کھیل

چار گیند بازوں کے ساتھ رنجی فائنل کھیلنے کا رِسک لے کر ٹائٹل جیت لیا: کوچ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 28 June

اندور، 28 جون:کوچ چندرکانت پنڈت، جنہوں نے مدھیہ پردیش کے پہلے رنجی خطاب کی قیادت کی ہے ۔اُن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے فائنل میں ممبئی کے خلاف چار گیند بازوں کے ساتھ میدان میں اترنے کاجوا کھیلا اور بالآخر ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہی۔چندر کانت پنڈت پیر کی رات اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں مدھیہ پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن (MPCA) کی طرف سے فاتح ٹیم کے شاندار استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ آدتیہ سریواستو کی قیادت والی ٹیم نے اتوار کو بنگلورو کے چناسوامی اسٹیڈیم میں گھریلو کرکٹ کے اس سب سے بڑے میچ میں 41 بار کی رنجی چمپئن ممبئی کو زیرکر دیا اور مدھیہ پردیش کے قیام کے بعد ساڑھے چھ دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد اپنا پہلا رنجی ٹائٹل جیت کر اپنے نام کرلیا۔رنجی فائنل کو یاد کرتے ہوئے پنڈت نے کہا کہ میں خود فائنل سے قبل اپنی ٹیم میں گیند بازوں کی تعداد کے حوالے سے مخمصے کا شکار تھا۔ متعلقہ کپتان سریواستو نے مجھے بتایا کہ وہ صرف چار گیند بازوں کے ساتھ میچ نہیں سنبھال پائیں گے اور مجھے انہیں ایک اور تیز گیند باز دینا پڑے گا۔کوچ نے کہا کہ انہوں نے اپنے مخمصے کو دور کرنے کے لیے مدھیہ پردیش کے سینئر کرکٹ ایڈمنسٹریٹر سنجے جگدلے کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ جگدلے نے مجھے بتایا کہ اگر میرا دل کہتا ہے کہ فائنل میں چار گیند بازوں کے ساتھ ایک ٹیم کو میدان میں اتاروں، تو مجھے اس منصوبے کو آگے بڑھانا چاہیے۔پنڈت نے کہا کہ ہم نے چیلنج لینے کا فیصلہ کیا اور چار گیند بازوں کے ساتھ فائنل کھیلنے کا فیصلہ کیا ،کیونکہ اگر ممبئی کی ٹیم اچھے بلے بازوں سے لیس ہے تو جواب میں ہمارے پاس بھی اچھے بلے باز ہیں۔انہوں نے کہا کہ وینکٹیش ایر، اویس خان، کل دیپ سین، پونیت ڈیٹ اور ایشور پانڈے جیسے پانچ اہم کھلاڑی مختلف وجوہات کی بنا پر رنجی فائنل کھیلنے والی مدھیہ پردیش کی ٹیم کا حصہ نہیں تھے، اس کے باوجود ٹیم کے دیگر کھلاڑی رنجی میں کھیلے۔اور ٹرافی جیتنے کا مشن شاندار طریقے سے مکمل کیا۔

About the author

Taasir Newspaper