آرٹیکل

بی جے پی کا استحکام کانگریس کا مرہون منت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 5th Aug

بےنام گیلانی

آج جب بی جے پی حکومت ای ڈی ،انکم ٹیکس اور سی بی آئی کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کر رہی ہے تو کانگریسی سڑکوں پر اتر ائے،شور و ہنگامہ شروع کر دیا،گلے پھاڑ پھاڑ کر چلانے لگے اور کہنے لگے کہ بی جے پی یہ غلط اور غیر آئینی عمل انجام دے رہی ہے۔جب نیشنل ہیرالڈ سے متعلق مقدمہ میں راہل گاندھی سے مسلسل کئی روز تک تفتیش کی گئی تو کانگریسی یہ دہائی دینے لگے کہ یہ سرا سر ظلم ہے ،یہ الزام تراشی ہے۔اس طرح بی جے پی کانگریس کے بالکل ہی خاتمہ کے لئے کوشاں ہے۔اس طرح ہندوستان میں جمہوریت کا جنازہ اٹھایا جا رہا ہے۔ائین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔صرف اور صرف من مانے طریقے سے ڈکٹیٹرشپ قائم کیا جا رہا ہے۔جس سے وطن عزیز میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ بہت قوی ہے۔چنانچہ بی جے پی حکومت کا خاتمہ اب ناگزیر ہے۔یہ نیک کام عوام ہی اپنی رائے دہی کے ذریعہ انجام دے سکتے ہیں۔دوسری جانب کانگریسی ارض ہند پر فروغ پاتی مذہبی منافرت کا ذکر خیر کرتے ہوئے اپنے سیکولر ہونے کے دعوے بڑے ہی مستحکم طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے عہد حکومت میں روئے ہند پر کم و بیش سوا لاکھ فرقہ وارانہ فسادات عمل پذیر ہوئے۔ان فسادات کینذر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانان ہوئے۔اس پر ستم ظریفی یہ کہ کسی بھی کانگریسی نے نہ مسلمانوں کی لاشوں پر کبھی آنسو بہایا اور نہ ہی افسوس کا اظہار کیا۔بلکہ دور بیٹھے ایک گوشے میں تالیاں بجاتے رہے کہ اب تو مسلمان کا ووٹ کانگریس کے حق میں جانا طئے ہے۔انہوں نے اکثر یہی پروپگنڈہ کیا کہ ان فسادات میں فرقہ پرست سنگھیوں کا ہاتھ ہے۔ اگر نگاہ عمیق سے دیکھا جائے تو کانگریسی اس وقت بھی بھرم میں مبتلا تھے اور فی زمانہ بھی بھرم میں مبتلا ہیں۔وہ یہی تصور کرتے ہیں کہ مسلم قوم جاہل بھی ہے اور ناسمجھ بھی۔اس لئے اسے جو سمجھا دیا جائے گا وہ من و عن وہی کرنے کو مجبور ہوں گے۔کانگریسیوں کا یہ تصور کسی حد تک حق بجانب بھی تھا۔کیونکہ مسلمانوں ہی کی ناسمجھی کے باعث کانگریس کم و بیش پچاس سالوں تک اقلیم ہند پر برسر اقتدار رہی۔لیکن مکر و فریب کی حکومت کتنے دنوں تک قائم رہ سکتی تھی۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد کانگریس بالکل برہنہ ہو گئی۔اس کی ساری حقیقت اجاگر ہو کر رہ گئی اور عوام خصوصاً مسلمانان ہند کانگریس سے بالکل برہم ہو گئے۔نتیجہ کے طور پر کانگریس ایسی زوال پذیر ہوئی کہ معاصر دور تک اس کی کمر سیدھی نہیں ہو پائی ہے۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد کا نگریسیوں نے اس کے لئے وزیر اعظم وقت پی وی نرسمہا راؤ کو یہ کہتے ہوئے مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ تو آر ایس ایس کے سیوک ہیں اور کانگریس میں کانگریس کو تباہ و برباد کرنے کے لئے انہیں کانگریس میں بھیجا گیا تھا۔چلئے اگر کانگریس کے اس دعوے پر یقین بھی کر لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت میں تن تنہا نرسمہا راؤ ہی نہیں تھے۔