ملک بھر سے

سپریم کورٹ میں بلڈوزر کارروائی سے متعلق سماعت 29 جون تک ملتوی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf-24 June

نئی دہلی، 24 جون (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں بلڈوزر کی کارروائی پر سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعی? علماء￿ ہند نے ریاستی حکومت کے حلف نامہ کا جواب دینے کے لیے وقت مانگا، جسے عدالت نے قبول کرلیا۔اس معاملے میں اتر پردیش حکومت نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے جمعیۃ پر معاملے کو غلط رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔ اتر پردیش حکومت نے کہا ہے کہ جن پر کارروائی کی گئی ان کو توڑنے کا حکم کئی ماہ پہلے جاری کیا گیا تھا۔ انہیں خودہٹا لینے کے لیے کافی وقت دیا گیا تھا۔ فساد کا بلڈوزر کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں، اس کا معاملہ الگ ہے۔16 جون کو عدالت نے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے پورے ضابطے پر عمل کیا جائے۔ سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے پیش ہوئے وکیل سی یو سنگھ نے کہا تھا کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں بلڈوزر کی کارروائی پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔ اس معاملے میں، اتر پردیش حکومت کو نوٹس دیا گیا تھا، لیکن اتر پردیش میں عبوری حکم کی عدم موجودگی میں، اس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔سی یو سنگھ نے کہا تھا کہ یہ بد نیتی کا معاملہ ہے، جن کی جائیدادیں ایف آئی آر میں درج ہیں، ان کی جائیدادوں کو چن چن کر منہدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میونسپلٹی ایکٹ کی دفعہ 27 ملک بھر میں شہری منصوبہ بندی کے قانون کے مطابق نوٹس دینے کا انتظام کرتی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے کم از کم 15 دن کا وقت دینا ہو گا، 40 دن تک کارروائی نہ ہونے پر ہی اسے گرایا جا سکتا ہے۔ متاثرین بلدیہ کے چیئرمین سے اپیل کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر آئینی علاج موجود ہیں۔اتر پردیش حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ پریاگ راج اور کانپور میں غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے سے پہلے نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت کے وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ تمام طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ہم نے جہانگیر پوری میں پہلے کے حکم کے بعد حلف نامہ داخل کیا ہے۔ متاثرہ فریقوں میں سے کسی نے درخواست دائر نہیں کی۔ جمعیت علمائے ہند نے درخواست دائر کی ہے جو متاثرہ فریق نہیں ہے۔

About the author

Taasir Newspaper