Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

’ حجاب پہننے کا حق نہیں چھینا جا سکتا‘

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19th Sept

حجاب پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جاری ہے۔کل یعنی سموار کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس ہیمنت گپتا کی سربراہی والی بنچ میں درخواست گزار کے وکیل دشینت دوے نے جو دلیلیں دیں وہ نہ صرف زور دار ہیں بلکہ قابل ذکر بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو ہم کسی سے حجاب پہننے کا حق نہیں چھین سکتے۔ یہ معاملہ صرف یونیفارم کا نہیں ہے۔ ہم کسی ملٹری اسکول کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں اور یہ معاملہ ملٹری اسکول سے متعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہم کسی نازی اسکول کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔بھارت ایک عظیم ثقافتی ملک ہے۔ یہاں کا ورثہ بہت اچھا اور قدیم ہے۔ ہمیں5ہزارسال پرانا ورثہ ملا ہے۔ ہم نے بہت سے مذاہب کو اپنایا۔ مورخین بتاتے ہیں کہ جہاں سے لوگ بھارت آئے وہ سب یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ سب نے بھارت کو اپنا لیا۔ ہندو مت، جین مت، بدھ مت سبھی بھارت میں پیدا ہوئے۔ یہاں اسلام آیا اور وہ بھی قبول ہوا۔بھارت یہ ایک لبرل ملک ہے۔بھارت کے تنوع میں اتحاد ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اکبر کے دور میں ملک نے ترقی کی۔ ہمارا آئین صاف صاف باتیں کرتا ہے۔ آرٹیکل 21 زندگی اور آزادی کے بارے میں بات کرتا ہے۔ جبکہ آرٹیکل 19 اظہار رائے کے بارے میں بات کرتا ہے۔ اب ملک میں لو جہاد جیسے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ پھرتنوع میں اتحاد کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر کسی ہندو کو مسلمان سے شادی کرنے کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت لینی پڑے تو پھر اتحاد کیا ہے؟ جبکہ ملک میں بی جے پی کے دو لیڈر ایسے ہیں، جنہوں نے ایک ہندو سے شادی کی ہے۔ اکبر نے بھی ایک راجپوت سے شادی کی تھی اور اس نے اپنی بیوی کو ایشور کی پوجا کی اجازت دی تھی۔ آئین صرف کرپان کی بات کرتا ہے لیکن پگڑی سب پہنتے ہیں۔ حجاب پہننے سے کسی کے جذبات کو ٹھیس کیسے پہنچ سکتی ہے ،جب کہ یہ کسی خاص کمیونٹی میں رائج ہے۔ آج کل سردار پٹیل کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ جبکہ پٹیل بہت سیکولر انسان تھے۔ انہوں نے دستور ساز اسمبلی کی بحث میں کہا تھا کہ اگر اقلیتیں اکثریت کے ساتھ پورے اعتماد کے ساتھ رہیں تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ عدالت کا ایک ہی مذہب ہے، وہ ہے ملک کا آئین ۔ہندو کے لیے گیتا اور مسلمان کے لیے قرآن ہو سکتا ہے، لیکن آئین کے بغیر ہم کہیں نہیں ہیں۔ ملک کی اقلیی آبادی ایک دھماکہ خیزشے ہے اور اگر یہ پھٹتی ہے تو سماجی تانا بانا بکھر جائے گاْ۔ اسلامی ممالک کو دیکھ لیں، 10 ہزار سے زیادہ قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں، لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہوتا اس کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں بھی روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔بھارت کی اقلیتی آبادی بھارت کے آئین کو اپنا اصول مانتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل دشینت دوےنے دستور ساز اسمبلی میں کرشنماچاری کی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے عیسائی اسکول میں تعلیم حاصل کی لیکن کبھی بھی انہیں اپنا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے بچوں نے وہیں سے تعلیم حاصل کی ،لیکن ان سے کبھی نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے ساتھ بائبل لے جائیں۔ ہم ایسی لبرل سوچ سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی محبت کرتا ہے اور شادی کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ کوئی تلک لگاتا ہے، کوئی کراس پہنتا ہے، یہ ایک سماجی خوبصورتی ہے۔ خواتین صدیوں سے حجاب پہنتی آرہی ہیں۔ ملائیشیا، امریکہ جیسے جدید ممالک میں خواتین حجاب پہنتی ہیں۔ جیسا کہ اگر کوئی سکھ پگڑی پہنتا ہے اور یہ اس کے لیے اہم ہے تو خواتین کے لیے حجاب بھی ضروری ہے اور اس میں کیا حرج ہے۔کیا حجاب پہننا ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے خطرہ ہے؟ کرناٹک حکومت نے حجاب پر پابندی کے لیے ایک سرکلر جاری کرکے قانون بنایا ہے، اسے آئین کے آرٹیکل 13 کے تحت جانچا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ سرکلر آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ آرٹیکل 13 کے تحت یہ شق ہے کہ اگر ملک کا کوئی قانون آئین کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غیر آئینی ہوگا۔ کمیونٹی کا عقیدہ ہو یاکسی شخص ، وہ اپنے مذہب کی پیروی کرتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنےفیصلے میں کہا ہے کہ مذہبی مقام پر مذہب کی پیروی کی جائے گی، یہ پابندی کی طرح ہے۔ ہائی کورٹ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آئینی اخلاقیات اور آئینی فلسفہ کیا ہے؟ بنیادی حقوق ہر جگہ برقرار ہیں ،چاہے وہ بیڈروم ہو یا کلاس روم۔ جسٹس گپتا کے اس تبصرہ پر کہ قابل احترام جگہ پر سر ڈھانپنے کی روایت ہے، دشینت دوےنے یہ دلیل پیش کی کہ کلاس روم بھی ایک قابل احترام جگہ ہے۔ پی ایم کو ہی دیکھ لیں، ہر اہم موقع پر عوام کے احترام میں سر پر پگڑی باندھتے ہیں۔ اگر مسلمان خواتین یہ سوچتی اور سمجھتی ہیں کہ حجاب ان کے مذہب کا حصہ ہے تو اس میں کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ کوئی باہری اتھاریٹی یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ یہ چیز دین کے لیے ضروری ہے یا نہیں؟ ہمیں پسند ہو یا نہ، ہم کسی سے اس کے حجاب پہننے کے حق کو نہیںچھین سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں آج بھی سماعت جاری رہے گی۔

About the author

Taasir Newspaper