اداریہ

کیا اعظم خاں ناراض نہیں ہیں ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network / Mosherraf

چاروں طرف یہ خبر گشت کر رہی ہے کہ سماجوادی پارٹی کے بانی لیڈر اور رامپور کے رکن اسمبلی اعظم خان اور ان کے صاحبزادے عبداللہ اعظم پارٹی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے سخت ناراض ہیں۔ محمد اعظم خان، جنہیں دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد گزشتہ روز جیل سے رہا کیا گیا ہے، آج سوموار کے روز سے شروع ہونے والے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل اتوار کو سماج وادی پارٹی کے لیجسلیچر پارٹی کے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ایس پی صدر اکھلیش یادو کی موجودگی میں ہونے والی اس میٹنگ میں ان کے چچا شیو پال سنگھ یادو بھی غیر حاضر رہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ رام پور میں تھے، جب کہ شیو پال یادو لکھنؤ میں تھے، پھر بھی انہوں نے پارٹی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
اعظم خان کے جیل سے رہا ہونے کے بعد پارٹی کی اہم میٹنگ میں شرکت نہ کرنے پر پارٹی سے ناراضگی کے چرچے شروع ہو گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں سینئر لیڈروں کی عدم موجودگی اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے اندرسب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔دریں اثنا، سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے روی داس ملہوترا نے دونوں لیڈروں کی ناراضگی اور پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی قیاس آرائیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر رہنما صحت کی وجہ سے اتوار کو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اِدھر اعظم خان کا کہنا ہے کہ میں کسی سے کیوں ناراض ہونے جاؤں۔میں ہاردک پٹیل نہیں ہوں جو ناراض ہو جاؤں۔مجھے صرف میڈیا سے ناراضگی کی اطلاع مل رہی ہے۔ مجھ میں کسی سے ناراض ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ناراض ہونے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے۔ میں تو خود بے بنیاد ہوں تو بنیاد کہاں سے آئے گی؟ ایس پی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے اعظم خان نے سماج وادی پارٹی سے ناراضگی کے سوال پر یہ کچھ ایسا ہی جواب دیا ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں ایک غریب آدمی ہوں جو اتنی تنگ گلی میں رہتا ہے، جہاں ایک بھی فور وھیلر داخل نہیں ہو سکتا۔ اعظم خان، جنہیں تقریباً ڈھائی سال بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا، اتوار کو اپنے قریبی ساتھی سے ملنے رام پور ضلع جیل گئے تھے۔ وہاں سے واپسی کے بعدوہ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سوال پر کہ آیا وہ سوموار سے شروع ہونے والے، ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے، اعظم خان نے کہا کہ میں اجلاس میں ضرور حصہ لوں گا۔ میں 11ویں بار قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوا ہوں۔میڈیا سے بات چیت کے دوران سوار سیٹ کے ایس پی ایم ایل اے اور اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم بھی موجود تھے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعظم خان نے الزام لگایا کہ انہیں تعلیم کے لیے تحریک شروع کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ای ڈی حکام کی ایک ٹیم جوہر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اعظم خان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مجھ پر بکرے اور مرغیاں چرانے کا الزام تھا۔ 20 دن میں سب سے بڑا مجرم بن گیا۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ میں انتخابی ایجنڈے پر تھا۔اگلے اقدام کے سوال اعظم خان نے یہ واضح کیا میں پہلے اپنی جسمانی حالت ٹھیک کروں گا، پھر سوچوں گا کہ کس سمت میں جاؤں گا۔
انھوں نے بتایا کہ مجھے سزا اس لیے دی گئی کہ میں بچوں کے ہاتھ میں قلم تھما کر تعلیم کا مشن شروع کرنا چاہتا تھا اور جس یونیورسٹی (مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی)کو میں نے قائم کیا تھا اگر اسے گرا دیا گیا تو اس کے کھنڈرات اور ملبہ میرے تعلیمی مشن کی تاریخ بتائےگا۔انھوں ضمانت دینے کے لئے سپریم کورٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔واضح ہو کہ اعظم خان کو سیتا پور جیل سے سپریم کورٹ سے گزشتہ 27 مہینوں سے مختلف دیگر الزامات میں درج 80 مقدمات میں عبوری ضمانت ملنے کے بعد 20 مئی ،جمعہ کے روز ضمانت پر رہا ہو گئے۔ گفتگو کے دوران اعظم خاںکےلہجے میںوہی اعتماد و وقار تھا جو پہلے ہوا کرتا تھا، لیکن کبھی کبھی ایسا بھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے دکھ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیںساتھ ہی دبی زبان میں اکھلیش یادو سے اپنی ناراضگی کا اظہاربھی کر رہے ہیں۔ یہ ناراضگی کب تک اندر ہی اندررہےگی۔ اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔

About the author

Taasir Newspaper