ملک بھر سے

اُودے پور درزی قتل، 32 سینئر پولیس افسران کا تبادلہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 1st July

اودے پور، یکم جولائی : درزی کنہیا لال کے مبینہ قتل کے بعد انسپکٹر جنرل اور ادے پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے 32 افسران کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ادے پور پولیس 48 سالہ کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنی جب اس نے بی جے پی کے معطل لیڈر نوپور شرما کی حمایت میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر دھمکیوں کی شکایت کی، جس کے پیغمبر اسلام ؐ کے بارے میں تبصرے نے بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا۔ اسے منگل کے روز دو افراد نے قتل کر دیا تھا جنہوں نے اس قتل کے واقعہ کا ویڈیو بھی بنایا تھا۔ بعد ازاں ریاض اختر اور غوث محمد نے ایک اور ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے قتل کے بارے میں اطلاع دی تھی،اور وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور پانچ دیگر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس حساس معاملہ کی تحقیقات ملک کی اعلیٰ انسداد دہشت گردی ایجنسی، نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو سونپ دی ہے۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ قاتلوں کے پاکستان میں قائم گروپ دعوتِ اسلامی سے مبینہ تعلقات تھے اور ان میں سے ایک 2014 میں کراچی بھی گیا تھا۔ راجستھان پولیس کے سربراہ ایم ایل لاتھر نے کہا کہ درزی کا قتل دہشت گردی کی ایک منصوبہ بند کارروائی تھی اور اس میں مزید لوگ ملوث تھے۔مرکزی ملزمان تنظیم دعوت اسلامی سے رابطے میں تھے۔ ان میں سے ایک 2014 میں تنظیم سے ملنے کے لیے پاکستان میں کراچی بھی گیا۔

 

About the author

Taasir Newspaper