اداریہ

جانچ رپورٹ پر سپریم کورٹ کی مہر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf-25 June

مشہور مسلم سیاستدان او ررکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کو مبینہ طور پر انصاف نہیں مل سکا ہے۔اس کے لئے وہ بے حد مایوس ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انصاف کا تقاضہ تو یہی تھا کہ میرے شوہر اور دوسرے معصوم لوگوں کے قاتلوں کو سزا ملتی۔ واضح ہو کہ گجرات فساد 2002 کے دوران احمدآباد شہر کی گلبرگ سوسائٹی رہائشی کمپلیکس میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں احسان جعفری سمیت 69 افراد کوہلاک کردیا گیا تھا۔
واضح ہو کہ ذکیہ جعفری نے اپنی درخواست میں سنہ 2002 کے گجرات فسادات کیس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کو سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی طرف سے دی گئی ’کلین چٹ‘ کو چیلنج کیا تھا۔گجرات فسادات کو وطن عزیز بھارت میں مذہبی تشدد کے بدترین فسادات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ احسان جعفری کانگریس کے سابق رکن پارلیمان تھے ،جو ان فسادات کے دوران مارے جانے والوں میں شامل تھے۔ان فسادات کا آغاز گودھرا میں ایک ٹرین میں آگ لگنے اور اس سے 60 ہندو یاتریوں کی ہلاکت سے ہوا تھا، جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا، جس کے دوران لگ بھگ 1000 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، قتل کر دئے گئے تھے۔
ذکیہ جعفری نے فسادات کے پیچھے ’بڑی سازش‘ کی تازہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انھوں نے اس معاملے میں تفتیش کاروں پر بھی الزام لگایا کہ وہ سازش کرنے والوں کو ’تحفظ‘ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔واضح ہو کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2002 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔اس وقت ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے ریاست میں مسلم مخالف فسادات کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کی۔ حالانکہ نریندر مودی اس الزام کی بارہا تردید کر تے رہے ہیں۔
تشدد کی ابتدائی تحقیقات گجرات پولیس نے کی اور اس کے بعد سنہ 2008 میں سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ ایک آزاد خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعے تفتیش کی گئی۔ سنہ 2012 میں تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ فسادات کے معاملے میں نریندر مودی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔گلبرگ قتل عام کی انکوائری میں 63 دیگر افراد کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں ملے۔ملزمین میں اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل تھے۔
قابل ذکر ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 8 فروری 2012 کو ایک حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کو یہ کہتے ہوئے کلین چٹ دے دی تھی کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی ذیلی عدالت نے بھی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر انھیں کلین چٹ دے دی تھی۔2013 میں ذکیہ جعفری نے ‘کلوزر رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اپیل عرضی داخل کی۔تاہم مجسٹریٹ نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو برقرار رکھا اور جعفری کی عرضی کو خارج کر دیا۔پھر ذکیہ جعفری نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے 2017 میں مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور جعفری کی درخواست کو خارج کر دیا۔ذکیہ جعفری نے اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔سپریم کورٹ کے تین ججز کے بنچ نے ذکیہ جعفری، تحقیقاتی ٹیم اور دیگر کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد دسمبر 2021 میں کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ذکیہ جعفری کے وکیل کپل سبل نے دعویٰ کیا تھاکہ ایس آئی ٹی نے دستیاب تمام مواد کی جانچ نہیں کی اور اس کی تحقیقات میں تعصب ظاہر ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ ریاست نے نفرت پھیلانے میں مدد کی تھی۔دوسری جانب ریاستی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دعویٰ کیا تھاکہ ریاست نے ‘وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتی تھی۔گزشتہ جمعہ کو عدالت نے کیس میں تفتیش کاروں کی طرف سے دائر کی گئی حمتی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے سنہ 2013 کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔عدالت نے ذکیہ جعفری کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ میرٹ پر نہیں۔عدالت نے ان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے ممبران کی بہترین کارکردگی کے لیے تعریف بھی کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ‘ریاست گجرات کے کچھ ناراض عہدیداروں کی دوسروں کے ساتھ مل کر ایسے انکشافات کر کے سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، جو کہ ان کے اپنے علم میں غلط تھے۔ ایس آئی ٹی نے مکمل جانچ کے بعد ان کے دعوؤں کا جھوٹ پوری طرح سے بے نقاب کر دیا تھا۔ذکیہ جعفری کی طرف سے عدالت کے اس فیصلے پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اگر شواہد کی بنیاد پر اس معاملے کو اگر ٹھیک سے عدالت کے سامنے رکھا گیا ہوتا تو شاید ذکیہ جعفری کو مایوسی ہاتھ نہیں لگتی۔ اور ایس آئی ٹی کی جانچ رپورٹ پر کسی بھی قیمت پر سپریم کورٹ کی مہر نہیں لگتی۔

About the author

Taasir Newspaper