Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

مغربی ملکوں میں خواتین کے حقوق کا جائزہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Aug

اسلام نے عورت کو ایسا وقار عطا کیا ہے جو دنیا آج تک عورت کو نہ دے سکی لیکن اسلام دشمن قوتوں نے اس کے خلاف ایک ایسا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے مسلمان عورتوں کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اسلام نے ان پر پابندیاں لگا دی ہیں، حالانکہ بات ہرگز ایسی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی کئی پڑھی لکھی خواتین بیٹیاں بھی غلط فہمی کا شکار ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ شاید ہمیں ہمارے جائز حقوق نہیں دئے گئے۔ دیکھنے میں پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے، جبکہ غیر مسلم معاشرے میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی ہیں، تو آپ سوچئے کہ اس کا فائدہ جہاں مردوں کو ہے، وہاں عورتوں کو بھی ہے کہ ہماری ازدواجی زندگی پرسکون ہوتی ہے۔ ہم خوشیوں بھری زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز کی بے شمار ماڈرن خواتین جو امریکہ اور یورپ کو آئیڈیل سمجھتی ہیں، آج ان خواتین کی روشن خیالی کی وجہ سے ان کے خاندان رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن بچوں کے ساتھ جس مخلوق پر یورپ نے سب سے بڑا ظلم کیا ہے، وہ عورت ہے۔ ایک امریکی اخبار کی سروے رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ساٹھ فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں پہلا جنسی تجربہ باپ یا بھائی سے حاصل ہوا۔ امریکہ میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ہر چوتھی عورت کو اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ سے زد و کوب ہونا پڑتا ہے اور بعض اوقات پٹائی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ عورتیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ چنانچہ امریکہ میں ایسی عورتوں کی تعداد چار کروڑ سے بھی زائد ہے جن کو بے دردی سے پیٹا گیا ہے۔ امریکہ میں ہر سال بارہ ہزار بیویاں شوہروں کے ہاتھون قتل ہوجاتی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ قتل کی سزا زیادہ سے زیادہ چھ سال ہوتی ہے لیکن مسلسل ظلم و ستم سے تنگ آکر کوئی عورت مرد کو قتل کر دے تو عورت ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے سالہا سال تک جیلوں میں سڑتی رہتی ہے۔ نیشنل سنٹر ٹیکس اور نیشنل ہائنٹل ٹیکس سسٹم نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ میں ہر سال دس سے چوبیس سال کی عمر میں ۹۳۱۶۷۰ لڑکیاں شادی سے پہلے مائیں بن جاتی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پندرہ سے انیس سال کی عمر میں دو لاکھ اور بیس سے چوبیس سال کی عمر میں چار لاکھ بیاسی ہزار لڑکیاں بن بیاہی مائیں بن گئی ہیں۔ شدید ذہنی صدمات کے نتیجے میں امریکہ میں کم از کم ستر ہزرا عورتیں ہر سال حرکت قلب بند ہوجانے سے یا دماغ کی رگ پھٹ جانے سے مر جاتی ہیں۔
امریکہ اور یورپ کے اکثر ملکوں میں خاندانی زندگی تباہ و برباد ہوچکی ہے۔ برطانیہ میں بیس ہزار افراد سے بات چیت کرکے بی بی سی نے جو جائزہ مرتب کیا اس کے مطابق وہاں ایک چوتھائی گھرانوں میں روایتی کنبے رہتے ہیں یعنی میاں بیوی اور بچے۔ دو تہائی بغیر شادی اکٹھے رہتے ہیں یا تنہا زندگی گزارتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں شادی شدہ گھرانوں میں بھی طلاقوں کی بھرمار ہے اور حکومت جو اخراجات برداشت کرتی ہے، وہ ۳۵ ملین پاؤنڈ سالانہ ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ معصوم بچے متاثر ہورہے ہیں جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سالانہ ہے، لیکن ایک اندازے کے مطابق اگلے چند برسوں میں تین ملین مرد و زن طلاق کے تجربے سے گزریں گے جن کے نتیجہ میں ڈیڑھ ملین یعنی پندرہ لاکھ بچے متاثر ہوں گے۔ سوچئے، وہاں کیا صورت حال ہوگی؟
عورتوں کی آزادی، احترام، اور مرد و زن کی مساوات کی دعویدار یورپی اقوام نے عورت کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک روا رکھا ہے اس کی یہ ایک تصویر ہے۔

About the author

Taasir Newspaper