Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل ملک بھر سے

ذکرِخیرحضرت شیخ محمدادریس چشتی ابوالعُلائی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 20th Sept

 

 

 

 

 

ریَّان ابوالعُلائی،
خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،شاہ ٹولی،داناپور

حضرت شیخ محمدادریس چشتی ابوالعُلائی جامع علوم وفنون،پاکیزہ اخلاق،ستودہ صفات اورزاہدانہ افعال سےمتصف تھے،چودھویں صدی ہجری میںآپ ہی کی ذات بابرکات سےارریہ میںخداشناسی کی انجمن کورونق اورادعیات ووظائف کوعظمت حاصل تھی،بڑےشب بیدار، عابدوزاہد،عاجزنواز،بےیاروںکےیار،کمزوروںکےقوتِ بازواورسخی بزرگ تھے۔
آپ کی پیدائش بختیارپور(پٹنہ) سےدس کوس دکھن کی طرف کوئلانواںگاؤںمیںہوئی،والدکانام شیخ اصغرعلی تھا،کم سِنی میںوالدۂ ماجدہ داغِ مفارقت دےگئیں اس لئےآپ اپنےوالدکےبےحدعزیزتھے،پدربزرگوارکی آپ پرشفقت وعنایت خوب رہی،پندرہ برس کی عمر میںآپ پرصدق دلی کااثرہونےلگا،خاموش طبیعت اورپاکیزہ صحبت نےآپ پرتصوف کےرنگ کوظاہرکیا،ابھی عمرتشنہ تھی کہ حضرت مخدوم بیابانی کےمزارپُرانوارپرحاضری اورجاروب کشی کرتےرہے،رفتہ رفتہ دل لگنےلگا،کام عشق کاہوتاگیا، چسپیدگی بڑھنےلگی اوریہ روزمرہ کامعمول ساہوگیا۔ (تذکرۃ الابرار،ص؍۷۱)
حضرت شاہ ظفرسجادابوالعُلائی رقمطرازہیںکہ
ایک روزعام رویہ میںآپ کوایسامعلوم ہواکہ حضرت مخدوم بیابانی کےمزاراقدس پرحاضرہواہوںدفعۃً ایک سفید پوش بزرگ مزارسےمتجلیٰ ہوکرمعانقہ سےمشرف کیاجب بیدارہوئےتوآنکھیںاشک بارتھیں،ایک وجدانی کیفیت طاری ہوئی،اسی دوران میںآپ کےوالدسےملاقات کوایک مولوی صاحب عظیم آبادسےتشریف لائےجوان کےوالدکےملاقاتی تھے،مولوی صاحب کی اصرارپران کےہمراہ آپ حصولِ تعلیم کےلئےعظیم آبادنکل پڑے،ان کےہمراہ خانقاہوںکی روحانی وعرفانی مجالس میںشریک ہونےلگے،حسن اتفاق سےیہ صورت پیش آئی کہ آپ کواپنےاستادمحترم کی محبت میںبسلسلۂ تقریب ایک دیہی علاقہ میںجانےکا اتفاق ہوا،حضرت مخدوم سجادپاک بھی وہاں رونق افروزتھے،میزبان نےحفظ ومراتب کاخیال کرتےہوئےمخدوم سجادپاک کے واسطےمسندبچھوائی مگرآپ نےحُکماًمسنداُٹھوادی اورارشادفرمایاکہ
’’ مجھ کومیری نظرمیںدیگربرادرانِ طریقت پرکوئی وجہ افضل نہیں معلوم ہوتی‘‘
)تذکرۃ الابرار،ص؍۷۳)
اس کسرنفسی اورسادگی کےادائےدلکش نےآپ کادل موہ لیا،کچھ روزبعدآپ مخدوم سجادپاک کی خانقاہ میںتمنائےشوق زیارت حاضرہوئےاورایسےوالہانہ اندازمیںقدم بوس ہوئےکہ صحیح معنوںمیںپھران قدموںسےتادم آخر جدانہ ہوئے،بیعت کےطالب ہوئےتوارشادہواکہ ابھی وقت نہیںآیاہے،تعلیم کاسلسلہ زوروںپرچلنےلگاچنانچہ ایک مرتبہ حجرہ میں طلب فرماکرطریقت کےشرف سےمشرف فرماکراجازت وخلافت سپردکردی۔
