Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

مجرموں کی رہائی پر بلقیس بانوکو سخت صدمہ کہا،20 سال پرانا صدمہ مجھ پر پھر قہر بن کر ٹوٹ گیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Aug

احمد آباد، 18اگست : بلقیس بانو معاملہ میں گجرات حکومت کی طرف سے 11 قصورواروں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر بلقیس بانو نے کہا کہ جب میں نے سنا کہ 15 اگست 2022 کو ان 11 مجرموں کے رہا کیا جا رہا ہے، جنہوں نے میری پوری زندگی تباہ کر دی تو 20 پرانا صدمہ مجھ پر پھر قہر بن کر ٹوٹا۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے پورے خاندان کو ختم کیا۔ میری 3 سالہ بیٹی مجھ سے چھین لی، وہ سب رہا کر دئے گئے ہیں اور آزاد گھوم رہے ہیں، یہ سننے کے بعد میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں، کیا ایک عورت کو انصاف دیئے گئے انصاف کا یہی اختتام ہے؟ میں نے اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پر یقین رکھا۔ میں آہستہ آہستہ اپنے صدمے کے ساتھ جینا سیکھ رہی تھی، لیکن ان 11 مجرموں کی رہائی نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا ہے اور نظام عدل پر میرا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔بلقیس بانو نے کہا کہ میرا دکھ اور یہ متزلزل اعتماد اپنے لئے ہی نہیں،بلکہ ان تمام خواتین کے لئے ہے، جو انصاف کے لیے عدالتوں میں لڑ رہی ہیں۔ ان مجرموں کی رہائی کے اتنے بڑے اور غیر منصفانہ فیصلے سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔ میری حفاظت اور میری باز آبادکاری کے بارے میں نہیں سوچا۔انہوں نے مزید کہاکہ میں گجرات حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس نقصان دہ فیصلے کو واپس لے اور پرامن طریقے سے، بے خوف ہوکر جینے کا میرا حق واپس کرے۔ میری اور میرے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔یہ بیان بلقیس بانو کی جانب سے ایڈوکیٹ شوبھا نے جاری کیا ہے۔قبل ازیں، بلقیس کے شوہر یعقوب نے کہا کہ گھر کا ماحول بہت خراب ہے۔ اس فیصلے سے ہم سب دکھی ہیں۔ ہم پہلے ہی خوف کے سائے میں جی رہے تھے لیکن اب مجرموں کی جیل سے رہائی کے بعد خوف مزید بڑھ گیا ہے۔ خیال رہے کہ 27 فروری 2002 کو گجرات کے گودھرا اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس کا کوچ جلا دیا گیا تھا، جس واقعہ میں 59 کار سیوکوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد گجرات میں بدترین مسلم کش فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ فسادات سے بچنے کے لیے بلقیس بانو اپنی بیٹی اور خاندان کے ساتھ گاؤں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔3 مارچ 2002 کو 20-30 کے مذہبی ہجوم نے تلواروں اور لاٹھیوں سے اس مقام پر حملہ کیا جہاں بلقیس بانو اور ان کے اہل خانہ چھپے ہوئے تھے، ہجوم نے بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ بلقیس اس وقت 5 ماہ کی حاملہ تھیں۔ یہی نہیں ان کے خاندان کے 7 افراد کو بھی قتل کر دیا گیا، باقی 6 ارکان وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

About the author

Taasir Newspaper