اداریہ

ادھو ٹھاکرے حکومت: چند دنوں کی مہمان ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 28 June

مہاراشٹر کی ادھو ٹھاکرے حکومت پر بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ شیوسینا سربراہ اپنے باغی ایم ایل ایز کو منانے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میںیہ بازگشت سنائی دینے لگی ہے کہ مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل دھیرےدھیرے بی جے پی کی قیادت میںبننے والی حکومت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بی جے پی جو اب تک پردے کے پیچھے تھی ،وہ نہ صرف سامنے آنے لگی ہے بلکہ اس نے حکومت سازی کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔سیاسی مبصرین کی مانیں تو بی جے پی اور شیو سینا کا باغی خیمہ مہاراشٹر میں حکومت سازی کا دعویٰ کبھی بھی پیش کر سکتا ہے۔بات تو یہ بھی ہوا میں تیر رہی ہے کہ مہاراشٹر کی اگلی حکومت میں بی جے پی کے سینئر لیڈرد یویندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ اور باغی شیو سینا کے لیڈر ایکناتھ شندے کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا خاکہ تیار ہو چکا ہے۔اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے دیویندر فڑنویس ایک وکیل کے ساتھ منگل (24 جون ) کو ہی دہلی کے لئے روانہ ہوگئے تھے۔اس سلسلے میں وہ وہاں بی جے پی کی اعلیٰ کمان سے گفت و شنید کریں گے۔اور جیسے ہی وہاں سے سگنل ملے گا، بی جے پی اور ایکناتھ شندے خیمہ دونوں مہا راشٹڑ میں حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر دیں گے۔ ذرائع کی مانیں تو مہاراشٹر بی جے پی اور ایکناتھ شندکی قیادت والےخیمہ میں ،وزراء کے ناموں کا بھی تقریباً فیصلہ ہو چکا ہے۔ شندے خیمہ کے آٹھ ایم ایل اے کابینہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی پانچ کووزیر مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ ممکنہ وزراء کی فہرست میں ایکناتھ شندے (نائب وزیراعلیٰ)، دادا بھوسے، دیپک کیسرکر، گلاب راؤ پاٹل، سندیپن بھومرے، ادے سمنت،شمبھوراج دیسائی،عبدالستار، راجندر پاٹل،بچو کڈو، پرکاش آبدکر، سنجے رامولکر اور سنجے شرسات کے نام شامل ہیں۔یہ سرگرمیاں بتا رہی ہیں کہ ابھی مہاراشٹر بی جے پی اور شیو سینا کے شندے خیمہ میں کس قدر خوشی ہے۔
شندے خیمہ اور بی جے پی میں خوشی اس بات کے لئے بھی ہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں ، شندے خیمہ کے ایم ایل ایز کو نااہل قرار دئے جانے سےمتعلق ، ڈپٹی سپیکرکی کارروائی پر11 جولائی تک کے لئے روک لگا دی گئی ہے۔اس راحت کو شندے خیمہ کے ایم ایل ایز اور بی جے پی کے رہنما یہ مان کر چل رہے ہیں ، سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ انہیں فلور ٹیسٹ کا مطالبہ کرنے کا حق دیتا ہے۔اسی خوشی کے عالم میں شیو سینا کا باغی خیمہ مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کو اقتدار سے ہٹانے کے لیےمشترکہ کوششیں تیزہو گئی ہیں۔گرچہ سبھی باغی ایم ایل ایز ابھی گوہاٹی میں ہی ہیں لیکن سبھی ممبئی لوٹنے کا موڈ بنا چکے ہیں۔اس درمیان شیو سینا کے باغی رہنما ایکناتھ شندے گوہاٹی کے لوگوں سے یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم شیو سینا میں ہیں، کہیں نہیں جا رہے ہیں۔جلد ہی ممبئی لوٹیں گے۔ ساتھ ہی ہندتوا کے موضوع کو لے کر آگے بڑھیں گے۔دوسری جانب بی جے پی کے سینئر لیڈرس بھی ا پنے تمام ایم ایل ایز کے رابطے میں ہیں اور انھوں نے سب کو کہہ دیا ہے کہ کسی بھی وقت ممبئی آنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
ادھر یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ 30 جون کو شیو سینا کے باغی اراکین اسمبلی ممبئی لوٹ سکتے ہیں۔ ممبئی پہنچنے کے بعد ایکناتھ شندے گورنر سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد فلور ٹسٹ کا بھی مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ دراصل شندے نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں کہا ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد نے ایوان میں اکثریت کھو دی ہے، کیونکہ شیو سینا کے 38 اراکین اسمبلی نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔
واضح رہے کہ شندے اور ان کے ساتھ خاصی تعداد میں اراکین اسمبلی نے 21 جون کو وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی قیادت کی خلاف بغاوت کردی تھی۔ ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ شیو سینا مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد سے ہٹ جائے۔ اس اتحاد میں کانگریس اور این سی پی شامل ہیں۔شیو سینا کے باغی رہنما مہاراشٹر میں ایک ایسی حکومت بنانا چاہتے ہیں ، جو ’’ہندتو‘‘ کی بنیاد پر حکمرانی کا ہنر جانتی ہو۔ایسے میںسیاسی مبصرین کی یہ پیشین گوئی کہ مہاراشٹرکی ادھو ٹھاکرےحکومت بس چند دنوں کی مہمان ہے، کبھی بھی سچ ثابت ہو سکتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper