دنیا بھر سے

العلا گورنری نے العلا ٹرین کے ڈیزائن کے معاہدے پر دستخط کردیے

Written by Taasir Newspaper

ریاض،3جولائی-س) سعودی عرب کی العلا گورنری کے شاہی کمیشن نے العلا میں جامع ترقی کی کامیابی کو بڑھانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک رہ نما “سسٹرا” گروپ کے ساتھ “العلا ٹرین” کے ڈیزائن کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ العلا کے علاقے کو متعدد سٹیشنوں اور ٹریکس کے ذریعے منسلک کرے گا۔ اس کے علاوہ ٹرین تاریخی ورثے کے، تاریخی مقامات اور العلا کے اہم سیاحتی مقامات سے گذرے گی۔العلا ٹرین کے ڈیزائن کے معاہدے کا اعلان آئندہ دو دہائیوں کے لیے مملکت میں تحقیق، ترقی اور اختراع کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امنگوں کے مطابق ہے، جو کئی اہم ترجیحات پر مبنی ہیں۔ ان میں ماحولیاتی پائیداری، بنیادی ضروریات، مستقبل کی معیشتیں شامل ہیں۔ “العلا کا وڑن” اپنے پروگراموں، اقدامات اور منصوبوں کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقت اور قومی قیادت کو فروغ دے گا۔”العلا ٹرین” منصوبہ وقت کے ذریعے سفر” اسکیم کے بنیادی منصوبوں میں سے ایک ہے اور العلا گورنری کے ترقیاتی پروگرام کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔اسے فنون اور ورثے کے لیے ایک معروف عالمی منزل میں تبدیل کرتے ہوئے ثقافت اور فطرت کے شعبوں میں مملکت کے وڑن 2030 کے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانا ہے۔العلا کے رائل کمیشن کا مقصد ٹرین پروجیکٹ کے ذریعے نقل و حرکت میں پائیداری کو بہتر بنانا ہے جس میں سڑکوں پر بھیڑ کو کم کرنا اور شور کی سطح کم کرنا شامل ہے۔ یہ پائیدار برقی توانائی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ مراکز، محلوں، ثقافتی مقامات اور سیاحوں کو جوڑ نے کا بھی باعث بنے گا۔ ٹرین منصوبہ العلا میں سیاحت اور قدرتی ماحول تک رسائی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔
العلا ٹرین ٹریک کی لمبائی 50 کلومیٹر ہے۔ جنوب میں العلا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے شمال میں الحجر شہر تک چلائی جائے گی۔ یہ ٹرین ان روٹس پرچلائی جائے گی جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کا بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلا میوزیم کہلاتا ہے۔رائل کمیشن برائے العلا میں آپریشنز سیکٹر کے سربراہ معتز بن عبدالعزیز کردی نے کہا کہ العلا ٹرین العلا گورنریٹ میں پائیدار اور جامع ترقی حاصل کرنے کے فریم ورک میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جدید پبلک ٹرانسپورٹیشن رائل کمیشن کے منصوبوں کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے جس کا مقصد العلا کو عالمی سیاحت کی منزل بنانا اور سیاحوں کو اس طرف راغب کرنا ہے۔معتز کردی نے معاہدے پر دستخط کے بعد ایک بیان میں مزید کہا کہ ٹرین کی پٹرییں عوامی نقل و حمل کے ایک مربوط نیٹ ورک کا حصہ ہوں گی۔جس کا ماحول پر کم اثر پڑے گا۔
العلا میں مختلف مقامات کے درمیان ہر ایک کے لیے استعمال کرنا آسان ہے۔ ہمارا مقصد العلا کے منفرد قدرتی ماحول میں سیاحوں اور خدمت کا تجربہ پیدا کرنا ہے۔توقع ہے کہ پہلے مراحل کا ڈیزائن 2023 میں مکمل ہو جائے گا، کیونکہ ٹرین کے منصوبے کو کئی پٹریوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

 

About the author

Taasir Newspaper