خود فرماتے ہیںکہ
عمر بارہ سےہواہےتعلیم آپ سے دن بدن کہلاتاگیاسب بات حقانی
یاںہوگیاجب حال مجھ کوجذب کی ہواتب بیعت حضرت سجادقطبِ لاثانی
(دیوانِ سیرداؔ،ص؍۹۵)
تعجب خیزامرہےکہ ایک جگہ حضرت شاہ اکبرؔداناپوری نےآپ کو سلسلۂ ابوالعُلائیہ کامریدبتلایاہےتودوسری طرف حضرت شاہ ظفرسجادابوالعُلائی نےسلسلۂ چشتیہ کامریدلکھاہےمگراس میںکوئی دورائے نہیں کہ آپ کی تعلیم سلسلۂ ابوالعُلائیہ کےنصاب پرہوئی۔
کچھ عرصہ بعدمخدوم سجادپاک رحلت فرماگئےتوعرصۂ درازتک آستانہ مخدوم سجادپاک کی جاروب کشی کیاکرتے،ایک دن عالمِ رویہ میں مخدوم نےارشادفرمایاکہ
’’یہاںپڑےرہنےسےبہترہےکہ مخلوقِ خداکوفائدہ پہنچاؤ‘‘
(تذکرۃ الابرار،ص؍۶۷)
مخدوم کےحکم پرآپ خداکا نام لےکرتبلیغ وارشادکے سلسلےمیںنکل پڑے،چلتےچلاتےراجگیرپہنچےتویہ خیال کرکےبسترلگادیاکہ اب زندگی کےباقی دن یہیںگزراجائےمگر چندمہینوںکےقیام کےبعدپھرحکم ہواکہ آگےبڑھو!اپنی منزل تلاش کرو،دشت بدشت اورمنزل بمنزل پھرتےپھراتے،خداکی عبادت کرتےہوئےبہارکےشمالی علاقےمیںپہنچے،وہاںکی بودوباش اختیارکی،جہاں بندگانِ خدانےآپ کی بڑی خدمت کی مگر دل اس بات پرراضی نہ تھاکہ یہاں قیام کیاجائےاس لئےپھرزادِراہ لےکرسفرپرروانہ ہوئےاور ارریہ میںگڑھ بنیلی کےقریب دوگچھی میںوارد ہوئےاوراس جگہ کوپسندکیا،یہ مقام آپ کے لئے دل کش اوردل پسندہوا،بیشتربندےآپ سےتعلیم وتربیت اورارشادحاصل کرنےلگے،مسجد،حجرہ اورتالاب وغیرہ کی بنیادرکھی گئی مگراشاعتِ دین نےآپ کوکُمہیامیںقیام کرایا،کُمہیامیںعالی شان مسجد،عیدگاہ، تالاب کی بنیادڈالی گئی،سیکڑوںخلقِ خداآپ کی جانب متوجہ ہوئےاورفیضانِ علم وعمل سےفیضیاب ہوئے،مریدین ومعتقدین کی طرح مجازومسترشدین کی تعدادبھی خوب ہوئی، چندکےنام یہاں درج کئےجاتے ہیں۔
شیخ عبدالغفارچشتی،شیخ نورمحمدچشتی،شیخ گوہرعلی چشتی،شیخ انظارعلی ابوالعُلائی،شاہ عبدالرحمٰن ابوالعُلائی،شیخ دلاورعلی چشتی،شیخ یعقوب علی چشتی،شیخ واحدعلی،شیخ انظارعلی چشتی،شیخ عبدالصمدچشتی،شیخ عبدالرحمٰن چشتی،شیخ اصاب علی چشتی،شیخ امام علی چشتی،شیخ قطب الدین چشتی۔ (تذکرۃ الابرار،ص؍۸۹)
شیخ محمدادریس چشتی شروع سےصوفی مزاج تھے،اپنااکثروقت ذکروفکرمیںلگایاکرتے،والدماجدکی سعی پیہم پرآپ نےنکاح کیاجس سےایک دخترتولدہوئیںجن سےایک بھانجہ محمداسحاق ہوا۔
آپ کی نظرمیںکیمائےاثراوربات میں قبولیت کی تاثیرتھی،سیکڑوںنامرادآپ کی دعاسےاپنی مرادکوپہنچے،بہت سےلوگوں نےآ پ کےہدایت وارشادسےکمالات اورحالات کامزہ پایا،سیکڑوںمایوس العلاج مریض آپ کی کوڑیوںکی طبی دوااوردعاسےصحتیاب ہوتے،جانناچاہیئےکہ علمِ طب کی تعلیم آپ نے کلکتہ سے حاصل کی تھی اوراورادووظائف کی اجازت اپنےپیرکےعلاوہ حضرت شاہ عزیزالدین حسین منعمی،حضرت شاہ محمدکبیرابوالعُلائی اورحضرت عبدالقادریمنی وغیرہ سےبھی ملی۔ (تذکرۃ الابرار،ص؍۸۱)
حضرت شاہ اکبرؔداناپوری رقمطرازہیںکہ
’’مولوی صاحب کوبیعت طریقۂ ابوالعُلائیہ میںحضرت والدماجدمؤلف سےہےاورشرفِ اجازت سےبھی مشرف ہوئےہیں،بڑےمحنتی اورکمال فروتن،مسکین، کم سِنی،صبح سےشام تک اورشام سےصبح تک چہرےکارنگ اثرکیفیت سےمتغیرہوتارہتاہے،شورش کےوقت جذب کی حالت رہاکرتی ہے،تھوڑے زمانےسےکلکتہ کےاطراف میںمصروفِ تعلیم اشغالِ باطن ہیں‘‘ (نذرمحبوب،ص؍۴۱)
حضرت شاہ اکبرؔداناپوری نےآپ کو’’سعیدازلی‘‘سےلکھاہےجبکہ حضرت شاہ ظفرسجادابوالعُلائی نے’’قدوۃ العارفین،اسوۃ السالکین‘‘سےیادکیاہےاس کے علاوہ ’’قطبِ مسکین،شمس العارفین،رہبرِسالکین‘‘اور’’عاشقِ مولیٰ‘‘جیسےالقاب کابھی ذکرملتاہے۔
بےشمارتصرفات وکرامات آپ کی ذات سےنمودارہوئی ہیںچوںکہ اختصارملحوظ ہےاس لئے بہت مختصرلکھ رہاہوں،آپ کی چندکتابیںمقبول ہیں،مجموعات گنجِ عرفان، دافع المہمات،وظائف العارفین اوردیوان سیرداؔ،ان سب کاقلمی نسخہ خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،داناپورکےکتب خانہ میں محفوظ ہے۔
مجموعات گنجِ عرفان:۱۲۰؍ارشادات پرمشتمل تصوف کےحوالےسےبڑی قیمتی اورمعلوماتی کتاب ہے،اس میں تصوف کی بنیادی اصول سےلےکرہرچھوٹےبڑےپہلوںپرتھوڑابہت تفصیل موجودہےجگہ بزرگوںکےکلام اورحدیث کی عبارت سےمضمون کی خوبصورتی بڑھ گئی ہے،اسےآپ نےمریدین ومعتقدین بالخصوص اپنےبھانجہ محمداسحٰق کےلئےمرتب کیاہے،۲۰۲؍صفحات پرمشتمل یہ کتاب مطبع قیومی(کان پور)سےطبع ہوئی۔ دیوانِ سیردا:۱۴۳؍صفحات پرمشتمل یہ دیوان اردواورہندوی کلام کامجموعہ ہے،حضرت ادریس کواس فن میں حضرت شاہ اکبرؔداناپوری سے شاگردی کافخرحاصل تھا،سیرداتخلص کرتےجوان کےنام ادریس کاالٹ ہے،اس کی طباعت مطبع قیومی(کان پور)سےہوئی، راقم کی نظرمیں دیوان کےعلاوہ چندایک غزل گلدستۂ بہارمیںبھی طبع ہوئی ہےاس کے علاوہ بعض غیرمطبوعہ کلام خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،داناپورکےکتب خانہ محفوظ ہے۔ وظائف العارفین:اس کاموضع اورادووظائف ہے،درمیان میںحضرت سیّدناامیرابوالعُلاکارسالہ ’’فناوبقا‘‘کااردوترجمہ بھی شامل ہے،یہ کتاب مطبع قیومی(کان پور)سےطبع ہوئی،اسی موضوع پر دوسری کتاب دافع المہمات ہے۔
وصال بعارضۂ تپ۱۰؍ جمادی الثانی پنجشنبہ بوقت عشا ۱۳۵۱ھ موافق۱۱؍ اکتوبر۱۹۳۲ء کوکُمہیامیںہوااوروہیںآپ کاآستانہ حاجت روائے خلق ہے۔ )تذکرۃ الابرار،ص؍۸۲)
بقاکسی کونہیں اس جہانِ فانی میں رہےگا
ہم میںسےکیاکوئی جب نبی نہ رہے؟
(سیرداؔ)
رابطہ: 7301242285

About the author

Taasir Newspaper