دنیا بھر سے

ارجنٹائن میں معاشی بحران مزید گہرا، وزیر خزانہ مستعفی

Written by Taasir Newspaper

بیونس آئرس، 03 جولائی ۔ ارجنٹائن میں گہرے معاشی بحران اور سیاسی بحران کے درمیان، وزیر خزانہ مارٹن گزمین نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ملک کے قرضوں کی تنظیم نو پر مذاکرات میں اپنے ملک کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے اس اقدام سے صدر البرٹو فرنانڈیز کی حکومت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔قابل ذکر ہے کہ تیز افراط زر کے درمیان ارجنٹائن کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ڈیزل کی قلت کے خلاف ٹرک ڈرائیوروں نے احتجاج کیا ہے۔ فی الحال گزمین کے جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔گزمین نے صدر فرنانڈیز کو لکھے سات صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ “میں بطور وزیر خزانہ اپنا استعفیٰ آپ کو پیش کرتا ہوں۔” انہوں نے یہ خط ٹوئٹر پر بھی شیئر کیا۔ اس میں انہوں نے انتظامیہ کی اندرونی لڑائی کو بے نقاب کیا ہے۔ادھر نائب صدر کرسٹینا فرنانڈیز نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نائب صدر خود صدر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ارجنٹینا برسوں سے ڈالر کی کمی سے نبرد آزما ہے۔ جزوی طور پر اعلی افراط زر کے درمیان ارجنٹائن کی اپنی کرنسی پر عدم اعتماد پیدا ہوا ہے۔ مہنگائی 60 فیصد سے زیادہ کی سالانہ شرح سے چل رہی ہے اور ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ یہ شرح بدستور بدتر ہوگی۔ ٹرک ڈرائیوروں کی ہڑتال سے معاشی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان میں بندرگاہوں پر اناج کی سپلائی بھی شامل ہے۔

About the author

Taasir Newspaper