فن فنکار

متھن چکرورتی اپنی پہلی فلم میں نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والے اداکار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf-15 June

ممبئی، 15 جون : ملٹی اسٹار فلموں کا اہم حصہ رہے متھن چکرورتی کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے فن کاروں کو جہاں کئی برس لگ جاتے ہیں وہیں متھن چکروتی نے اپنی پہلی ہی فلم کے لئے یہ ایوارڈ حاصل کرلیا تھا۔کولکاتا میں 16جون 1952 کو پیدا ہوئے متھن چکرورتی (اصل نام) گورانگ چکرورتی نے گریجویشن کی تعلیم کولکاتا کے مشہور اسکاٹش چرچ سے مکمل کی۔ متھن چکرورتی اپنی زندگی کے شروعاتی دور میں بائیں بازو نظریات سے کافی متاثر رہنے کی وجہ سے نکسلزم سے وابستہ رہے لیکن اپنے بھائی کی بے وقت موت سے انہوں نے نکسلزم کا راستہ چھوڑ دیا اور پنے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا۔سال 1976میں ریلز ہوئی فلم ’مرگیا‘ بطور اداکار متھن چکرورتی کے فلمی کیریر کی پہلی فلم تھی۔ فلم میں انہوں نے ایسے سنتھالی نوجوان ’مرگیا‘ کا کردار ادا کیا جو انگریزی حکومت کے ذریعہ اپنی بیوی کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ فلم میں ان کی شاندار اداکاری کے لئے انہیں قومی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔فلم ’مرگیا‘ کی کامیابی کے باوجود متھن چکرورتی کو بطور اداکار کام نہیں مل رہا تھا۔ بھروسہ تو سبھی دیتے لیکن انہیں کام کرنے کا موقع کوئی نہیں دیتا تھا۔ اس درمیان متھن چکرورتی کو دو انجانے، پھول کھلے ہیں گلش گلشن جیسی کچھ فلموں میں چھوٹے کردار اداکرنے کا موقع ملا لیکن ان فلموں سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔سال 1979میں متھن چکرورتی کو روی کانت نگائچ کی فلم ’سرکَشا‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے فلمی کیریئر کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ ماردھاڑ اور ایکشن سے بھرپور اس فلم میں متھن چکرورتی ایک جاسوس کے کردار میں تھے۔ ان کا یہ انداز فلمی شائقین کو کافی پسند آیا۔ بعد میں 1982 میں اس فلم کا سیکول ’واردات‘ بنائی گئی۔ متھن چکرورتی کی قسمت کا ستارہ 1982 میں ریلیز ہوئی فلم ’ڈسکو ڈانسر‘ سے چمکا۔ ناچ گانے سے بھری اس فلم میں متھن چکرورتی ڈسکور ڈانسر کے کردار میں نظر آئے۔ بی سبھاش کی ہدایت کاری والی بہترین ڈانس، میوزک اور اداکاری سے بھری اس فلم کی زبردست کامیابی نے اداکار متھن چکرورتی کو اسٹار کے طورپر قائم کردیا۔فلم ڈسکو ڈانسر کی کامیابی کے بعد متھن چکرورتی کی شبیہ ایک ڈانسنگ اسٹار کی بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسر اور ڈائرکٹروں نے بیشتر فلموں میں متھن کی ڈانسنگ اداکار کی شبیہ کو بھونایا۔ ان فلموں میں قسم پیدا کرنے والے کی، ڈانس ڈانس جیسی فلمیں شامل ہیں۔اسی (80)کی دہائی میں متھن چکرورتی ان ہدایت کاروں کی پہلی پسند بن گئے جو کم بجٹ کی گھریلو فلم بناتے تھے۔ اس دور میں وہ فلم پروڈیوسروں کے لئے ’غریبوں کا امیتابھ‘ بن کر ابھرے اور کئی کامیاب فلموں میں کام کرکے شائقین کی تفریح کرنے میں کامیاب رہے۔نوے (90) کی دہائی کے آخری برسوں میں انہوں نے فلم انڈسٹری سے کچھ حد تک کنارہ کرلیا اور اوٹی چلے گئے جہاں وہ ہوٹل کا کاروبار کرنے لگے حالانکہ اس دوران انہوں نے فلم انڈسٹری سے اپنا ناطہ پوری طرح نہیں توڑا اور فلموں میں اداکاری کرکے شائقین کو مسحور کرتے رہے۔اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو کریکٹر ایکٹر کے طور پر قائم کرنے کے لئے متھن چکروتی نے خود کو مختلف کرداروں میں پیش کیا۔ اس سلسلہ میں 2005 میں ریلیز ہوئی فلم ’اعلان‘ میں گرے شیڈس ادا کرکے اپنے فلمی کیریئرکی دوسری اننگز شروع کی۔ 2005 میں ہی منی رتنم کی فلم ’گرو‘ میں ان کی اداکاری کی نئی شکل دیکھنے کو ملی۔متھن چکرورتی کے فلمی کیریئر پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ملٹی اسٹار فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ جب کبھی فلم پروڈیوسروں کو ایسی فلموں میں ادکار کی ضرورت ہوتی تو وہ متھن چکرورتی کو نظرانداز نہیں کر پاتے۔متھن نے اپنے فلمی کیریئر میں تمام معروف ادکاروں کے ساتھ کام کیا ہے لیکن پردہ سیمیں پر ان کی جوڑی رنجیتا کے ساتھ زیادہ پسند کی گئی۔ اس کے علاوہ متھن چکرورتی کی جوڑی شری دیوی، پدمنی کولہاپورے اور زینت امان کے ساتھ بھی پسند کی گئی۔ متھن اپنے فلمی کیریئر میں اب تک دو مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے جاچکے ہیں۔متھن چکرورتی فلم اداکار کے ساتھ ساتھ گلوکار، پروڈیوسر، مصنف، سماجی کارکن، کاروباری، ٹیلی ویژن میزبان اور ایک سابق راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں تقریباََ 250 فلموں میں اداکاری کی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper