Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل

اسلامی تعلیمات : مسلمانوں کا غیر مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ کیسا ہو؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 29th Sept.

 

 

 

محمد سروش عنبر، پٹنہ

سوشل میڈیا کے دور میں ،ٹی آر پی پر مبنی میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جا نے والے منفی مواد منٹوں میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب کچرے کے ڈھیر سے آلودہ ہونے کے بعد انسان لاشعوری طور پر َنفرت پھیلانے والوں کے ذریعہ آگے کہی گئی کہانیوںسے متاثر ہو جاتا ہے۔ ان دنوں، بہت سے لوگ ،انفرادی یا تنظیمی طور پر ،مضمر مقاصد کی تکمیل کے لئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی یہ کوششیں بعض اوقات کامیاب بھی ہو جاتی ہیں، جیسا کہ کرناٹک کےضلع جنوبی کنڑ میں حالیہ قتل و غارت گری اور کیرالہ میں وقفے وقفے سے ہونے والی ہلاکتوں سے واضح ہوتا ہے۔ ظاہرہے اس طرح کی حرکتیں اکثر ایسے لوگ ہی کرتے ہیں، جنہیں ان کے مذہب کے بارے میں بہت کم یا کوئی علم نہیں ہوتا ہے۔
ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ ہونا چاہئے، یہ تمام مذاہب کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔اور اسلامی تعلیمات میں تو مختلف زاویوں سے اس موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ ایک مسلمان کے برتاؤ کے بارے میں اسلام کانقطۂ نظر بالکل صاٖ ف ہے۔ایک مرتبہ نجران (یمن کی سرحد سے متصل سعودی عرب کا ایک شہر) سے 60 با شوکت عیسائیوں پر مشتمل ایک وفد، جن میں 14 اپنے اپنے قبیلے کے سردار بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی غرض سے مدینہ آیا۔ آپ ﷺ اس وقت مسجد نبوی میں تھے۔ عصر کی نماز سے فارغ ہوکر وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ محمد ﷺ نے وفد میں شامل تمام لوگوں سے گرمجوشی کے ساتھ ملاقات کی اور ان کی خاطر خواہ میزبانی بھی کی۔ جب وفد میں شامل عیسائیوں کی نماز کا وقت آ گیا توحضور ﷺکی اجازت سے انھوں نے مشرق کی جانب رخ کرکے مسجد نبوی میں ہی نماز ادا کی۔
اسلام نے معاشرتی معاملات میں ہمیشہ کشادہ لی کا مظاہرہ کیا ہے۔اپنے والدین کے ساتھ ، اپنی بیوی یا شوہر اور بال بچوں کے ساتھ ، اپنے رشتہ داروں ، تعلق داروںاور پڑوسیوںکے ساتھ خوشگوارمراسم بحال رکھنے، ان کے سکھ دکھ میں شریک رہنے، ایک دوسرے کو تحفہ تحائف دینے لینے، ایک دوسرے کی دعوت قبول کرنے ،ایفائے عہد کرنے، انھیں دھوکہ نہیں دینے، ان کے جان و مال کی حفاظت کرنے، بیمار پڑنے پر ان کی عیادت کرنے، انتقال کرنے پر پس ماندگان کے ساتھ اظہار تعزیت کرنے ،حتی الامکان اپنی ذات سے انھیں نفع پہنچانے کی کوشش کرنے اور ان کی سلامتی کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنے کی تاکید کی ہے۔ اپنے خاص رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی یا دیگر تعلق دار خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے کیوں نہ ہوں ،ان کے ساتھ حسن سلوک روا رکھنا تمام مسلمانوں کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔اس کے لئے حضور ﷺ کی زندگی کو غور سے دیکھنے ، سمجھنے اور ان کے نقوش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں ہم جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، معاملات کرتے ہیں، ان کے ساتھ خوشگوار تعلق کا تقاضا ہے کہ ان کی خوشی اور غم دونوں میں شریک رہا جائے۔ رسول اللہ ﷺاس کا خاص خیال رکھتے تھے۔اگر کوئی غیر مسلم بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ ایک یہودی نوجوان جو آپ کے ساتھ آمد و رفت رکھتا تھا اور محبت کے ساتھ آپ کی خدمت بھی کیا کرتا تھا ، بیمار پڑ گیا تو آپ نے اس کی عیادت فرمائی (بخاری، حدیث نمبر: 5657) غیر مسلم اہل تعلق کی آخری رسومات میں بھی آپ نے شرکت فرمائی ہے۔ آپؐ کی انھی تعلیمات کا اثر تھا کہ آپؐ کے رفقاء بھی اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے جنازہ میں شریک ہوا کرتے تھے ۔آقاﷺنے عمومی طورپر غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کی تعلیم دی ہے ، اس کی روشنی میں شریعت اسلامی کے شارحین نے غیر مسلم بھائیوں کی تعزیت کرنے کی تلقین ہے ۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ مریضوں کی عیادت کیا کرو ، جو مریض کی عیادت کرتا ہے ، وہ گویا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں رہتا ہے (مسلم، حدیث نمبر: 2568) اس ہدایت میں آپ نے مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں کیا ، عیادت کا یہ حکم تمام مریضوں کے لئے ہے ، اسی طرح آپ ﷺنے مصیبت زدہ لوگوں کی دلداری اور ان کی خبر گیری کی تلقین فرمائی۔(ترمذی، حدیث نمبر: 1073) یہاں بھی آپؐ نے پرسہ دینے اور اظہار تعزیت کرنے میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق نہیں رکھا۔