بلکہ کانگریس کے کئی بڑے بڑے باوقار لیڈران نرسمہا راؤ کی کابینہ میں شامل تھے اور وزارت کا مزہ لے رہے تھے۔جب یہ راز افشاء ہو گیا کہ نرسمہا راؤ آر ایس ایس کے ایجنٹ کے طور پر کانگریس میں شامل ہیں تو اپنی سیکولر شبیہ کی حفاظت کے لئے اس کابینہ میں شامل تمام سیکولر ذہن کانگریسی کو مستعفی ہو جانا چاہئے تھا لیکن ایسا عمل پزیر نہیں ہوا اور تمام کانگریسی وزرا پاور اور وزارت سے استفادہ کرتے رہے۔اس کے بعد بابری مسجد کی شہادت کے لئے صرف نرسمہا راؤ کو مورد الزام ٹھہرانا کہاں تک درست ہوگا ۔اس کا فیصلہ خود قاری حضرات کر سکتے ہیں۔کمال تو یہ ہے کہ وہ وزراء کانگریس کی دوسری حکومت میں بھی وزارت میں شامل رہے۔کیا آر ایس ایس کے ایجنٹ نرسمہا راؤ کی کابینہ میں شامل دیگر وزراء کو سیکولر کہا جا سکتا ہے کہ انہیں کانگریس کی دیگر حکومت میں بھی شامل کر لیا گیا۔اخر ایسے کانگریسی کس منہ سے خود کے سیکولر ہونے کے دعوے کرتے رہے۔مجھے تو ان کی عقل و بصیرت پر ترس آتی ہے۔ان کی نگاہ میں بھی مسلمانان ہند احمق بیوقوف،جاہل اور نادان ہی رہے۔حالانکہ ان کے اس بھرم کا خمیازہ کانگریس کو زبردست طریقے سے بھگتنا پڑا۔کیونکہ اگلے ہی انتخاب میں کانگریس کو زبردست شکست سےدوچار ہونا پڑا تھا۔جبکہ کانگریس نے کئی خوش نما مسلم چہرے کو بھی میدان انتخاب میں اتارا تھا کہ اسے روایتی مسلم ووٹ حاصل ہو سکے۔کانگریس کو یہ یقین تھا کہ مسلمانوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے۔وہ بڑے بڑے زخموں کو بھی کچھ ہی دنوں میں فراموش کر جاتے ہیں اور پھر معمول کی زندگی جینے لگتے ہیں۔اس دور میں کانگریس نے خوب خوب خوف کا کاروبار کیا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے خوف سے وہ مسلمانوں کو دہلاتی رہی،ڈراتی رہی اور مسلمانوں کے چہرے کے بل پر ووٹ حاصل کرنے کا خواب سنجوتی رہی۔لیکن جب انتخاب کا نتیجہ سامنے آیا تو اس کا سارا بھرم کافور ہو گیا۔سپنوں کا شیش محل چکنا چور ہو کر رہ گیا۔سارے مسلم چہرے دھول چاٹتے نظر آئے اور بیشتر کانگریسی لیڈران شکست خوردہ ہو کر منہ چھپانے کی جگہ تلاش کرنے لگے۔یہ ہوا کانگریس کی دوغلی پالیسی کا کریہہ انجام ۔کانگریس کا دوغلا پن صرف اسی وقت مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آیا بلکہ یہ دوغلا پن تو آزادی کے وقت ہی سے ہے۔جس بابری مسجد کو سنگھیوں نے بہت بعد میں شہید کیا۔اسے سب سب سے پہلے کشمیری برہمن پنڈت نہرو نے مقفل کروایا۔پنڈت نہرو نے ایسا کس بنیاد پر کروایا یہ اس ناچیز کی فہم سے پرے ہے۔ جبکہ مذکورہ مسجد میں کم و بیش 350 سالوں سے پابندی کے ساتھ نمازیں ادا کی جا رہی تھیں ۔چند شرپسند سنگھیوں نے رات کے وقت چھپپے چوری وہاں ایک مورتی رکھ دی تھی۔برہمن پنڈت صرف اس فرضی بنیاد پر اتنی قدیم مسجد کو مقفل کروا دیا۔یہاں پنڈت نہرو کا سیکولر کردار خوب خوب سمجھ میں آگیا جس کا وہ اس وقت بھی دعویٰ کر رہے تھے اور کانگریسی آج بھی دعویٰ کرتے نہیں تھکتے ۔یہ دعویٰ کس حد تک حق بجانب ہے اس کا فیصلہ عوام خصوصاً مسلمانان ہند از خود کر سکتے ہیں۔آزادی کے بعد جب قومی زبان کا مسئلہ کھڑا ہوا تو اس وقت ہندوستان کی صرف دو ہی زبانیں مقابلے میں کھڑی تھیں۔وہ دو زبانیں دیوناگری(ہندی) اور اردو تھیں۔دیوناگری کو جنوبی ہندوستان اور آسام کے عوام نے قبول کرنے سے سرے سے انکار کر دیا۔
