ملک بھر سے

ایس ڈی پی آئی کی قومی ورکنگ کمیٹی اجلاس میں 7اہم قرار داد منظور

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 27 June

نئی دہلی ۔ ( پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کی نیشنل ورکنگ کمیٹی اجلاس 25,26جون 2022کو احمد آباد ، گجرات میں منعقد ہوئی ۔ قومی صدر ایم کے فیضی نے اجلاس کی صدارت کی۔ قومی نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین احمد، بی ایم کامبلے، محمد شفیع، قومی جنرل سکریٹریان الیاس محمد تمبے، عبدالمجید فیضی،سیتارام کھوئیوال، یاسمین فاروقی، محمد اشرف، قومی سکریٹریان فیصل عزالدین، الفانسو فرانکو، تائید الاسلام، عبدالستار، محمد ریاض، رونا لیلی اور نیشنل ورکنگ کمیٹی کے دیگرا راکین موجود تھے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔ 1)۔ بلڈروز سیاست غیر آئینی اور فاشزم کی واضح علامت ہے۔ بی جے پی کی حکمران والی ریاستیں مطلق العنان حکمرانی پر عمل پیر ا ہیں اور فلاحی ریاست کے بنیادی نظریہ کے خلاف ہیں۔ جس کے تحت یہ حکومتیں ریاستی مشینری اور بلڈوزر استعمال کرکے لوگوں کے مکانات بالخصوص اقلیتی برادریوں کے گھروں کو کسی نہ کسی بہانے سے گرارہی ہیں۔ اقلیتی برادریوں کو آئین میں درج اظہار رائے کی آزادی کو استعمال کرنے کی قیمت کے طور پر ایک جنونی بلڈوزر سیاست کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ بی جے پی حکومتیں ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کررہی ہیں۔ یہ ملک کے قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہندوستانی آئین کے خلاف ہے اور فاشزم کی واضح علامت ہے کیونکہ بی جے پی حکومتوں نے عدالتی طریقہ کار کے بغیر یہ دعوی کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں کو بلڈوز کردیا ہے کہ ان عمارتوں کے مالکان فسادات کے مجرم ہیں۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے بی جے پی حکومتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ طاقت اور ہندوستانی آئین کے اس صریح غلط استعمال کو روکیں۔ ایس ڈی پی آئی نے خبردار کیا ہے کہ بی جے پی حکومتیں آئینی مینڈیٹ کا احترام کریں اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ ایس ڈی پی آئی ان لوگوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے جن کے گھروں کو عدالت کے حکم کے بغیر بلڈوز کیا گیا ہے۔ 2)۔ گیان واپی مسجد پر تنازعات پیدا کرنا عبادت گاہوں کے قانون 1991کی خلا ف ورزی ہے۔ عبادت گاہوں کا ایکٹ 1991کہتا ہے کہ 15اگست 1947کو کوئی مسجد، مندر، چرچ یا کوئی بھی عوامی عبادت گاہ موجود ہے تو وہ وہی مذہبی کردار برقرار رکھے گا جو اس دن تھا۔ اس کی تاریخ سے قطع نظر اسے عدالت یا حکومت تبدیل نہیں کرسکتی۔ معزز سپریم کورٹ نے 2019کے بابری مسجد کے فیصلے میں اس کا اعادہ کیا ہے۔ چونکہ گیان واپی مسجد کی حیثیت 15اگست1947کو مسجد ہے، عدالتوں کے پاس گیان واپی مسجد کے خلاف دائر کردہ موجودہ مقدمہ کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ لہذا، ایس ڈی پی آئی کی قومی ورکنگ کمیٹی معزز عدالت کے نوٹس میں لاتا ہے کہ وہ گیان واپی مسجد کے خلاف چلائی جانے والی موجودہ قانونی چارہ جوئی کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ شرانگیزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 6کی تعزیری دفعات کے تحت سزا دے۔3)۔ ہندوستان کو معاشی تباہی سے بچائیں۔ مرکزی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں نے ملک کو گہرے معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے کیونکہ ہندوستانی روپیہ تاریخی کم ترین سطح پر گرا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑ ھ رہی ہے۔ غیر ضروری نوٹ بندی، غیر سائنسی جی ایس ٹی اور حکومت کی اس طرح کی دیگر پالیسیوں نے ہندوستانی معیشت کی ترقی کو روک دیا ہے۔ نئی ملازمتیںپیدا کرنے ، کالا دھن واپس لانے اور لوگوں کے بینک کھاتوں میں روپئے ڈالنے کے وزیر اعظم کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود 65لاکھ سے زیادہ خالی آسامیوں پر تقرری نہ ہونے وغیرہ نے عوامی خدمات کے کام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ متعدد PSUs(پبلک سیکٹر یونٹس) فروخت ہوچکے ہیں اور ریاستوں کے جی ایس ٹی حصص فنڈز کی کمی کی وجہ سے ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ اس میں ڈیفالٹرس کے نان پرفامنگ اثاثے شامل کیئے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا صورت حال نے ملک میں ایک سنگین معاشی بحران پیدا کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے بھوک ، غذائی قلت، غربت اور اس کے نتیجے میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔ اس لیے ایس ڈی پی آئی روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے ، قومی جائیدادوںاور اثاثوں کی فروخت بند کرنے، خالی آسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ 4)۔حکومتی اداروں کو انتقام کی سیاست کا آلہ کار بنادیا گیا ہے۔ ہندوستانی یونین کے آئین کے وضع کرنے والوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایک چیک اینڈ بیلنس ہے اور مختلف ایجنسیاں بیک وقت ایک آسان اور غیر جانبدارنہ عمل کو یقینی بنانے کیلئے کام کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے وقتا فوقتا بہت سے ادارے بنائے گئے تاکہ حکومت پر لوگوں کا اعتماد برقرار رہے۔ تاہم ، یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کئی تحقیقاتی ایجنسیوں اور خود مختار اداروں کو حکمران حکومت کی جانب سے انتقام کی سیاست کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، اور پی ایم ایل اے کو مخالفیں کو ڈرانے ، بدنام کرنے اور ہراساں کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ جمہوریت کے ستون کے طور پر کام کرنے کے بجائے ، میڈیا کو حکومت کا مائوتھ پیس بنا دیاگیا ہے جو ملک کی جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہے۔ مزید برآں، نفرت پھیلانے والوں کو معاشرے میں تقسیم کے بیج بونے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی مرکزی حکومت کو خبر دار کرتی ہے کہ وہ ای ڈی، آئی ٹی، این آئی اے کا غلط استعمال بند کرے اور مخالفین کو ڈرانے ، اختلاف رائے رکھنے والے شہریوں کو دھمکانا بند کرے، پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں اور دیگر فورمز میں اپوزیشن پارٹیوں کی آوازکو دبانے سے رکے، میڈیا کو ریگولیٹ کرے، انہیں بی جے پی اور آرایس ایس کا مائوتھ پیس بنانے کے بجائے خو د مختار اداروں کے طور پر کام کرنے دے۔ 5)۔تقسیم کرو اور حکومت کروکی تباہ کن پالیسی تنوع میں اتحاد کو کمزور کرتی ہے۔ ہندوستان میں مذہبی رواداری کی ایک طویل روایت ہے۔ یہاں مختلف مذاہب اور عقائد ایک ساتھ موجود ہیں، جس نے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کیا ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنادیا ہے۔ 1947میں بدقسمتی سے تقسیم کے باوجود، اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ہندوستان اپنی شبیہ نہ کھوئے اور اس لیے اس نے ایک جمہوری آئین اور سیکولر وژن کو اپنایا۔ تاہم، نفرت انگیز تقاریر ، فرقہ وارانہ فسادات، عدم برداشت اور مندر ۔ مسجد کے مسائل سماج کو تقسیم کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے پیدا کیے جاتے ہیں۔ گیان واپی مسجد کا حالیہ تنازع ، جو درجہ قووکو برقرار رکھنے کے 1991کے ایکٹ کے خلاف ہے۔ ، بی جے پی اور آرایس ایس کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی تفرقہ انگیز ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مقدمات کے فیصلے کیلئے عدالتوں کے بجائے سڑکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تلواروں ، چاقوئوں ، کلہاڑیوں ، ہتھیاروں کے ساتھ تہوار کی ریلیاں ہندوستانی یونین اور ملک کے سماجی تانے بانے کیلئے خطرہ ہے۔ یہ نسل کشی کی نیت کے ساتھ نفرت انگیز تقاریر ،نفرت انگیز دھرم سنسدوں کا انعقاد، مساجد اور گرجا گھروں پر حملے اور موجودہ حکومت کے تحت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کی طرف سے نوجوانوں کو ہتھیاروں کی تربیت دینا بی جے پی کے ذریعے تحفظ کردہ جمہوریت مخالف اور ملک دشمن ایجنڈے ہیں۔ مدارس بند کرنے اور حجاب پر پابندی کا مطالبہ مذہبی آزادی اور مذہبی رسومات کے خلاف ہے۔ ایس ڈی پی آئی قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے کا عہد کرتی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا بند کرنے، ملک کی سیکولر اقدار کی حفاظت اور تنوع میں اتحاد کو مضبوط کرنے کیلئے صاف صریح الفاظ میں مطالبہ کرتی ہے۔ 6)۔اگنی پتھ اسکیم واپس لیا جائے ۔ اگنتی پتھ اسکیم پر ہنگامہ اس ملک کے نوجوانوں کی مایوسی کی عکاسی تھی، اس کی وجہ مرکزی حکومت کی ملازمتوں، تحفظ اور خود اعتمادی جیسی ضرورریات کو پورا کرنے میں ناکامی ہے۔اگنی پتھ اسکیم حکومت کی “استعمال کرو اور ضائع کرو “پالیسی کے سوا کچھ نہیںہے۔ اگنی پتھ پر عوام کی طرف سے اٹھائے گئے بہت سے سوالات کا جواب نہیںہے اور اس کے بجائے مرکزی حکومت نے فرار کا راستہ اختیار کیا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ اگنی ویروں کو چار سال کی سخت ٹریننگ کے بعد وہ اپنے کیریئر کے لیے کیا کریں گے؟۔ قبل از ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اس ملک کی سلامتی کیلئے کیا خدمات پیش کرسکتے ہیں؟۔ لہذا، ایس ڈی پی آئی اگنی پتھ اسکیم کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ 7)۔ سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن کی گرفتاریوں کی مذمت ۔ سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں ٹیسٹا سیتلواد اور سری کمار کی گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دھمکانے کے سوا کچھ نہیں ہے جو ظالموں اور متعصبوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے تھے۔ ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں مرکزی بی جے پی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ وہ اس طرح کی گھنائونی اور غیر مہذب حرکتوں کا سہارالیکر ملک میں انسانی اور سماجی کارکنوں کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔ ایس ڈی پی آئی عہد کرتی ہے کہ وہ کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور انسانی اور آئینی حقوق کے معاملے میں ہمیشہ ان کی حمایت کرے گی۔ دورزہ قومی ورکنگ کمیٹی اجلاس کے اختتام میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی،قومی نائب صدور بی ایم کامبلے، محمد شفیع، قومی جنرل سکریٹریان الیاس محمد تمبے، عبدالمجید فیضی، سیتارام کھوئیوال، یاسمین فاروقی اور قومی سکریٹری فیصل عزالدین نے موجود رہے۔

About the author

Taasir Newspaper