Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل ملک بھر سے

بہار میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل اور فوری حل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 21st Sept

 

 

 

 

محمد ابصار عالم
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبئہ معاشیات
سی ۔ ایم ۔کالج۔ دربھنگہ

بہار کی اعلیٰ تعلیم اور اسکے میعار پر گفتگو کی جائے تو ہمیں صاف طور پر نظر آتا ہے کہ یہ روز بہ روز تنزلی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستانی ریاستوں میں صوبہ بہار زمانہ قدیم سے اعلیٰ تعلیم کا ممتاز مرکز رہا ہے۔ اب افسوس کا مقام ہے کہ جس صوبےمیں دنیا کے مختلف خطوں سے تشنگان علم میعاری تعلیم کے لئے آیا کرتے تھے اور اس کے علمی سر چشمے سے فیضیاب ہوتے تھے اس صوبےکو اعلیٰ تعلیم کے میعار میں مسلسل گراوٹ سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت اس مسئلہ پر مسلسل غور کرتی رہی ہے پھر بھی اس میں اصلاح ’دلی ہنوز دور است‘ کےمصداق ہے۔موجودہ حالت یہ ہے کہ آل انڈیا ہائر ایجوکیشن سروے رپورٹ 2019-20 کے مطابق، بہار میں 35 یونیورسٹیاں/اعلیٰ تعلیمی ادارے (ایچ ای آئیز) ہیں۔ ان میں سے 17 ریاستی مالی امداد سے چلنے والی یونیورسٹیاں/ادارے ہیں، 4 یونیورسٹیاں اور 5 قومی اہمیت کے ادارے مرکزی مالی امداد سے چل رہے ہیں اور باقی 8 یونیورسٹیاں/ادارے نجی فنڈ سے چلنے والے ریاستی سطح کے ادارے ہیں جبکہ ایک ادارہ ریاستی فنڈ سے چلنے والی اوپن یونیورسٹی ہے۔ تمام 17 ریاستی امداد والی یونیورسٹیاں 874 کالجوں پر مشتمل ہیں جن میں سے لوکل باڈی/ الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 560 سے زیادہ ہے۔ کچھ یونیورسٹیوں کو حال ہی میں وجود میں لایا گیا جو ایک اہم قدم ہے لیکن کالجوں کی تعداد میں کو ئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ بلکہ پرانی یونیورسیٹیوں کو ہی بانٹا گیا جس سے شاید انتظامی معاملات میں آسانی پیدا ہوجائے۔ حکومت نے یہ پالیسی تو بنائی ہے کہ ہر سب ڈویژن میں ایک سرکاری کالج ہوگا اور اس پر عمل بھی ہو رہا ہے لیکن معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اس کی رفتار دھیمی ہے۔ ایسا لگتا ہے سرکاری فنڈ سے چلنے والے کالجوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔
یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ اداروں کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر، حکومت ریاست میں اعلیٰ تعلیم کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ آل انڈیا ہائر ایجوکیشن سروے رپورٹ2019-20 کے مطابق، بہار میں فی لاکھ اعلیٰ تعلیمی اہل آبادی کے لیے 7 کالج تھے۔ یہ موجودہ بنیادی ڈھانچے پر طلباء کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2006-07 میں اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد 5,39,738 تھی جبکہ 2019-20 میں یہ بڑھ کر 17,38,432 ہوگئی- اس عرصے کے دوران اعلیٰ تعلیم کی طلب میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافے کے مقابلے میں، کالجوں کی تعداد میں معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 2006-07 میں 800 کالج سے بڑھ کر 20-2019 میں یہ تعداد 874 ہو گئی۔
اعلیٰ تعلیم کی موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالنے پر چند اہم رجحانات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ریاست میں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی میں حکومت کی طرف سے اختیار کردہ نقطہ نظر مقداری (Quantitative) ہے نہ کہ میعاری (Qualitative) یعنی فی الوقت ہدف مجموعی اندراج کے تناسب (جی ای آر) کو بڑھانا ہے، جبکہ ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے درکار بنیادی نرم اور سخت انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر شاید ہی کوئی دباؤ ہو۔ دوسرا اعلیٰ تعلیم کے شعبے کا ڈیزائن ہے جو ایک ہب اور اسپوک ماڈل(Hub and Spoke) کی پیروی کرتا ہے۔ تمام یونیورسٹیوں کا ایک انتظامی ہیڈ کوارٹر متعلقہ ضلع ہیڈکوارٹر میں واقع ہے جس میں الحاق شدہ کالج اپنے ہیڈ کوارٹر سے کافی فاصلے پر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف انتظامی اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ کچھ یونیورسیٹیاں تو ایسی ہیں جن کا دائرۃ کار پورا صوبہ ہے جیسے سنسکرت یونیورسیٹی اور مولانا مظہرالحق عربی اور فارسی یونیورسیٹی ۔ تیسرا مختلف کورسز میں داخلہ میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ کالج میں کسی مضمون کو پڑھانے کے لیے محدود یا کوئی اساتذہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے آنرز کے پرچے میں سٹریم اور کلاسز کے لحاظ سے انٹیک 200 سے 300 تک ہوتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے ذریعہ فاصلاتی انداز میں تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی موجودگی ہے جن میں بھیڑ ہے اور محدود تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے ساتھ انتہائی ناقص انفراسٹرکچر ہے۔ جہاں باقاعدہ تعلیم فراہم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، معاون عملے اور سہولتوں کی کمی ہے، وہیں بہار میں فاصلاتی انداز میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے معاونت اور مہارت کا بھی فقدان ہے۔مندرجہ بالا پہلوؤں کے علاوہ، حکومت نے سال 2012 میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منظور شدہ تدریسی پوسٹ کو بھی کم کردیا۔ یہ قدم اس وقت طالب علموں کی تعداد میں کمی کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔ اس مشق میں حکومت نے صوبے کے سبھی اداروں سے تدریسی پوسٹ کی تعداد 11809 سے کم کر کے 10008 کر دیا ۔ حالانکہ حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر طلباء کے اندراج کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے مطابق ان پوسٹوں کو واپس کر دیا جائیگا۔صورت حال یہ ہے کہ داخلہ لینے والے طلباء میں کئی گنا اضافہ ہوا،لیکن تدریسی عملے کی پوسٹیں کم ہی رہیں۔نتیجتاً بہت سے ادارے تعلیم تو فراہم کر رہے ہیں لیکن وہاں مختلف مضامین کی تعلیم دینے والے مناسب تعداد میں اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اندراج میں کئی گنا اضافہ ہو نے کی وجہ سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کلاس روم اور اساتذہ کی تعداد ط طلباء کے تعداد کے موافق نہیں ہے۔ طلباء داخلہ لیتے ہیں اور بغیر کسی کلاس میں شرکت کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ کافی تشویشناک ہے اور یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اساتذہ کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کلاس روم اور لیباریٹری مہیا ہو جس سے تعلیم اور تربیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بڑھانے کا عمل مشکل ہے اس لئے وقت آگیا ہے کہ منصوبہ بندی کی جائے تاکہ قلیل اور طویل مدتوں میں اس پر عمل کیا جاسکے ۔ اس کےلئے ریاستی حکومت کو نئی پالیسیوں اور طریقوں کو اپناتے ہوئے اعلیٰ تعلیم پر پوری توجہ دینی ہوگی۔ اس طرح کی پہلی اور اہم ترین پالیسی یہ ہونی چاہئے کہ صوبے کے اداروں میں تمام منظور شدہ تدریسی پوسٹ کو پھر سے بحال کر اسے پُر کیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں اس سمت متعدد کوششیں کی گئی ہیں خاص طور سے بہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن کی تشکیل کے بعد اس کام کی تکمیل کے ہدف کو مقررہ وقت میں آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مزید حکومت کو کسی مضمون میں طلباء کے اندراج کی تعداد کو دیکھتے ہوئے منظور شدہ تدریسی پوسٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے کے طریقوں اور امکانات کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ادارے اساتذہ اور طالب علم کے تناسب میں آسانی سے توازن برقرار رکھ سکیں۔
دوسرا اقدام موجودہ بنیادی ڈھانچے کے استعمال کو بہتر بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ سہولیات کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک ریاستی حکومت کی طرف سے مالی اعانت(Constituent) سے چلنے والے کالجوں/ دیگر اعلی اداروں میں صبح اور شام کے کورسز کی فراہمی ہے۔ اس سے اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی طلب کے بوجھ کو کم کرنے اور اس کے معیار کو بھی بہتر کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت کو نئے اداروں کی ترقی کے لیے اضافی مالی بوجھ اٹھانے میں کئی رکاوٹیں بھی ہیں۔ لہذا، ایک ہی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ صبح اور شام دونوں کالجوں کو چلانا معیاری تعلیم کو بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔تیسرا قدم جو حکومت کو اٹھانا چاہیے وہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم کے نصاب کو قومی سطح کے اداروں کے ساتھ مربوط کرے اور اپنی یونیورسٹیوں میں جلد از جلدسی بی سی ایس نظام کی پیروی کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹی اور کالج دونوں سطحوں پر مختلف کورسز کے لیے انٹیک کو معقول بنائے جس سے بنیادی طور پر اساتذہ اور طلبہ کے تناسب کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اساتذہ کی تعدادکو مدنظر رکھے بغیر مختلف کورسز میں طلباء کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ کیا جاتا ہے جو ایک صحیح عمل نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو تدریسی عملے کی تعداد اور فزیکل انفراسٹرکچر کی دستیابی کی بنیاد پر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز میں مناسب انٹیک کا تعین کرنا چاہیے۔آخر میں، الحاق شدہ/لوکل باڈی کالجوں یا اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے نجی کالجوں کو چلانے میں اصلاحات سے متعلق اقدامات ہیں۔ 560 سے زائد کالج ایسے ہیں جنہیں حکومت کی طرف سے مالی اعانت فراہم نہیں کی جاتی ہے اور کچھ مالی امداد ہوتی بھی ہے تو اداروں کو چلانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ لیکن یہ کالج ان تمام اصولوں اور پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں جن کی پیروی سرکاری مالی امداد سے چلنے والے ادارے کرتے ہیں ۔ ان اداروں کو مالی طور پر خودمختار ہونا چاہئے۔
حکومت کو بہار میں اعلیٰ تعلیم کی حالت سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ حکومت مندرجہ بالا تجاویز پر غور کر سکتی ہے اور چند اداروں میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ان تجاویزوں پر عمل شروع کر سکتی ہے تاکہ وہ اس طرح کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا تجزیہ کر سکیں اور ان کی نشاندہی کر سکیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے مناسب قدم نہیں اٹھائے گئے تو بہار معیاری تعلیم کے معاملے میں اپنی بنیاد کھوتا رہے گا اور آنے والے دنوں میں تباہی کا سامنا کرے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت، بہار میں معیاری تعلیم کی بہتری کے حوالے سے تجاویز پر توجہ دے جو بالآخر پائیدار ترقی کے حاصل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

About the author

Taasir Newspaper