بہار

زندگی میں قدر شناسی سے محروم رمز عظیم آبادی کی قدر کی جانی چاہئے: شفیع مشہدی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 28 June

پٹنہ : (پریس ریلیز) پروفیسر وہاب اشرفی کا شمار جہاںاردو کے مقتدر و ممتاز اصحاب قلم میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے ایک منفرد ادیب، نقاد، محقق، مورخ، افسانہ نگار، کی حیثیت سے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ وہیں رمز عظیم آبادی نے اپنی عسرت اور غربت بھری زندگی میں اپنی خدا داد اور وہبی صلاحیتوں کے سبب شاعری کی دنیا میں قومی سطح پر اپنی پہچان بنائی اور ریاست بہار کا نام بلند کیا۔ نہ وہ پروفیسر تھے اور نہ ہی کہیں سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ بلکہ معمولی گھریلو تعلیم نے ہی انہیں ان کی کاوش کے سبب شہرت کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا ۔ ان کا مطالعہ نہایت وسیع اور گہرا تھا۔ زبان وبیان پر اتنی مہارت اور قدرت حاصل تھی کہ ان کی شاعری دانشورانہ فکر و فن کا امتزاج بن گئی۔ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام بہار اسٹیٹ آرکائیو ڈائرکٹوریٹ،بیلی روڈ، پٹنہ کے کانفرنس ہال میں منعقد رمز عظیم آباد و وہاب اشرفی یاد گاری تقریبات میں دانشوران اردو نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئےیہ باتیں کہیں۔ تقریب کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ پہلے سیشن میںرمز عظیم آبادی یادگاری تقریب منعقد ہوئی ۔ اس تقریب کی صدارت سابق صدر نشیں ، اردو مشاورتی کمیٹی، بہار نے کی۔ استقبالیہ وتعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر احمد محمود نے تمام مہمانوں کا فرداً فرداً استقبال کیا۔ انہیں خوش آمدید کہا۔ جناب احمد محمود نے تقریب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقاریب میں جہاں اپنے اسلاف کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہیں ہم لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی خدمات اور کارنامے لائق صد ستائش ہیں ۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے تئیں ان لوگوں کی جانفشانیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔انہیں تقاریب کی بدولت نئی نسل اسلاف کے کارناموں سے بہر ہ ور اور روشناس ہوتے ہیں۔ جناب احمد محمود نے کہا کہ آج کاپروگرام نئے مالی سیشن کا پہلا پروگرام ہے۔ اردو ڈائرکٹوریٹ کی کوشش ہوگی کہ کورونا بحران کے خاتمے کے بعد چوبیس یاد گاری تقریب میں ہر ماہ ایک یا دو پروگرام ریگولرمنعقد کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ بھی فروغ اردو کے کئی پروگرام ہیں وہ بھی کرائے جائیں گے۔ جشن اردو کے انعقاد کی کارروائی پر بھی امسال شدت کے ساتھ کوشش کی جائے گی۔ تقریب کی مناسبت سے ڈائرکٹر موصوف نے وہاب اشرفی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیک وقت ایک باکمال ادیب ،سرکردہ ناقد، عظیم مورخ، معتبر محقق، منفرد افسانہ نگار ، نامور صحافی روشن خیال دانشور اور ایک معزز استاد تھے۔ وہاب اشرفی کی شخصیت اردو ادب میں بہت ہی نمایاں اور روشن ہیں۔ آپ کا شمار ممتاز اور سر بلند اصحابِ قلم میں ہوتا ہے۔وہیں رمز عظیم آبادی کے سلسلے میں کہا کہ رمز کے کلام میں زندگی کی سچائی اور مٹی کی خوشبو شامل ہے۔ ان کا لب و لہجہ دلکشی او ردل پذیری سے بھر پور ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی غربت و افلاس میں گذاری۔وہ ایک خود دار اور غیور انسان تھے۔ان کی شاعری میں ان کی غربت کا کرب جھلکتا ہے۔ مثلاً یہ شعر۔ بیٹی کو گھر ملا تو مرا گھر چلا گیا * شادی میں رمزؔ قرض لیا تھا مکان پر۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے جناب شفیع مشہدی نے کہا کہ رمز عظیم آباد ی پر پیش کئے گئے تینوں مقالے کافی معلومات افزا ہیں۔ رمزؔ ہم لوگوں کے قریبی تھے۔ وہ بہت ذہین و فطین انسان تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کی تھی لیکن ان میں اتنی ذہنی صلاحیت تھی کہ ان کے پڑھے لکھے نہ ہونے کا گمان ہی نہ ہوتا تھا۔قدرت نے انہیں خاص طرح کی دولت عنایت کی تھی، رمزؔ اوریجنل اورزمینی شاعر تھے۔افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں ان کی زندگی میں بھی قدر اور عزت کی نظر سے نہیں دیکھا گیا اور آج بھی ہم لوگ انہیں فراموش کررہے ہیں۔ ان کی جتنی قدر دانی اور جو مقام انہیں ملنا چاہئے تھا اس سے ابھی بھی وہ محروم ہیں۔ اس تقریب میں ڈاکٹر نسیم احمد نسیم ، پروفیسر قاسم فریدی اور جناب ابو ذر ہاشمی نے رمز عظیم آبادی کی شخصیت اور شاعر ی کے مختلف موضوعات پر تشفی بخش اور سیر حاصل باتیں جامع انداز میںکہیں۔ پہلے اجلاس کے خاتمہ کے بعد اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام انوار الحسن وسطوی کا ’’ پروفیسر قمر اعظم ہاشمی ‘‘ پر لکھے گئے فرد نامہ کا اجرا عمل میں آیا۔اسی دوران رمز عظیم آبادی کی اہلیہ اور ان کی بیٹی کی شال پیشی کے ذریعہ عزت افزائی کی گئی۔ دوسرے اجلاس میں پروفیسر وہاب اشرفی کی صدارت کرتے ہوئے سابق صدر نشیں اردو مشاورتی کمیٹی بہار ،پروفیسر عبد الصمد نے کہا کہ وہاب اشرفی کی شخصیت نابغہ روز گار تھی۔ وہ اردو زبان و ادب کے لئے پیدا ہوئے اور اسی زبان کی خدمت کرتے ہوئے رخصت ہو گئے۔انہوں فروغ اردو کے تئیں اردو ڈائرکٹوریٹ اور ڈائرکٹر کی سرگرمیوں اور کاوشوں کی بھر پور ستائش کی۔ اس تقریب میں پروفیسر آفتاب احمد آفاقی صدر شعبہ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی ، معروف ادیب و ناقدر ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی،معروف ناقد و ادیب سرور حسین نے پروفیسر وہاب اشرفی کی شخصیت اور کارناموں کے مختلف پہلوئوں پر اپنا بیش قیمتی مقالہ پیش کیا جس سے سامعین نے بخوبی استفادہ کیا۔پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے پروفیسر وہاب اشرفی پر بہت ہی جامع اور مدلل باتیں کہیں جس کی صدر جلسہ موصوف بھر پور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتیں کافی جذباتی تھی ان کی گفتگو سے ایسالگ رہا تھا کہ ان کی باتیں دیر تک سنی جائے اور استفادہ کیا جائے ۔پروفیسر آفاقی نے کہا کہ وہاب اشرفی او ررمز عظیم آبادی جیسی شخصیت سے ہی دبستان عظیم آباد کی شناخت قائم ہے۔تقریب کا اختتام ڈائرکٹر احمد محمود صاحب کے تشکراتی کلمات پر ہوا۔

About the author

Taasir Newspaper