Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

’ایک بیٹا جہاز سے لٹک کر ہلاک ہوگیا، دوسرے کا کوئی نام ونشان نہیں‘ فرار کی کوشش میں امریکی کارگو جہاز سے گرنے والے افغانی کا والد منظر عام

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th Aug

کابل14اگست: افغانستان سے تباہ کن امریکی انخلاء کی پہلی برسی قریب آتے ہی ایک انتہائی ہولناک سانحے کا شکار ہونے والے ایک نوجوان کی المناک موت کا واقعہ بھی ذہن میں تازہ ہو رہا ہے۔17 سالہ زابی رضائی ان مایوس شہریوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 16 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر جاتے ہوئے امریکی فضائیہ کے C-17 طیارے کے لینڈنگ گیئر اور وہیل کور کو پکڑ لیا۔ جہاز کے زمین سے فضا میں بلند ہوتے ہی وہ گر گیا۔زابی رضائی کے والد نے اپنے بیٹے کی المناک موت کے بارے میں لندن سے شائع ہونے والے’ سنڈے ٹائمز‘ سے بات کی۔محمد رضائی نے کہا کہ مقتول کا 19 سالہ بھائی ذکی جو اپنے بھائی کی طالبان سے فرار کی کوشش میں شامل تھا کا اس کے بعد کوئی پتا نہیں۔42 سالہ رضائی نے کہا کہ “میں تکلیف میں ہوں، میں غصے میں ہوں، لیکن میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنے بیٹے کو دفن کردیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میرا دوسرا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا ہے۔”خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے ڈرامائی قبضے اور امریکی فوج کے فرار کے دوران جہازوں سے لٹک کر گرنے کے واقعات کی ویڈیوز نہ صرف جنگل کی آگ کی طرح پھیلیں بلکہ ان واقعات نیایک بار پھر دنیا کی توجہ جنگ زدہ افغانستان اور اس میں موجود افراتفری کی طرف مبذول کرائی۔کم از کم پانچ ممکنہ مسافرفرار کی کوشش میں جہازوں سے گر کر ہلاک ہوئے، حالانکہ صحیح تعداد کبھی قائم نہیں ہو سکی ہے۔دو افراد رہائشی محلے میں گرے اور ایک گھر کی چھت پر گرا اور ایک لاش قطر میں اترتے وقت طیارے کے پہیے سے نیچے گری تھی۔آٹھ بچوں کے والد رضائی نے غصے سے کہا “میں پائلٹ کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں اور امریکیوں پر الزام لگاتا ہوں جو ہوائی اڈے کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔”انہوں نے مزید کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ جو لوگ جہاز سے چمٹے ہوئے تھے، انہوں نے واقعی یہ سوچا تھا کہ طیارہ جا رہا ہے۔”دونوں نوجوانوں نے اپنے والدین کو ملک سے فرار ہونے کے اپنے منصوبے کے بارے میں نہیں بتایا۔ ان کے والد نے کہا کہ “مجھے معلوم ہوا جب مجھے ایئرپورٹ سے ان کا فون آیا۔ وہ پرجوش تھے اور ملک سے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاز میں سوار ہونے والے ہیں۔ میں ان کے لیے خوش تھا کہ وہ ایک محفوظ مقام کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، کیونکہ ہم سب بہت خوفزدہ تھے کہ طالبان کے کنٹرول کے ساتھ یہاں کیا ہوگا۔” کال صرف ایک یا دو منٹ تک جاری رہی۔ یہ میری ان سے آخری بار بات تھی۔چند منٹ بعد ایک اجنبی نے اس کے بیٹے کی موت کی اطلاع دینے کے لیے فون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے اسے کٹا ہوا پایا اور کسی نے اس کے ننگے جسم پر اسکارف ڈالا ہوا تھا اور اس کا نچلا حصہ کچلا ہوا تھا‘‘۔جہاں تک دوسرے بیٹے کا تعلق ہے تو اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ کابل کے اسپتالوں اور جیلوں میں باپ کی تلاش کے باوجود ان کے بڑے بیٹے ذکی کی موجودگی کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ آج تک مجھے ذکی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ اس کی اہلیہ شدید صدمے میں ہے۔دل گرفتہ افغانی نے کہا کہ میرے دونوں بچے نہایت شریف تھے۔ انہیں فٹ بال کھیلنا پسند تھا۔وہ پڑھے لکھے تھے، ذکی انگریزی بول سکتے تھے اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو تھوڑا بہت سکھایا کرتے تھے۔یہ خاندان غربت اور بدحالی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، کیونکہ طالبان کی گرفت نے ملک کی نصف آبادی کو فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیا ہے۔رضائی نے کہا کہ اپنے بیٹوں کی مدد کے بغیر وہ مزید پھلوں اور سبزیوں کی دکان نہیں چلا سکتے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اپنے بچوں پر غصہ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ مجھے اس توانائی کو اپنے باقی بچوں کی کفالت کا راستہ تلاش کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا، لیکن میں یہ جاننے کے لیے کچھ بھی کروں گا کہ ذکی کے ساتھ کیا ہوا۔

About the author

Taasir Newspaper