اداریہ

بھارت نے بھی بڑھائےمدد کے ہاتھ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 26 June

افغانستان میں اس ہفتے آئے زبردست زلزلے نے ملک کے ان علاقوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جو پہلے ہی انتہائی غربت سے دوچار ہیں۔ افغانستان کو بھارت سمیت کئی ممالک اور تنظیموں سے مدد ملی ہے، لیکن زیادہ تر باشندے یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ وہ پہاڑی علاقوں کے وسط میں واقع دیہاتوں میں، ہزاروں کی تعداد میں تباہ ہونے والے گھروں کے باشندگان کی باز آباد کاری کیسے کریں گے۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کم از کم 1,150 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم کئی رضاکار تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ادھر طالبان نے دنیا سے افغانستان کو مزید مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
’’ ہم تو پہلے ہی بھوک اور غربت کا شکار تھے، ہم ايک وقت کے کھانے کے لیے اپنے ہی بچے کو فروخت کر رہےتھے، ہم تو پہلے ہی مر چکے تھے، اب اس زلزلے سے ہم نے اپنے سروں کے اوپر چھت کے نام پر جو کچھ تھا وہ بھی کھو دیا ہے،ہم زندہ ہی کيوں ہيں؟‘‘۔ یہ الفاظ ہیں 27 سالہ خاتون افغان شہری آمنہ کے جنھوںنے 21 جون کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں اپنا سب کچھ کھو دیا۔ریکٹر اسکيل پر پانچ اعشاریہ نو کی شدت کے طاقتور زلزلے نے مشرقی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کو ہلا کر رکھ دیا۔ افغانستان میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک اور سينکڑوں زخمی ہو گئے۔ جب کہ اقوام متحدہ کے ايک اندازے کے مطابق تقريبا دو ہزار مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ آمنہ کا گھر ان تباہ ہونے والے گھروں ميں سے ايک ہے۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی بحران کے کوآرڈینیٹر رمیز الکباروف کے مطابق اس آفت سے نمٹنے کے لیے ایک اندازے کے مطابق15 ملین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے۔طالبان نے ایک بار پھر امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے منجمد اثاثے جاری کرے تاکہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔دوسری طرف امريکی محکمہ خزانہ نے اپنی ’’فیکٹ شیٹ‘‘ کوجاری کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا تھا کہ وہ اس بات کو يقينی بنائیں گے کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک پرلگائی جانے والی امریکی پابندیاں افغانستان ميں بسنے والے عوام کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں
واضح ہو کہ اس سال کے شروع میں امريکی صدر جو بائیڈن نے بھی ایک صدارتی حکم نامہ يا ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت نیویارک میں افغان مرکزی بینک کے کل اثاثوں میں سے سات بلین ڈالر کوغيرمنجمد کر دیا گیا تھا۔جو بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ عدالت سے اجازت طلب کرے گی کہ يہ اثاثے ایک ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کر دیے جائیں اور ان غير منجمد اثاثوں ميں سے ساڑھے تين بلين ڈالر افغانستان ميں انسانی بحران ميں امداد کے ليے جب کہ بقيہ ساڑھے تین بلين گيارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کے ليے مختص کيے گئے تھے، جس پرجو بائیڈن انتظاميہ کو زبردست تنقيد کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایسے میں ا اس زلزلے کے بعد امداد اور تعمیر نو میں مدد کے لیے افغان حکومت کے اثاثوں کو غیر منجمد کیا جائے گا ؟ اس سلسلے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔حالانکہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشير جیک سلیوان اور امریکی وزیر خارجہ، اینٹی بلنکن زلزلے کے بعد اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں: ’’امریکہ کو افغانستان کے لیے انسانی امداد کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہونے پر فخر ہے۔‘‘
بہر حال اٖفغانستان میں آئے تباہ کن زلزلے کے بعد یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے امداد کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔بھارت اور پاکستان سے بھی امدادی سامان پہنچانا شروع ہو چکا ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد کے مطابق طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے لے کر اس سال فروری تک، افغانستان کودرپيش مشکلات سے نمٹنے کے ليے تقریباً ايک اعشاریہ چھ بلين ڈالرکی بين الاقوامی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جس ميں سے سب سے زيادہ امداد امريکہ نے فراہم کی ہے جو تقريبا 421 ملين ڈالر ہے۔عبدالقہار بلخی کے مطابق اس وقت متاثرین کو فوری طور پر خوراک، پینے کے پانی، ادویات، موبائل میڈیکل ٹیموں، گرم کپڑوں اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے، جس کے لیے تمام ممالک سميت بین الاقوامی تنظیموں سے بھی فراخدلانہ امداد کی اپيل کی گئی ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق قطر، ایران اور پاکستان کے علاوہ بھارت سے بھی امداد پہنچی ہے، جس میں ادویات اور خیمے وغيرہ شامل ہيں۔
*******

 

About the author

Taasir Newspaper