہیں ہے۔ کیونکہ ایک معاشرے کے طور پر ہم نہیں چاہتے کہ عورتیں اس حد کو عبور کریں۔‘
‘اشتہار آکر یہ کہتے ہیں کہ کپڑے دھونے کا کام صرف خواتین کا ہے۔ ہیما، ریکھا، جیا اور سشما۔ کبھی سنا ہے کہ سوربھ نامی شخص کو کپڑے دھونے کو کہا گیا ہو؟’
‘پنجابی لوگوں سے میری گزارش ہے کہ اگر آپ کی گرل فرینڈ آپ سے کچھ مانگے تو لا کر دے دیں، گانا نہ بنائیں۔ پنجابی گانے سنیں، ہر گانے میں کوئی کچھ مانگ رہا ہوتا ہے۔‘
‘ہم مسلمان لوگ ہیں، جب ہم شادیوں میں سیلفی لیتے ہیں تو چیز کے بجائے بیف کہتے ہیں، ہم مسلمانوں کے سیلفیوں میں سارے بچے نہیں آ پاتے ہیں، تو ہم نے اتنے بچے کیوں پیدا کیے؟’
منور سے متعلق تنازعات اور تنقید
آپ نے اوپر منور فاروقی کے لطیفوں کے چند نمونے دیکھے جو ان کے کئی ویڈیوز میں سنے جا سکتے ہیں۔ منور کے ناقدین کا کہنا ہے کہ منور اپنی ویڈیوز میں مذہب سے متعلق لطیفے کیوں بناتے ہیں جبکہ ذاکر خان بھی تو کامیڈی کرتے ہیں لیکن وہ کبھی مذہب یا سیاست پر لطیفے نہیں بناتے۔’ دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج’ سے لوگوں کی نظروں میں آنے والے کامیڈین سنیل پال نے بھی منور کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ‘ لاک اپ’ شو کے آغاز کے موقع پر سنیل پال نے کہا: ‘آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی کہنے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کے الفاظ سے معاشرے میں ایک اچھا پیغام جانا چاہیے۔
آج لوگ ان لوگوں کی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔ یہ لوگ عوام کے سامنے جاتے ہیں اور ان کی توہین بھی کرتے ہیں، یہ لوگ بیہودہ مواد فراہم کرتے ہیں۔‘بہر حال منور نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’جو لوگ شو میں آتے ہیں وہ ان تمام شرائط و ضوابط کو پڑھتے ہیں، وہ اپنی مرضی سے آتے ہیں، یہ کامیڈی کا فارمیٹ ہے – کراؤڈ ورک۔ جس میں عوام کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔‘اسی طرح کی ایک مزاحیہ ویڈیو میں منور پر ہندو دیوی دیوتاؤں اور وزیر داخلہ امت شاہ پر مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس الزام کی وجہ سے یکم جنوری سنہ 2021 کو اندور پولیس نے منور سمیت چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔منور کو تقریباً ایک ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔
اس دوران، ضمانت کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔’ بہر حال منور کو فروری 2021 میں سپریم کورٹ نے ضمانت دی تھی۔رہائی کے بعد منور نے میڈیا سے دوری اختیار کر لی اور اپنے چینل پر یوٹیوب ویڈیو ‘لیونگ کامیڈی’ شائع کی۔اس ویڈیو میں منور نے کہا تھا کہ ‘ یہ جو بھیڑ چال یا سیاست ہے، اس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے، میں اس کا شکار نہیں تھا، مجھے صرف خراش آئی اور وہ بھی ایسی چیز کی وجہ سے جو میں نے کی بھی نہیں۔ کسی کی سیاست کی وجہ سے کوئی برباد ہو سکتا ہے۔ میں کبھی کسی کا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا اور نہ ہی کبھی مشہور ہونا چاہتا تھا۔ ہم نے بس لوگوں کو ہنسانے کا انتخاب کیا ہے۔ کسی کا جنون ہے گاڑی میں بیٹھ کر گالی دیے، ہاں ہمارا جنون لوگوں کو ہنسانا ہے۔ کبھی کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔‘منور ویڈیو کے آخر میں کہتے ہیں: ‘میں کامیڈی نہیں چھوڑ سکتا۔ کیونکہ میرے پاس کامیڈی چھوڑنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن کامیڈی کرنے کی ایک وجہ ہے۔۔۔ اور یہ وہ آواز ہے جو سٹیج پر بلاتی ہے۔‘

About the author

Taasir Newspaper