اخلاقی نقطۂ نظر سے جو احکام آپ ﷺنے دیئے ہیں ، وہ عام ہیں اور اس میں مسلمان وغیر مسلم دونوں شامل ہیں ، مثلاًوعدہ پورا کرنا دونوں حالتوں میں لازم ہے۔اسی طرح وعدہ خلافی خواہ مسلمان سےکی جائے یا غیر مسلم سے، دونوں حالتوں میں گناہ ہے۔اسی طرح سماجی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کے اظہار کے لئے کھانے پینے کی دعوت دینا اور دعوت قبول کرنا، مسلمان کے معاملے میں جس طرح ضروری ہے اسی طرح غیر مسلم کے معاملے میں بھی لازمی ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی غیر مسلم حضرات کو مدعو کیا کرتے تھے ، جب آپ ﷺ اللہ کے نبی بنائے گئے تو آپؐ نے بنو ہاشم کو کھانے پر مدعو کیا اور تمام لوگوں کو جمع فرمایا ، ان کی تعداد تیس نقل کی گئی ہے ، کھانا کھلانے کےبعد آپ ﷺنے ان کے سامنے اسلام کا تعارف پیش فرمایا۔ (البدایہ والنہایہ:3/40) اسی طرح آپ ﷺنے مہمان نوازی کی ترغیب دی ہے اور مہمانوں کا اکرام کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ، اس میں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ ﷺکے پاس اکثر مختلف قبائل کے سردار اور وفود آیا کرتے تھے۔آ پ ﷺ بڑی خوش دلی کے ساتھ ان کی ضیافت فرمایا کرتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو لوگ قید کئے گئے ؛ حالاںکہ وہ حملہ آور تھے ؛ لیکن آپؐ نے اپنے رفقاء کو ترغیب دی کہ ان کے کھانے پینے کا بہتر انتظام کریں ؛ اسی لئے بہت سے صحابہ خود معمولی کھانا کھا کر ان کو بہتر کھانا کھلایا کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد:6؍115، حدیث نمبر: 10007)
اسی طرح مسلمان جس معاشرے میں رہتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی شناخت کی حفاظت کے ساتھ اس سماج کا لازمی حصہ بن کر رہے۔ ایسا کرنے سے ہی صحتمند معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان ہوں یا غیر مسلم جب کبھی ان سے ملاقات ہے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سلامتی کی دعا کے لئے مقرر جملہ ’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہہ ۔‘‘ ضرور ادا کرنا چاہئے۔یہاںبھی مسلمان اور غیر مسلمان کی کوئی قید نہیں ہے۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو کہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور کدورتیں دُور ہوتی ہیں ، (معجم کبیر للطبرانی:25 ؍ 162، حدیث نمبر:313 عن اُم حکیم) اس میں بھی آپ ﷺنے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کسی طرح کی کوئی تفریق نہیں کی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ اہل مکہ نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ؛ لیکن جب مکہ میں قحط پڑا ، یہاں تک کہ لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے تو آپؐ نے مکہ کے قحط زدہ غیر مسلموں کے لئے پانچ سو دینار بھیجے ؛ حالاںکہ اس وقت مدینہ کے مسلمان خود سخت مالی مشکلات سے دوچار تھے ، پانچ سو دینار کی قدر کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بیس دینار ساڑھے ستاسی گرام سونے کے برابر ہوتا تھا۔آپ ﷺنے یہ رقم سردارانِ قریش ابوسفیان اور صفوان ابن اُمیہ کو بھیجی تھی تا کہ وہ اس رقم کو ضرورتمندوں کے درمیان تقسیم کردیں (ردالمحتار: 3/302 باب المصرف)
الغرض اسلام نے ہمیشہ اس مثال کو برقرار رکھا ہے کہ دین میں کوئی مداخلت اور جبر نہیں ہونا چاہیے۔بھارت کے آئین نے بھی ملک کے تمام شہریوں کو پرامن طریقے سے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم ایک دوسرے کے مذاہب کو بدنام کرنا اور دوسروں پر اپنے مذہب کی پیروی کے لیے دباؤ ڈالنا نہ صرف قانون کے مطابق غیر قانونی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی ناقابل قبول ہے۔ مسلمان ایک ایسی عظیم ہستی (حضور ﷺ) کے پیروکار ہیں، جنہوں نے مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں کبھی تفریق نہیں کی۔ مسلمان ایک ایسے مذہب (اسلام) کے پیروکار ہیں ،جس نےسماج کے نظام کو بہتر ڈھنگ سے چلانےکے لئےبظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی نظر دوڑائی ہے۔ ایسے میں وطن عزیز بھارت کے تمام شہریوں ،خواہ ان کامذہب کچھ بھی ہو، ایک بہتر اور صحتمند سماج کی تشکیل کے کام میں ذات پات اور مذہب کی سطح سے اوپر اٹھ کر، پیش پیش رہنا چاہئے۔ معروف اسلامی اسکالر اور جماعت اسلامی، ہندکے سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام نے ایک بار کہا تھا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جانا، ایک دوسرےکےدکھ سکھ میں شریک ہونا فطری امر ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ بلا شبہہ ایسی خوبیوں سے عاری کوئی بھی معاشرہ مہذب نہیں کہلا سکتا ہے۔
**********
saroshamberdream@gmail.com
*******************************

 

About the author

Taasir Newspaper