اداریہ

ہنگامے کی پیچھے دہشت گردوں کا ہاتھ ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf-21 June

ملک میں پھیلی ’’اگنی پتھ‘‘ کی آگ سرد ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سوموار کے بھارت بند، جسے اپوزیشن کی حمایت حاصل تھی، کے بعد اب 24 جون کو سنیوکت کسان مورچہ(ایس کے ایم)نے ملک گیر بند کی کال دی ہے۔ بندکا سب سے زیادہ اثردہلی ور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دیکھا گیا۔دہلی، نوئیڈا، گڑگاؤں سمیت این سی آر کی کئی سڑکیں گھنٹوں جام رہیں۔ اس درمیان پولس بھی اپنا کام کرتی رہی۔ ٹرین کے سامنے ہنگامہ کرنے والے 16 افراد کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے، سلمان خورشید، رندیپ سرجے والا، شکتی سنگھ، عمران پرتاپ گڑھی نے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا۔ انڈین یوتھ کانگریس کے کارکن دہلی کے شیواجی برج ریلوے اسٹیشن پر سری گنگا نگر (راجستھان) جا نے والی ٹرین کوگھنٹوں روکے رکھا۔ کانگریس کارکنوں کو وہاں سے ہٹانے کے بعد ہی ٹرین آگے بڑھ سکی۔ کانگریس لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم کو پولیس نے غازی آباد میں گھر میں نظر بند کر دیا۔ وہ دہلی ستیہ گرہ تحریک میں شامل ہونے جا رہے تھے۔ کانگریس نے دہلی کے کناٹ پلیس میں بھی مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ نوئیڈا سے دہلی کو جوڑنے والی سڑک پر بھی جام رہا۔ نوئیڈا ایکسپریس وے پر مہامایا پل سے نوئیڈا گیٹ تک 2 کلومیٹر طویل جام تھا۔ جھارکھنڈ میں تمام اسکول بند رہے ۔جے اے سی کلاس 11 کا پیپر ہونا تھا ،جو اب بعد میں ہوگا۔ راجستھان حکومت کے تمام وزیر دہلی پہنچ گئے تھے۔ راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت نے کہا کہ جیل بھرو احتجاج کرنا پڑے تو بھی کیا جائے گا۔کرناٹک کے شیوموگا میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے ٹرین کی آمد و رفت کو متاثر کیا۔انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ مغربی بنگال ریاست میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔بند کے دوران بہار کے 20 اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کو بند رکھا گیا تھا۔یہ 20اضلاع وہی ہیں ، جہاں پچھلے دنوں طلبا جے ذریعہ توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔لیکن منگل کے روز سے انٹر نیٹ سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔ کئی اضلاع میں نافذ حکم امتناعی کو ہٹا لیا گیا ہے۔ تاہم بہار سے چلنے والی یا بہار سے ہوکر گزرنے والی126 ٹرینون کے ابھی بھی کینسل رہنے کی وجہ کرعام زندگی ابھی پوری طرح نارمل نہیں ہو سکی ہے۔حالانکہ کئی اہم ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہوچکی ہے۔ لیکن تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ’’اگنی پتھ‘‘ کو لیکر پیدا شدہ حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ پریشانی ٹرین سے سفر کرنے والوں کو ہو رہی ہے۔بہت ساری ٹرینوں کے کینسل ہو جانے کی وجہ سے نئی دہلی کے ساتھ ساتھ ملک کے بیشتر ریلوے اسٹیشنوں پر لوگ اپنی فیملی، جن میں چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی ہیں، چار چار دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔
ادھر دوسری جانب دیکھا جائے تو ’’اگنی پتھ‘‘ منصوبہ کے پیش نظر ملک بھر میں نوجوانوں کے ہنگامے کے بعد بیک فٹ پر آنے والی مرکزی حکومت نے اپنے فیصلے کو لے کر بڑا یو ٹرن لیا ہے۔ دو سال تک کورونا کی وجہ سے فوج میں بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے فوج میں بحالی کے لئے طے شدہ عمر کی اوپری حد کو عبور کرنے والے نوجوانوں کو مرکزی حکومت نے بڑی راحت دی ہے۔ا ب ایسے نوجوان بھی ’’اگنی پتھ‘‘ کے راستے فوج میں بھرتی ہو سکیں گے، جن کی عمر 23 سال ہے۔یعنی حکومت نے اس منصوبہ کے تحت امیدواروں کی عمر کی حد 21 سال سے بڑھا کر 23 سال کر دی ہے۔ اب تک حکومت نے بھرتی کے لیے عمر ساڑھے 17 سال سے 21 سال مقرر کی تھی۔حالانکہ حکومت نے عمر کی اس حد کو صرف رواں سال کے لیے ہی بڑھایا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے فوج میں کوئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے حکومت نے ’’اگنی پتھ‘‘ منصوبہ کے تحت فوج میں بھرتی کی تیاری کرنے والے 23 سال تک کے نوجوانوں کو یہ موقع دیا ہے۔اس کے علاوہ فوج میں بھرتی کے لیے تعلیمی قابلیت پہلے جیسی ہی رہے گی۔ چنانچہ اب میٹرک کی جگہ 12ویں پاس امیدوار بھرتی کے لیے اہل ہوں گے۔ امیدواروں کا انتخاب فزیکل اسٹینڈرڈ اور فزیکل ایفیشینسی ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جو 4 سال تک ’’اگنی ویر‘‘ کے طور پر فوج میں خدمات انجام دے سکیں گے۔لیکن حکومت کے تمامتر اعلانات کے باوجود حسب توقع ملک کی عام زندگی پٹری پر آتی نظر نہیں آ رہی ہے۔بہار سے تعلق رکھنے والے، بی جے پی کوٹا کے ایک وزیر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ’’اگنی پتھ‘‘ کی مخالفت کے پیچھے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔مگر وزیر موصوف کے اس سیاسی بیان کا حقیقت سے شاید ذرا سا بھی واسطہ نہیں ہے۔

About the author

Taasir Newspaper