لیکن چونکہ پنڈت نہرو وزیر اعظم تھے اور ولبھ بھائی پٹیل جیسے سخت گیر انسان وزیر داخلہ تھے ۔ہاں وہاں ایک اور انسان کا کردار رونما ہوا وہ تھے اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا ازاد ۔ہزار حجت کے بعد ووٹنگ کی نوبت آئی ۔
وزیر اعظم کی زبان خالص اردو تھی اور وہ تحریری امور بھی اردو ہی میں انجام دیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ موصوف کی شادی کا کارڈ بھی اردو زبان ہی میں شائع ہوا تھا۔لیکن آپ نے اس وقت اردو کے عوض دیوناگری (ہندی)کی پیروی کی۔وہاں مولانا آزاد نے بالکل خامشی اختیار کر لی۔کیونکہ شاید پنڈت نہرو کے سامنے موصوف کو لب کشائی کی ہمت و جراءت نہیں تھی۔چنانچہ مولانا آزاد کے باہم تمام مسلمانوں کی زبان خاموش ہو گئی۔اس خاموشی کا سبب تقسیم ہند بھی تھا اور 1947کا کل ہند پیمانے پر عمل پذیر ہوا روح فرسا فرقہ وارانہ فساد بھی ہو سکتا ہے۔ جس میں ہزاروں ہزار انسان لقمہء اجل ہو گئے۔ان فوت شدہ لوگوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔چنانچہ مسلمانوں کو یہ خوف تھا کہ کہیں نہ لسانی بنیاد پر پھر وہی قتل و غارتگری کا روح فرسا و دل خراش منظر پیش نگاہ اجائے۔ایک جانب خوف کا ماحول تھا تو دوسری جانب اکثریت میں ہونے کا غرور اور پاور کا نشہ ۔لیکن صد افسوس اتنا کچھ ہونے کے باوجود پنڈت نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل نے مل کر بھی دیوناگری(ہندی) زبان کو قومی زبان بنانے سے قاصر رہے۔جب ووٹنگ عملپذیر ہوئی تو جو نتیجہ سامنے آیا اس میں اردو اور دیوناگری دونوں ہی زبانوں کو ووٹ مساوی آئے ۔یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ ارض ہند پر مسلمان کل بھی اقلیت میں تھے اور آج بھی اقلیت ہی میں ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ووٹنگ میں اردو کو غیر مسلموں کا ووٹ بھی بڑے پیمانے پر حاصل ہوا۔جب ووٹ دونوں جانب مساویانہ پڑے تو اب فیصلہ کن ووٹ صدر مملکت راجندر پرساد کا ہونا تھا۔چونکہ راجندر پرساد کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی اور آپ کی بھی روزمرہ کی زبان اردو ہی تھی چنانچہ پنڈت نہرو کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں صدر مملکت اپنا فیصلہ کن ووٹ اردو کے حق میں نہ دےدیں۔اس لئے سردار پٹیل کی ایما پر پنڈت نہرو دوڑے دوڑے راجندر پرساد کے پاس پہنچے اور اپنا ووٹ دیوناگری کے حق میں دینے کے لئے مجبور کیا۔بہر حال راجندر پرساد بھی ایک غیر مسلم ہی تھے۔چنانچہ موصوف نے اپنا ووٹ دیوناگری کے حق میں کیا۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود متذکرہ بالا تمام قوتیں مل کر بھی دیوناگری کو قومی زبان کی حیثیت دلانے سے قاصر رہیں۔اس کا سبب یہ تھا کہ جنوبی ہندوستان سے دیوناگری کی مخالفت اس شدت سے ہونی شروع ہو گئی کہ اگر اسے قومی زبان کی حیثیت دے دی جاتی تو خانہ جنگی چھڑ جانے کا اندیشہ غالب تھا۔