اداریہ

تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 27 June

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ تیستا سیتلواڑ کو گرفتار کر کے 2 جولائی تک کے لئے پولس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔گزشتہ سنیچر کو طبی جانچ کے بعدتیستا سیتلواڑ کو احمد آباد کی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس پیشی سے پہلے سیتلواڑنے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اپنی گرفتاری کو غیر قانونی بتاتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد تیستا نے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ میںبھی پولیس پر بدسلوکی کا الزام لگایا ۔ تیستا نے کہا ’’اے ٹی ایس افسر بغیر کسی وارنٹ کے میرے گھر میں گھس آئے۔ انہوں نے میرا فون چھین لیا، مجھے دھکا دیا اور مارا پیٹا۔ انہوں نے مجھے جو چوٹ پہنچائی۔ مجھے دوپہر 3 بجے سے رات 10.30 بجے تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔‘‘ ایک رپورٹ کے مطابق سیتلواڑ کو گجرات پولیس نے، ممبئ کے سانتا کروز واقع انکی رہائش گاہ سے حراست میں لیا۔سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کے اہل خانہ کا کہنا ہےکہ انہیں گجرات پولیس کی اے ٹی ایس نے ممبئی میں ان کے گھر سے حراست میں لیا۔پہلے انہیں مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور پھر احمد آباد لے جایا گیا۔
غور طلب ہے کہ احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ میں، سیتلواڑ کے ساتھ ساتھ گجرات کے دو آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ، جو پہلے سےہی ایک دوسرے کیس میں جیل میں ہیں، اور آر بی سری کمارکے خلاف پولیس انسپکٹر درشن سنگھ بی براڈ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔سیتلواڑ کے ساتھ آر بی سری کمار بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔ ایف آئی آر میں سیتلواڑ، بھٹ اور سری کمار پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 62 افراد کو قرار واقعی سزا دلانے کی نیت سے جھوٹے ثبوت گڑھ کر قانونی عمل کے غلط استعمال کی سازش کرنےاور گجرات فسادات سے متعلق دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑکرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی الزامات ہیں۔ایف آئی آر میں سپریم کورٹ کے گزشتہ جمعہ (24 جون) کے فیصلے کے ایک حصے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ذکیہ جعفری کی اس عرضی کو خارج کر دیا گیا تھا، جس میں ایس آئی ٹی کے ذریعے معاملے کی تفتیش کے پہلے مرحلے میں ہی ،بڑے پیمانے پر تشدد کے پیچھے ایک بڑی سازش کوخارج کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کے ذریعہ معاملے کی سماعت کے دوران تیستا کے کردار پر بھی سوال اٹھا تے ہوئےاس کی مزید تحقیقات کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا تھا ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ ذکیہ جعفری کے جذبات کو تیستا نےاپنی خود غرضی کے لیے استعمال کیا ہے۔سیتلواڑ ،سنجیو بھٹ اور آر بی سری کما ر کے خلاف اس معاملے کا آغازسپریم کورٹ کی جانب سے، گجرات کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے موجودہ پی ایم نریندر مودی کو دی گئی کلین چٹ کے بعد سے ہی ہواہے۔
واضح ہو کہ تیستا سیتلواڑ ایک معروف انڈین سول رائٹس اکٹیوسٹ ، صحافی اور غیر سرکاری تنظیم ’’سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس‘‘ کی سکریٹر ی ہیں۔ ممبئی میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی تیستا کےوالد اتل سیتلواڑ پیشے سے وکیل تھے۔ان کے دادا ایم سی سیتلواڑ بھارت کے پہلے اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔ جبکہ ان کے شوہر آنند بھی صحافی ہیں۔ تیستا سیتلواڑ کو 2007 میں اس وقت کے صدر عبدالکلام نے پدم شری سے نوازا تھا۔ اس سے قبل 2002 میں تیستا کو راجیو گاندھی نیشنل خیر سگالی ایوارڈ بھی ملا تھا۔ انہیں 2000 میں پرنس کلاؤس ایوارڈ اور 2003 میں نیورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ بھی ملا ہے۔انھوں نے اپنی یہ غیر سرکاری تنظیم، 2002 میں گجرات میں پھوٹ پڑے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑنے کے لیے قائم کی تھی۔اورجیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اس تنظیم کے بینر تلے، گجرات میں ہوئے مسلم مخالف فسادات کے متاثرین کو قانونی مدد فراہم بھی کی گئی۔ تیستا سیتلواڑ کے کام کی وجہ سے فساد متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو انصاف ملا اور بعض ملزموں کو گرفتار بھی کیا گیا۔تیستا سیتلواڑکے این جی او نے گجرات فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی قانونی لڑائی کے دوران حمایت کی تھی۔تیستا سیتلواڑ کے این جی او کی کوششوں سے ہی اس وقت کی مرکزی حکومت کے ذریعہ بڑی تعداد میں فساد متاثرین کو مالی معاوضہ ملا ، جو 1984 کے فسادات کے سکھ متاثرین کو دیئے گئے معاوضے کے برابر تھا۔
ادھرقانون کے ماہرین نے سیتلواڑ کی گرفتاری پر سوال اٹھایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تیستا سیتلواڑ کے خلاف آئی پی سی کے جن سیکشنس کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے، ان میں سےکسی بھی جرم کے ثابت ہونے پرسات سال یا اس سے زیادہ مدت کی قید کی سزا کا ا التزام نہیں ہے۔ایسے میں ایک ملزم کی حیثیت سے تیستا کو پوچھ گچھ کے لیے پولس کو انھیں حراست میں لینا قانوناََ درست نہیں ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی اوراس کی طلبا یونٹ ایس آئی او اور دوسری کئی تنظیموں نے تیستا کی گرفتاری کو انتقام کے جذبے سے جوڑ کر دیکھتے ہوئے انھیں بلا تاخیر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبہ کا یہ طریقہ جمہوری ضرورہے ، لیکن کسی بھی حال میں تیستا کی رہائی کے معاملے میں،رہائی کے قانونی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ رہائی کے مرحلے تک پہنچنے کے لئے لیگل پروسس سے تو گزرنا ہی پڑے گا۔اور یہ بھی طے ہے کہ قانون ایک نہ ایک دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو کر ہی دیتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper