بہار

چرارنی پل کی تعمیر نہ ہونے سے ارریہ سے رابطہ منقطع۔

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Mosherraf- 1st July

 سیلاب کےآبی سطح میں اضافے سے آس پاس کے باشندگان میں خوف ودہشت کا ماحول۔
ارریہ: بہار سرکار بھلے ہی پل پلیا کو لیکر بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہو لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بیاں کرتی ہے اس پل کی آج تک دوبارہ مرمت نہ ہوسکی جو ایک بار بن کر خستہ حال ہوگیا اور جس کے اوپر سے پانی بہنے کی وجہ سے ہر سال سیلاب کے موسم میں گاؤں اور شہر سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ بھی سیلاب کا پانی آنے سے یہاں اور آس پاس کے لوگوں کا رابطہ ضلع اور بلاک ہیڈ کوارٹر سے بالکلیہ منقطع ہوچکا ہے جس کے سبب کھانے پینے کے سامان کیلئے جان جوکھم میں ڈال کر لوگ اس پار سے اس پار آتے جاتے ہیں۔گھنی آبادی پر مشتمل بوچی پنچایت کے یہ دونوں وارڈوں کو ضلع کے اہم شاہراہوں سے جوڑنے والا یہ واحد پل ہے جو عرصہ پہلے زمیں بوس ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ارریہ ضلع کے ارریہ بلاک کے تحت بوچی پنچایت کے چرارنی گاؤں میں وارڈ نمبر 1 اور 2 کے ایک طرف پرمان ندی بہتی ہے تو دوسری طرف چھوٹی دھار(بکراندی) ہے دھار کے اوپر برسوں پہلے پل تعمیر کی گئی تھی لیکن چند سالوں میں ہی پل بیچ سے ہی نیچے کی طرف دھنس گیا۔جس کی وجہ سے بارش اور سیلاب کے دنوں میں آنا جانا دشوار ہوجاتاہے مقامی لوگوں کی مانیں تو بارش اور سیلاب کے دنوں میں زندگی عذاب جیسی بن جاتی ہے۔
پیکس چیئرمین عمران عادل نے قومی تنظیم کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی منصوبہ کے تحت ضلع کے اہم شاہراہوں سے جوڑنے کیلئے اس گاؤں میں سڑک بنائی گئی تھی اور سیمانچل گاندھی مرحوم تسلیم الدین کی کوششوں سے دھار کے اوپر پل بنایا گیا تھا عرصہ گزرنے کے بعد پل خراب ہوگیا دوبارہ پل کی تعمیر کیلئے چھوٹے سے لیکر بڑے ادھیکاری تک گیا لیکن بہت دوڑ بھاگ کرنے کے بعد سوائے ناکامی کے مجھے کچھ اور ہاتھ نہ آیا انہوں نے کہا کہ کئی بار کوشش کی گئی میں نے ایم پی ایم ایل اے سے بھی رابطہ کیا لیکن تسلی کے دو بول کے علاوہ وہ لوگ کچھ نہ کر سکے۔
مقامی باشندگان مفتی محمد ابوذر مظاہری، سرپنچ کھلانند یادو، محمد ریان وارڈ ممبر وارڈ نمبر 1،محمد علی وارڈ ممبر وارڈ نمبر 2 ،مولانا غالب مظاہری ان لوگوں نے نمائندہ کو بتایا کہ ہم لوگوں نے بارہا یہاں کے سیاسی نمائندوں پر زور دیا کہ خطروں کو دعوت دیتے اس پل کی تعمیر کردی جائے لیکن کہاوت مشہور ہے” اپنے دیش کے نیتاؤں کو بھولنے کی بیماری ہے” الیکشن کے وقت ہمارے بڑے نمائندے بڑے بڑے وعدے تو کرتے ہیں لیکن الیکشن ختم ہونے کے بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں علاقے کا دورہ تک کرنا پسند نہیں کرتے انہوں نے مزید بتایا کہ اگر اس پل کو سرکار سیلاب کے آنے سے پہلے تعمیر کرتی تو ہم لوگوں کو ارریہ شہر آنےجانے میں کافی سہولت ہوتی لیکن بدقسمتی سے سرکار حرکت میں نہیں آئی۔
ہم نے سرکار سے کافی بار گزارش کی نیتاؤں کے پاس گئے اور ضلع انتظامیہ سے بھی التجا کی کہ اس پل کو جلد از جلد بنایا جائے کئی بار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی توجہ دلائی گئی تاکہ ہم لوگوں کو راحت مل سکے لیکن ضلع انتظامیہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔
ہم ایک بار پھر ضلع انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ اس پل کا تعمیری کام شروع کیا جائے تاکہ ہم لوگوں کو اور مزید مشکلات سے دو چار ہونا نہ پڑے۔ مقامی لوگوں نے بھی انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ مقام پر پل کی تعمیر عمل میں لائی جائے تاکہ ان کی پریشانی کم ہو سکے اور کسی ناگہانی حالات سے دو چار نہ ہونا پڑے۔

About the author

Taasir Newspaper