ملک بھر سے

کشمیری قالین باف ترنگے کے نقش کا قالین وزیر اعظم کو پیش کرنے کا متمنی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 27 June

سری نگر،27 جون : شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والا جذبہ حب الوطنی سے سر شار محمد مقبول ڈار نامی ایک قالین باف نے ترنگے کے نقش کا ایک قالین تیار کیا ہے جس کو وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے75 ویں یوم آزادی کے موقع پر بطور تحفہ پیش کرنے کا متمنی ہے۔بانڈی پورہ کے آشٹنگو علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد مقبول نے یو این آئی کو بتایا: ’قالین پر ترنگا بننا میرا دیرینہ شوق تھا اور میں اس قالین کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر بطور تحفہ پیش کرنے کا خواہشمند ہوں‘۔ان کا ماننا ہے کہ میرے اس کام سے نہ صرف میری دلی مراد پوری ہوگی بلکہ کشمیر کی قالین صنعت کو بھی دوام ملے گا۔محمد مقبول ڈار گذشتہ بیس برسوں سے قالین بافی کے پیشے سے وابستہ ہیں اور ضلع کے مختلف علاقوں میں اس کے قالین بافی کے بیس کارخانے چل رہے ہیں جن میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی قریب پچاس لڑکیاں کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ قالین جس کا سائز24 بائی 30 ہے، تیار کرنے کے لئے مجھے اور ساتھ کام کرنے والی چھ لڑکیوں کو زائد از دو ماہ لگ گئے۔
ان کا کہنا تھا: ’اس قالین کا پس منظر سفید ہے اور اس کا ٹاپ گہرا زعفرانی رنگ کا ہے جبکہ نیچے کا حصہ گہرا سبز ہے‘۔موصوف قالین باف نے کہا کہ ہم ایسے دو مزید قالین تیار کر رہے ہیں لیکن ان کا سائز تھوڑا کم ہے اور ان کے پس منظر میں ’میرا بھارت مہان ہے‘ کا نعرہ نقش ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے قالین تیار کرنے کے لیے ’تعلیم‘ (وہ زبان جس کو پڑھ کر قالین تیار کیا جاتا ہے) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) سری نگر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے قالین تیار کرنے کا آئیڈیا میں نے ہی مذکورہ ادارے کو دیا۔محمد مقبول ڈار نے کہا کہ اس قالین کو وزیر اعظم کو پیش کرنے سے میرے کارخانے میں کام کر رہی لڑکیوں کے ہنر کی پذیرائی بھی ہوگی اور ان کے مالی حالات کو مستحکم کرنے کے بارے میں بھی یہ عمل سود مند ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑکیاں صبح شام کام کرکے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بعد ماہانہ زیادہ سے زیادہ دو سے تین ہزار روپیہ کما سکتی ہیں جس سے آج کے مہنگائی کے دور میں گذارہ مشکل سے ہی ہوتا ہے۔محمد مقبول ڈار نے کہا کہ ہم نے سال 2021 میں ایک شاندار قالین تیار کیا تھا جس کے لئے ہم ایوارڈ کے مستحق تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ایوارڈ کے لئے فارم بھی جمع کیا لیکن ایوارڈ کا کیا ہوا وہ ابھی معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ان کا کہنا تھا: ’جب میں نے سال گذشتہ ’سری نگر ہنر ہاٹ‘ کے دوران کشمیر ثقافت والے قالین کی نمائش کی تو اس کی کافی پذیرائی ہوئی اور میں اچھی کمائی بھی کی‘۔انہوں نے کہا: ’ ترنگے کا قالین بُننے کے بعد گریز وادی کا ’حبہ خاتون‘ پہاڑی بیک گراؤںڈ کے ساتھ قالین تیار کرنا میرا دوسرا بڑا خواب ہے جس پر میں بہت جلد کام شروع کرنے والا ہوں‘۔موصوف قالین باف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں قالین صنعت سے وابستہ ہنر مندوں کی باز آباد کاری کے لئے ایک مخصوص اسکیم متعارف کریں تاکہ ان کے مالی حالات مستحکم ہوسکیں۔

About the author

Taasir Newspaper