اتنی کوششوں کے بعد وزیر اعظم اور وزیر داخلہ مل کر بھی دیوناگری زبان کو صرف کام کاجی زبان ہی کا درجہ دلانے میں کامیاب ہو سکے۔ذہن نشیں رہے کہ آج جو اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جا رہا ہے۔اس کی بنیاد پنڈت نہرو اور پٹیل نے مل کر اسی وقت ڈال دی تھیں جو آگے چل کر اس نوبت تک آپہنچی ہے۔متذکرہ بالا تمام واقعات سے بھی کانگریس اور کانگریسیوں کا سیکولر کردار صاف طور پر عیاں ہوتا ہے۔ کانگریس اور کانگریسیوں کا سیکولرزم تو اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنڈت نہرو نے 350 سال قدیم مسجدجسے یادگار میں شامل ہونا چاہئے تھا اسے مقفل کرایا۔پھر اس مقفل مسجد کا قفل اندرا گاندھی نے پوجا کے لئے کھلوایا اور راجیو گاندھی نے رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔باقی جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ نرسمہا راؤ نے مسجد کو شہید کروا کر پوری کیا۔یہ ہے کانگریسیوں کا اصل چہرہ جسے سیکولرزم کے لبادے میں چھپانے کی حتی الامکان کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے۔لیکن حقیقت ان لبادوں سے چھپ نہیں سکتی۔لاکھ کوششوں کے باوجود ایک روز اجاگر ہو کر ہی رہتی ہے۔
آج جب کانگریس مکت بھارت کی بات بی جے پی کرتی ہے تو کانگریسیوں کو بہت برا معلوم ہوتا ہے لیکن ماضی میں اسی کانگریس نے کمیونسٹ مکت بھارت کا خواب دیکھا تھا ۔ کمیونسٹوں کو بھی تو برا لگا ہوگا ۔کیا اس کے متعلق کانگریسیوں نے کبھی سوچنے کی زحمت گوارہ کی۔کل تک فرقہ وارانہ فسادات یا مسلمانو پر آر ایس ایس کے سیوکوں کے ذریعہ ڈھائے گئے مظالم پر بغلیں بجانے والی کانگریس کو اب ہوش آرہا ہے جب آر ایس ایس کا ہاتھ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے گریبان تک پہنچ چکا ہے۔اگر کانگریس واقعی انصاف پسند اور سیکولر مزاج کی ہوتی تو شاید آج یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتے۔جہاں تک کذب گوئی اور دھوکا دہی کا سوال ہے تو کیا اس معاملے میں بھی کبھی کانگریسیوں نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔زرا ایماندارانہ طور پر وہ یہ بتانے کی زحمت گوارہ کرےگی کہ منموہن سنگھ جی جو دس سالوں تک برسر اقتدار رہے وہ کس بنیاد پر رہے۔
گجرات مسلم نسل کشی کے بعد کانگریس نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم برسر اقتدار آئے تو گجرات فساد کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔خاص طور پر نریندر مودی کو سلاخوں کے پیچھے ضرور بالضرور ڈالیں گے۔ کانگریس برسر اقتدار ائی۔مسلمانان ہند کاروائی کا انتظار کرتے رہے اور کانگریسی اقتدار سے لطف اندوز ہوتے رہے۔اگر کانگریس اس وقت اپنا وعدہ ایفا کرتی تو آج بی جے پی والوں کا ہاتھ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے گریبان تک نہیں پہنچتا۔کانگریس کے پاس تو اب خود احتسابی کا وقت بھی نہیں ہے۔یہ اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ دور دور تک کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے ہیں۔
�����������
نئی سرائے،بہار شریف۔نالندہ
benamgilani@gmail.com

 

About the author

Taasir Newspaper