Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

یونیورسٹی داخلہ ٹیسٹ میں ایک بار پھر تکنیکی خرابی، 13 مراکز پر امتحان منسوخ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Aug

نئی دہلی، 18 اگست :کامن یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ انڈرگریجویٹ (CUET UG 2022 فیز 4) کے امتحان میں بھی امیدواروں کو تکنیکی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی این ٹی اے نے گڑبڑی کی وجہ سے کئی مراکز پر امتحان منسوخ کر دیئے ہیں۔ سی یو ای ٹی 2022 کا چوتھا مرحلہ 17 اگست سے شروع ہوا تھا، جس میں 13 امتحانی مراکز پر شفٹ 1 اور شفٹ 2 کے امتحانات منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔کل 1,45,885 امیدواروں میں سے 8,693 امیدوار متاثر ہوئے ہیں۔ نیز، جن امیدواروں کا امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے، انہیں ان کے امتحان کی نئی تاریخ کے بارے میں مطلع کر دیا جائے گا۔ منسوخ شدہ امتحانات اب 25 اگست 2022 کو منعقد کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلے میں ایک تفصیلی نوٹس آفیشل ویب سائٹ پر بھی جاری کی گئی ہے۔سی یو ای ٹی فیز 4 ملک بھر کے 245 شہروں میں 455 امتحانی مراکز پر منعقد کیے جا رہے ہیں اور نوساری، ایٹا نگر، بارپیتا، نلباری، ارریہ، آرا، بیگوسرائے، بیتیا، بھبوا، بکسر، جموں، سمستی پور، بلاس پور، دیوگھر، کارگل، لیہ، مورینا، بہرام پور، بھدرک، جاج پور، جھارسوگوڑا، سمبل پور، سری گنگا نگر، بلیا، بستی، چندولی، غازی پور، مئو، سون بھدر، سری نگر (اتراکھنڈ) میں بھی امتحان منعقد کیے جا رہے ہیں۔امتحان میں شریک ہونے والے کئی طلباء نے بتایا کہ انہیں تکنیکی خرابیوں اور سرور کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے امتحانی مرکز سے واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے علاوہ کچھ طلباء نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے امتحانات مقررہ وقت سے کم از کم 2 گھنٹے بعد شروع ہوئے۔خیال رہے کہ سی یو ای ٹی انڈر گریجوایٹ 2022 فیز 4، 20 اگست تک جاری رہیں گے۔ سی یو ای ٹی فیز 5 امتحان کے ایڈمٹ کارڈ 19 اگست کو جاری کیے جانے کی امید ہے۔ منسوخ شدہ امتحان کی نئی تاریخوں اور فیز 5 ایڈمٹ کارڈ کے بارے میں کوئی بھی اپ ڈیٹ حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کو سرکاری ویب سائٹ پر نظر رکھنی چاہیے۔

About the author

Taasir Newspaper