ملک بھر سے

مہاٹھگ سکیش چندر شیکھر سے چنئی میں درج ایف آئی آر پر دہلی میں کریں پوچھ گچھ : سپریم کورٹ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 5th Aug

نئی دہلی،05اگست: مہاٹھگ سکیش چندر شیکھر سے چنئی میں درج ایف آئی آر پر دہلی میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ یہ حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ سکیش وہاں جانے کے بجائے مشینری دہلی آکر پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔ بنچ ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سکیش کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اسے وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔ درخواست میں ہدایت کی گئی تھی کہ انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہونے دیا جائے۔ یہ درخواست سوکیش کی جانب سے تہاڑ جیل سے منتقل کیے جانے کی درخواست میں دائر کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان پر فی الحال انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان الزامات کے تحت مقدمہ چلا رہا ہے۔ ای ڈی نے اس کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں چنئی میں ایکسمندر کے سامنے عالی شان بنگلہ، 82.5 لاکھ روپے نقد اور ایک درجن سے زیادہ لگژری کاریں ضبط کی ہیں۔سپریم کورٹ مہاٹھگ سکیش چندر شیکھر اور ان کی اہلیہ کو تہاڑ جیل سے منتقل کرنے کی عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے سکیش سے ان لوگوں کی فہرست بنانے کو کہا تھا جنہوں نے اس کے لیے جیل حکام کو 12.5 کروڑ روپے دیے تھے۔ سکیش سے ان جیل افسران کی فہرست دینے کو بھی کہا گیا ہے جنہیں یہ رقم دی گئی تھی۔ دس دن میں فہرست دینے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد سکیش نے یہ فہرست مہر بند کور میں دی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس یو یو للت نے کہا تھا کہ ہم معاملے کی جڑ تک جائیں گے۔ سکیش جیل سے ہی کرائم سنڈیکیٹ چلاتا رہا۔ اس نے یہ ساڑھے 12 کروڑ روپے رشوت کے طور پر دیے یا جیل میں اس سے غیر قانونی ریکوری تھی۔ یہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ مرکز نے تہاڑ جیل کے جیلر سے کہا تھا کہ وہ سکیش کی حفاظت کا خیال رکھیں۔سپریم کورٹ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جیل کا عملہ دھوکہ دہی کے اس ریکیٹ میں سکیش کے پے رول پر کام کرتا رہا اور جانچ ایجنسی کو اس ریاکٹ کا پتہ لگانے میں دو سال سے زیادہ کا وقت لگا۔ عدالت میں سکیش کے وکیل نے کہا کہ اس کے برعکس ان کے موکل سکیش سے 12.5 کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی ہوئی ہے۔ عدالت نے سیدھا سوال کیا کہ آپ اپنی اہلیہ سمیت جیل میں تھے پھر آپ سے اتنی بڑی رقم کا دھوکہ کس نے اور کیسے کیا؟ اس پر سکیش کے وکیل نے کہا کہ میں ان لوگوں کے ذریعے پیسے بھیجتا تھا جو ملاقات کے وقت آتے تھے۔ عدالت میں جسٹس یو یو للت نے پوچھا کہ کیا آپ میٹنگ کے بہانے اپنا مجرمانہ سنڈیکیٹ چلا رہے ہیں؟ عدالت نے سکیش کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کو ان لوگوں کے نام بتائیں جن کے ذریعے یہ سودا ہوا اور کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔ مہاٹھگ سکیش چندر شیکھر اور ان کی اہلیہ کو تہاڑ جیل سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper