ملک بھر سے

مودی نے وانجیہ بھون کا کیا افتتاح ، اور نریات پورٹل کا بھی کیاآغاز

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf-23 June

نئی دہلی ، 23جون:
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دہلی میں وانجیئے بھون کا افتتاح کیا اور نریات پورٹل کا آغاز کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزراء پیوش گوئل ، سوم پرکاش اور محترمہ انوپریہ پٹیل بھی موجو د تھیں۔اس موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نئی دہلی میں شہری پر مرکوز حکمرانی سفر کی سمت میں ایک اور اہم قدم دیا گیا ہے جس پر ملک گذشتہ 18 سالوں سے پیش قدمی کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک نے ایک نیا اور جدید کمرشل بلڈنگ کا تحفہ حاصل کرلیا ہے ساتھ ہی ساتھ ایک ایکسپورٹ پورٹل ،ایک فزیکل اور دیگر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بھی حاصل کرلیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج ملک کے پہلے صنعتوں کے وزیر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی برسی بھی ہے انہوں نے کہا کہ ان کی پالیساں ،فیصلے ،حل ،عزم اور ان کی تکمیل آزاد ہندوستان کے لئے سمت دینے میں بہت اہم تھے۔ آج ملک انہیں پوری ہمدردی کے ساتھ خراج عقیدت پیش کررہا ہے۔وزارت کے نئے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہندوستان کاروبار کو آسان بنانے کے اپنے عہد کی تجدید کریاور اس کے ذریعہ زندگی کو آسان بنانے کے لئے ساتھ ہی ساتھ رسائی کو آسان بنانے کے لئے دونوں کے درمیان ایک رابطہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ رابطے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ،ا ور حکومت کی قابل رسائی کو آسان بنایا جائے جو کہ حکومت کی ایک بڑی ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وژن واضح طور پر حکومت کی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔حالیہ ماضی کی کچھ مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نئے کام کے کلچر میں تاریخ کی تکمیل ایس او پی کا ایک حصہ ہے اور اس پر سختی سے کاربند رہا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت کے پروجیکٹس سالوں کے لئے نہیں لٹکتے اور وقت پر مکمل ہوجاتے ہیں تو اسی طرح حکومت کی اسکیمیں اپنے مقاصد تک پہنچ پاتی ہیں۔اس کے بعد ملک کے ٹیکس دہندہ کا احترام کیا جاتا ہے۔اب ہمارے پاس پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کی شکل میں ایک جدید پلیٹ فارم بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وانجیئے بھون ملک کی گتی شکتی کو آگے بڑھائے گا۔وزیر اعظم نے نئے وانجیہ بھون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس دور میں کامرس کے شعبے میں ا ن کی حکومت کی حصولیابیوں کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے یاد دلا یا کہ دنگ بنیاد رکھے جانے کے وقت انہوں نے عالمی اختراعی انڈیکس میں اختراع اور بہتری کی ضرورت پر زور دیا تھا۔آج عالمی اختراعی انڈیکس میں ہندوستان کا 46واں مقام ہے اور وہ مسلسل اس میں بہتری لارہا ہے۔ انہوں نے اس وقت کاروبار کو زیادہ آسان بنانے کے بارے میں بھی بات کی تھی۔ آج 32 ہزار سے زیادہ غیر ضروری تعمیل کو ہٹادیا گیا ہے۔ اسی طرح عمارت کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے وقت جی ایس ٹی بھی نیا تھا۔فی ماہ ایک لاکھ کروڑ جی ایس ٹی کلکشن عام بات ہوگئی ہے۔جی ای ایم کے اعتبار سے اس وقت نو ہزار کروڑ روپے مالیت کے آرڈرس پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ آج 45 لاکھ سے زیادہ چھوٹے صنعت کاروں نے پورٹل پر اندراج کرایا ہے اور 2.25 کروڑ سے زیادہ مالیت کے آرڈرس دیئے گئے ہیں۔وانجیئے بھون کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے وقت ہندوستان نے ہر سال 8 ہزار اسٹارٹ اپس کو تسلیم کیا تھا ، یہ تعداد 1500 وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ووکل فار لوکل مہم ایک ضلع ایک پروڈکٹ اسکیم کے ذریعہ مقامی مصنوعات پر زور دیا ہے۔اس سے برآمدات کو بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے۔ اب ہماری بہت سے مصنوعات پہلی مرتبہ دنیا کے نئے ملکوں کو برآمد کی جارہی ہیں۔ہمارا لوکل تیزی سے گلوبل بن رہا ہے۔انہوں نے بحرین کو برآمد کی جارہی سیتا بھوگ مٹھائی کی مثال پیش کی۔لندن کے لئے ناگالینڈکی تازہ کنگ چلی ،دبئی کے لئے آسام کا تازہ برمی انگور،فرانس کے لئے چندی گڑھ سے قبائلی مہوا مصنوعات اور دبئی کے لئے کارگل کی خومانی کی مثالی پیش کیں۔حال ہی میں کئے گئے اقدامات کو دوہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم برآمدات کے ایکو سسٹم کے ساتھ اپنے کسانوں بنکروں اور روایتی مصنوعات کو جوڑنے کے لئے جی آئی ٹیگنگ پر زور دینے کے علاوہ مدد بھی کررہے ہیں۔انہوں نے پچھلے سال متحدہ عرب امارات اور آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ دیگر ملکوں کے ساتھ ا س سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے بیرون ملکوں میں ہندوستانی سفارتی اداروں کی تعریف کی جو ہندوستان کے لئے چیلنج سے بھرے ماحول کو مواقع میں بدلنے کے لئے سخت محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کے لئے نئی مارکٹ کی نشاندہی کی جارہی ہے اور ان کی ضرورت کی نشاندہی کے بعد مینو فیکچرنگ مصنوعات ملک کی ترقی کیلئے بہت اہم ہے۔آخر میں وزیر اعظم نے ہر محکمہ سے درخواست کی کہ وہ وقتاً فوقتاً پورٹل اور پلیٹ فارم کا جائزہ لیں جو حالیہ وقت میں تیار کئے گئے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper